اُردو ، ہماری کئی صدیوں کی تہذیبی کمائی ہے

Updated: March 01, 2020, 3:02 PM IST | Gopi Chand Narang

اردو کو محض اردو کہنا یا ایک زبان کہنا، اسے آٹھویں شیڈول کی درجہ بندی تک محدود رکھنا، اردو کے ساتھ بے انصافی ہی نہیں پوری ہندوستانی تہذیب ، باہمی میل ملاپ اور نئے ہندوستان اور اس کی تعمیر کے خوابوں اور امنگوں اور امیدوں اور ولولوں کی توہین بھی ہے

اُردو ، ہماری کئی صدیوں کی تہذیبی کمائی ہے ۔ تصویر : آئی این این
اُردو ، ہماری کئی صدیوں کی تہذیبی کمائی ہے ۔ تصویر : آئی این این

اپنی زبان کس کو پیاری نہیں لگتی۔ اس بارے میں طرفداری برحق، لیکن ’سخن فہمی‘ بھی ضروری ہے۔ اردو کی زلف گرہ گیر کے ہم سب اسیر ہیں۔ اردو کے حسن و خوبی کا تذکرہ کون نہیں کرتا۔ اس کے لطف و اثر اور شیرینی اور دل نشینی کی کشش کون محسوس نہیں کرتا۔ کون نہیں جانتا کہ اردو ہندوستان کی بلکہ اس برصغیر کی یا جنوبی ایشیا کی ایسی زبان ہے جس میں اخذ و قبول کا حیرت انگیز ملکہ ہے اور جس کا دامن طرح طرح کے پھولوں سے بھرا ہے ، جس کی جادو اثری میں ’شکوۂ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نطقِ اعرابی‘ تینوں کا ہاتھ ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اردو نے ہند آریائی کا دودھ پیا ہے اور اسی دھرتی پر پلی بڑھی ہے۔ کون نہیں جانتا جب نئی تاریخی حقیقتیں ابھرتی ہیں تو نئےسماجی تقاضے پیدا ہوتے ہیں اور نئی سچائیاں وجود میں آتی ہیں۔ اردو ایسی ہی ایک سچائی ہے، لسانی ، سماجی اور تہذیبی سچائی جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے صدیوں کے سابقے اور اختلاط و ارتباط  سے وجود میں آئی۔ اُس وقت اس کا کوئی نام نہیں تھا۔ کوئی بھی سچائی جب جنم لیتی ہے ، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ سچائیوں کو نام تو اس وقت ملتا ہے جب وہ خانہ زاد ہوجاتی ہیں۔ پراکرتوں کی دھرتی سے جب  نیا اکھوا  پھوٹا اور اس میں عربی، فارسی اور ترکی کے اثرات کا پیوند لگا تو اس کا کوئی بھی نام نہیں تھا، ہند یعنی ہندوستان کی ہر چیز ’ہندی‘ تھی، فارسی یائے نسبتی کے ساتھ، اس طرح ہر زبان ہندی تھی۔ امیرخسرو نے اسے ہندوی بھی کہا اور دہلوی بھی۔ اسی زمانے میں جب راگ رنگ کی محفلوں میں اس کے نغمے سماں باندھنے لگے ، تو اسے ریختہ بھی کہا گیا۔ دکن اور گجرات پہنچی تو دکنی اور گجری کہلائی، پھر کسی نے اردو کہا، کسی نے ہندی، کسی نے کھڑی۔ بنیاد وہی ایک، راہیں الگ الگ ہوگئیں۔ نام سے کیا ہوتا ہے، لیکن  یہاں نام ہی سے فاصلے بڑھے اور دوریاں ہوتی گئیں۔ اس امر کے تسلیم کرنےمیں شاید ہی کسی کو تامل ہو کہ اردو زبان ہماری پچھلی کئی صدیوں کی تہذیبی کمائی ہے۔ ایسی کمائی جس سے کوئی انصاف پسند نظریں نہیں چرا سکتا۔ تاریخ کے سیل میں جب تہذیبیں بہہ جاتی ہیں اور نسلیں پگھل جاتی ہیں، جب چہرے کے نقوش، لباس، پہناوا، رہن سہن، طور طریقے نئی شادابیوں سے ہمکنار ہوتے ہیں، جب گل و بلبل کا رشتہ نئی رنگینیوں کی خبر دیتا ہے، جب کوئل کوکتی اور آم کے پیڑوں پر بور آتا ہے، جب دلوں کے دروازے وا ہوتے ہیں، فصل کے فاصلے دھل جاتے ہیں اور وصل کے در کھلتے ہیں، ایسے میں زبان قوموں اور نسلوں کے دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے اور محبت و یگانگت کے رشتے استوار ہوتے ہیں۔ تاریخ کے ایسے لمحوں میں جب تہذیب کی ہوا میں شراب کی تاثیر اور لطافت  اور رس پیدا ہوجاتا ہے تو مختلف فرقوں، گروہوں اور طبقوں میں ربط پیدا کرنے، ترسیل کے عمل کو تیز کرنے، محبت کے دو بول سنانے اور قلب و روح کو سرشار کرنے کے لئے کوئی اردو زبان پیدا ہوتی ہے۔ اردو کو محض اردو کہنا، اسے محض ایک زبان کہنا، اسے آٹھویں شیڈول کی درجہ بندی تک محدود رکھنا، اردو کے ساتھ بے انصافی ہی نہیں پوری ہندوستانی تہذیب، ایک ہزاروں برسوں کی تاریخ، باہمی میل ملاپ اور نئے ہندوستان اور اس کی تعمیر کے خوابوں اور امنگوں اور امیدوں اور ولولوں کی توہین بھی ہے۔ اردو محض زبان نہیں، ایک طرزِ زندگی، ایک اسلوبِ زیست بھی ہے اور مشترکہ تہذیب کا وہ ہاتھ بھی جس نے ہمیں گھڑا، بنایا اور سنوارا ہے اور وہ شکل دی ہے جسے ہم آج اپنی پہچان کی ایک منزل سمجھتے ہیں۔ 
 اردو کی انسان دوستی کے پیچھے صدیوں کا جو فشار ہے اسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK