غیر منظم زمرہ معیشت کو سنبھالا دے سکتا ہے

Updated: January 11, 2021, 11:37 AM IST | Editorial

ملک کے غیر تعلیم یافتہ افراد، کم تعلیم یافتہ افراد اور ان کے ساتھ ہی غیر ہنر مند اور معمولی ہنر رکھنے والے افراد کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر عام مشاہدہ ہے کہ ایسے لوگ فراموش کردیئے جاتے ہیں۔

Migrant Worker - Pic : INN
مہاجر مزدور ۔ تصویر : آئی این این

 ملک کے غیر تعلیم یافتہ افراد، کم تعلیم یافتہ افراد اور ان کے ساتھ ہی غیر ہنر مند اور معمولی ہنر رکھنے والے افراد کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر عام مشاہدہ ہے کہ ایسے لوگ فراموش کردیئے جاتے ہیں۔ان کے روزگار کی فکر کوئی نہیں کرتا۔ انہیں خود اپنے ذرائع ِ آمدنی کی جستجو میں سرگرداں رہنا پڑتا ہے۔ کبھی تو اُنہیں کوئی مناسب کام مل جاتا ہے اور کبھی نہیں ملتا۔ یہی لوگ مالی طور پر کمزور طبقے کا حصہ بنتے ہیں۔ جب غربت و افلاس کے مارے لوگوں کو شمار کیا جاتا ہے اور شمار کنندگان اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ملک میں غربت زیادہ ہے تو اس کے حل کیلئے پہلے خیال کے طور پر یہ بات کبھی ذہن میں نہیں آتی کہ انہیں روزگار فراہم کرکے اپنے پیروں پر کھڑا کردیا جائے۔ 
 سماج کے ان طبقات کو اگر حکومت خودہنر اور روزگار فراہم نہیں کرسکتی تو کم از کم اُس وسیع تر شعبے کی فکر کرلینی چاہئے جو اِن کی داد رسی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ ہے معیشت کا غیر منظم زمرہ (اَن آرگنائزڈ سیکٹر)۔ حکومت کو اس زمرہ کی فکر ہوتی تو نوٹ بندی جیسا سم قاتل ثابت ہونے والا قدم کبھی نہ اُٹھایا جاتا جس کی ضربِ کاری سے، سب سے زیادہ یہی زمرہ متاثر ہوا۔حکومت اس زمرہ کو اس لئے نہیں مانتی کہ یہ بہت بکھرا ہوا ہے، یہاں فرم یا کارخانہ کو رجسٹرنہیں کروایا جاتا، حساب کتاب نہیں رکھا جاتا (یا اس ضمن میں صرف خانہ پُری ہوتی ہے)، اس کا حصہ بننے والے لوگوں کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا، یہ لوگ تجارتی قوانین اور ضابطوں کی پاسداری نہیں کرتے (یا کم کم کرتے ہیں)، بل لینے اور بل دینے پر بھی ان کا اتنا یقین نہیں ہے، ٹیکس ادا نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ بلاشبہ یہ خامیاں ہیں اور اِن کا دور کیا جانا ضروری ہے مگر کون کرے گا؟ غیر منظم زمرہ کے لوگ خود تو اس جانب توجہ نہیں دے سکتے، البتہ حکومت چاہے تو اس زمرہ کو مرحلہ وار طریقے سے منظم کرنے کی کوشش کرسکتی ہے جس کی شروعات بڑے شہروں کے کارخانوں اور صنعت گاہوں سے ہو۔ اگر یہ زمرہ پوری طرح منظم نہیں ہوسکتا تو نیم منظم (سیمی آرگنائزڈ) تو یقیناً ہوسکتا ہے۔ بلکہ سچ پوچھئے تو ان میں کئی کارخانے اس وقت بھی نیم منظم ہیں۔ ان پر بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
 اس سلسلے میں خیال پیش کیا جاسکتا ہے کہ یہ زمرہ منظم زمرہ میں تبدیل ہونے کیلئے آمادہ نہیں ہوگا۔ یہ خیال درست ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے منظم ہونے کا نقصان تو نظر آتا ہے، فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت چاہے تو انہیں اعتماد میں لینے کیلئے ایسی اسکیموں کا اعلان کرسکتی ہے جن کے ذریعہ ان کا ڈر اور عدم تحفظ کا احساس ختم ہو اور اس کی جگہ اعتماد پیدا ہو۔ 
 یہ کیوں ضروری ہے؟ اس لئے کہ یہ زمرہ معیشت کا اہم ستون ہے۔ ۲۰۱۶ء کے لیبر مارکیٹ اَپ ڈیٹ میں انٹرنیشنل لیبر یونین نے کہا تھا کہ ہندوستان میں ۸۲؍ فیصد ورک فورس اسی غیر منظم زمرہ سے جڑا ہوا ہے یعنی کام کرنے والے لوگوں کی اکثریت اسی زمرے میں ہے۔ اسی لئے ہم نے ابتدائی سطور میں کہا کہ اگر حکومت غرباء کی فکر نہیں کرسکتی تو اسے اُن تجارتی اداروں کی سرپرستی بہرحال کرنی چاہئے جو ملک کی غریب آبادی کو اتنی بڑی تعداد میں روزگار فراہم کرتے ہیں۔ اِس وقت حکومت کے سامنے معیشت کے احیاء کا بڑا چیلنج ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے دو قدم پیچھے ہٹانے اور اس سیکٹر کی جانب دو قدم بڑھانے سے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ حکومت اس کا عزم تو کرے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK