اُردو زبان و تہذیب اور ہمارا رویہ

Updated: October 09, 2020, 12:00 PM IST | Shamim Tariq

جس زبان کو فروغ دینے کی غرض سے قائم کئے گئے ادارے اس زبان کا گلا گھونٹ رہے ہوں، جس زبان کی درسی کتابوں میں غلطیوں کی بھرمار ہو اور جس زبان کے ادبی منظر نامے میں دھول اور دھواں ہی رہ گیا ہو تو اس زبان کی زندگی کی ضمانت کب تک دی جاسکتی ہے؟ اس کیلئے تنہا حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا دیدہ دلیری ہے۔

School Students - Pic : INN
طلبہ ۔ تصویر : آئی این این

نئی تعلیمی پالیسی میں دیسی زبانوں، آرٹس یعنی فنون لطیفہ اور ملکی تہذیب کو فروغ دینے پر بہت اصرار کیا گیا ہے مگر اسی تعلیمی پالیسی کے اس مسودے سے جو ویب سائٹ پر موجود ہے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں ہماری عدم توجہی کے سبب ۲۲۰؍ زبانیں ختم ہوچکی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق اب بھی ۱۹۷؍ زبانوں کا وجود خطرے میں ہے خاص طور سے وہ زبانیں جو صرف بولی جاتی ہیں جن کا رسم الخط نہیں ہے وہ ختم ہوسکتی ہیں۔ یہی نہیں ان زبانوں کو بھی جو دستور ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل ہیں اور عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے شدید خطروں اور آزمائشوں سے گزرنا پڑ رہا ہے۔
 ابھی تک یہ ہوتا تھا کہ زبان بولنے والے حکومت سے شکایت کرتے تھے مگر اب تو حکومت خود شکایت کررہی ہے اور صرف ان زبانوں یا بولیوں کے بارے میں نہیں جو رسم الخط سے محروم ہیں بلکہ اس کا کہنا ہے کہ دستور ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل زبانیں بھی خطرات سے دوچار ہیں۔ اُردو تو آزادی کے بعد سے ہی آزمائشوں سے دوچار ہے اب دوسری زبانوں کا حال بھی اچھا نہیں ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۷۱ء میں مہاراشٹر میں ایسے لوگوں کی شرح ۷۶؍ فیصد تھی جو مراٹھی زبان کو اپنی مادری زبان بتاتے تھے، یہاں زبان کے نام پر تحریکیں چلیں، مراٹھی کو لازمی بنایا گیا، ایسے قانون بنائے گئے جن کے مطابق صرف وہی شخص سرکاری ملازمت حاصل کرسکتا ہے جو مراٹھی جانتا ہو اس کے باوجود ۲۰۱۱ء کی مرد شماری میں مراٹھی کو مادری زبان لکھوانے والوں کی شرح ۷۶ ؍ فیصد سے کم ہوکر ۶۹؍ فیصد ہوگئی۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کی سرپرستی اور پالیسی زبانوں کے فروغ میں مدد تو دیتی ہے مگر تنہا حکومت کی سرپرستی اور امداد کے سبب کوئی زبان اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اس تفصیل کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے اور بہ اصرار کہا بھی جانا چاہئے کہ آزادی کے بعد مہاراشٹر میں یا عمومی حیثیت میں پورے ملک میں اُردو زندہ رہ گئی تو اس لئے کہ اس زبان کو بولنے اور عام کرنے کی کوشش کرنے والوں کی بڑی تعداد اب بھی موجود ہے اور اگر یہ زبان اپنے معیار اور بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے کمزور ہوتی جارہی ہے تو اس لئے کہ اُردو بولنے والوں میں بیشتر نے سمجھ رکھا ہے کہ صرف حکومت کو الزام دینے سے یہ جی جائے گی۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ جب ۳؍ اکتوبر کو یہ جائزہ لینے کے لئے ممبئی میں ایک ویبینار منعقد کیا گیا کہ مہاراشٹر کے اُردو اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کا معیار کیا ہے تو اس میں شروع میں ۱۷۰؍ افراد شریک ہوئے اور پھر ان کی تعداد کم ہوتی گئی۔ اگر صرف پرائمری سے یونیورسٹی تک کے وہ اساتذہ اس ویبینار میں شریک ہوجاتے جو اُردو یا اُردو میں کوئی دوسرا مضمون پڑھاتے ہیں تو شرکا کی تعداد تیس پینتیس ہزار ہوتی۔
 اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ درسی کتابوں کے جائزے سے انہیں بھی دلچسپی نہیں ہے اُردو نے جن کو روزگار کے ساتھ باوقار منصب بھی عطا کیا ہے۔ پروفیسر شفیع شیخ نے صدارتی تقریر میں اور ان کے ساتھ دوسرے مقررین نے ایسی باتیں بتائیں کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ مجھے یقین ہے کہ اس ویبینار میں وہ لوگ بھی شریک نہیں رہے ہوں گے جو نصاب یا درسی کتابوں کو تیار کرنے والی کمیٹیوں میں شامل ہیں۔ پروفیسر شفیع شیخ نے بتایا کہ ایک سے دسویں تک کی درسی کتابوں کا انہوں نے تجزیہ کیا اور ان میں ۵۰۰؍ غلطیاں نظر آئیں تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ بعد میں کچھ لوگوں سے باتیں ہوئیں تو ہر شخص دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتا نظر آیا۔
 اقلیتی تعلیمی اداروں میں تو یہ مجبوری نہیں ہونا چاہئے۔ یہاں تو وزراء مداخلت نہیں کرتے مگر یہاں بھی یہی حال ہے اور وہ لوگ بہرحال اپنے لئے گنجائش پیدا کرلیتے ہیں جن کا زبان و ادب سے کوئی قابل ذکر تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے نہ صرف اچھے کاموں کو ملیا میٹ کردیا ہے بلکہ مستقبل کے امکانات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اُردو خوری کی یہ وبا اُردو والوں پر کیا قیامت ڈھائے گی؟ اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ درسی کتابیں تیار کرنے والے ادارے اور اقلیتی تعلیمی اداروں میں اُردو کا جو حال ہے اور جس طرح بہت سی خامیوں کی پردہ پوشی کی جاتی ہے وہ زندہ قوموں کا شیوہ نہیں ہے۔
 ہر زبان کے ساتھ ایک تہذیب مرجاتی ہے۔ اُردو تو نہ صرف کم سے کم خرچ میں ہمارے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے قابل بناتی ہے بلکہ پیدا ہونے سے مرنے تک ہر مرحلے پر اپنی شائستگی کا مظاہرہ کرنے کا سلیقہ بھی عطا کرتی ہے۔ اُردو زبان و ادب کا گلیمر آج بھی باقی ہے مگر جس طرح خود نمائی اور خوشامد کرکے اپنے لئے جگہ بنانے اور خود ستائی کرکے دوسروں کو جھانسا دینے کی وبا عام ہورہی ہے وہ کورونا کی ہلاکت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ جس زبان کو فروغ دینے کی غرض سے قائم کئے گئے ادارے اس زبان کا گلا گھونٹ رہے ہوں، جس زبان کی درسی کتابوں میں غلطیوں کی بھرمار ہو اور جس زبان کے ادبی منظر نامے میں دھول اور دھواں ہی رہ گیا ہو یا جس کے خوبصورت اسٹیج پر ایسے لوگ اچھل کود کررہے ہوں جو دنیا میں کچھ نہ کرسکے ہوں تو اس زبان کی زندگی کی ضمانت کب تک دی جاسکتی ہے؟ اس کے لئے تنہا حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا دیدہ دلیری ہے۔
 یہ وقت ہے اُردو کے مستقبل کے لئے فکر کرنے کا۔ حکومت تک اپنی بات پہنچائی تو جاسکتی ہے کہ اُردو کے فروغ کے لئے نہ تو وہ ادارے اچھا کام کررہے ہیں جو حکومت نے قائم کئے ہیں نہ وہ ادارے جو اقلیتوں نے اس لئے قائم کئے ہیں کہ اپنی زبان اور لسانی تشخص کی حفاظت کرسکیں۔ آنے والے دنوں میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق سلب بھی کئے جاسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو برا ہوگا مگر اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی! اگر تحریک چلانے اور غلطیوں یا غلط کارکردگی کے خلاف آواز اٹھانے سے حکومتی اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر ہونے کے ساتھ ان کا وجود برقرار رہ سکتا ہے تو ہم اُردو والوں کو ضرور آواز بلند کرنا چاہئے۔ جو لوگ جھوٹ بول کر اُردو خور اصحابِ اقتدار کی نظر میں اچھے بنے رہنے کے لئے ہاں میں ہاں ملاتے ہیں یا چپ رہ کر ضمیر کی آواز کو دبا رہے ہیں وہ اُردو اور اُردو تہذیب کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK