Inquilab Logo Happiest Places to Work

وے صورتیں الٰہی… امتیاز علی تاج کی ۵۶؍ ویں برسی (۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء) پر

Updated: April 19, 2026, 1:54 PM IST | Dr. Abdul Aziz Malik | Mumbai

۱۸۱۶ء اور اس کے آس پاس کے برسوں میں، بمبئی میں لگ بھگ ۱۹؍ تھیٹریکل کمپنیاں کام کر رہی تھیں جن میں سے بیشتر اردو ڈرامے اسٹیج کرتی تھیں۔

Imtiaz Ali Taj introduced new dimensions to Urdu drama. Photo: INN
امتیاز علی تاج نے اردو ڈرامہ نگاری کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ تصویر: آئی این این

۱۸۱۶ء اور اس کے آس پاس کے برسوں میں، بمبئی میں لگ بھگ ۱۹؍ تھیٹریکل کمپنیاں کام کر رہی تھیں جن میں سے بیشتر اردو ڈرامے اسٹیج کرتی تھیں۔ لکھنؤ، ڈھاکہ، بمبئی اور لاہور اردو ڈرامے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا  کررہے تھے۔ ابتداء میں اچھے شاعر اور ادیب تھیٹر سے وابستہ ہونا، کسر ِ شان خیال کرتے تھے لیکن پارسی تھیٹریکل کمپنیوں نے اس طرف خاص توجہ دی اور سنجیدہ شعرءا اور ادبا ءکو ڈراما نگاری کی جانب ملتفت کیا۔ ان میں احسن لکھنوی، میر عبدالطیف شاد، بیتاب بنارسی، سید علی عباس حسینی، مراد لکھنوی، آرام، رونق، حافظ محمد عبداللہ، مرزا نظیر بیگ، آغا حشر کاشمیری اور حکیم احمد شجاع کے نام نمایاں ہیں۔ انیسویں صدی میں جس جوش اور جذبے سے اُردو اسٹیج اور ڈراموں کا آغاز ہوا تھا بیسویں صدی کے اوائل میں اس میں کمی ہونے لگی اور اردو تھیٹر مائل بہ زوال ہو گیا۔ کچھ باشعور لوگوں نے اس میں اصلاح کی مساعی بھی کیں لیکن کوئی خاطر کامیابی حاصل نہ کر پائے، اس دور کے نمایاں ڈراما نگاروں میں منشی دوارکا پرشاد اُفق، منشی جوالا پرشاد برق، مرزا محمد ہادی رسوا اورپنڈت سدرشن کے نام خاص طور پر لئے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تخلیقی عمل میں ذَوق کو مرکزی اور وسیع اہمیت حاصل ہے

سید امتیاز علی تاج کا تعلق بھی بیسویں صدی کے نصف اوّل کے لکھاریوں میں سے ہے۔ انہیں ڈراما سے اس قدر شغف تھا کہ لاہور میں کوئی بھی تھیٹریکل کمپنی آتی تو تاج ڈراما دیکھنے لازماً جاتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شوق میں اضافہ ہوتا رہا اور انہوں نے اردو اور انگریزی ڈرامے کی روایت کا مطالعہ کیا۔ وہ مختلف تھیٹریکل کمپنیوں کے معائب و  محاسن پر غور کرتے اور اسکول اور کالج کے ڈراموں میں خود بھی حصہ لیتے، اس طرح تاج اسٹیج کے تقاضوں، Epic Theater اور Absurd Theater کے فرق کوبھی اچھی طرح سمجھتے تھے۔ انہوں نے انگریزی سے اردو تراجم کا سلسلہ بھی شروع کیا اور آسکر وائلڈ،گولڈ اسمتھ اور کرسٹین گیلرڈجیسے ادیبوں کی تخلیقات کو اُردو کے قالب میں ڈھالا۔ اسی دور میں انگریزی علوم اور مغربی فکر نے ہندوستانیوں کو متاثر کیا۔ سیاسی طور پر جس شدت سے ہندوستانی عوام انگریزوں سے متنفر ہو رہے تھے اسی شدت سے وہ تہذیبی، تعلیمی اورفکری اقدار کو اپنانے میں مصروفِ عمل تھے۔ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، ان تبدیلیوں نے فنونِ لطیفہ، زبان اور ادب پر بھی اثرات مرتسم کئے۔ اب ڈراما محض آمدنی کا ذریعہ نہ رہا بلکہ شوقیہ تھیٹر قائم ہوئے اور اسکولوں اور کالجوں میں ڈرامے کی سوسائٹیوں کا قیام ہونے لگا۔پرانے ڈرامے نئی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر تھے، لہٰذا ڈرامے جدید انداز میں لکھنے کا رواج ہوا۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی(صیدِ زبوں)، ڈاکٹر عابد حسین (پردۂ غفلت) اور سید امتیاز علی تاج  (انار کلی)نے اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے محض حسن و عشق کو موضوع نہیں بنایا بلکہ ابسن اور بریخت کے تتبع میں سماجی صورتِ حال کو بھی ڈراموں میں پیش کرنے کا جتن کیا۔

یہ بھی پڑھئے: جس معاشرے میں اَدب زندہ اور متحرک ہوتا ہے، وہ معاشرہ فکری جمود کا شکار نہیں ہوتا

سید امتیاز علی تاج ۱۳؍اکتوبر ۱۹۰۰ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید ممتاز علی اپنے دور کے نامور عالم اور ادیب تھے۔ ان کی خدمات کے صلے میں انہیں شمس العلماء کا خطاب دیا  گیا تھا۔ امتیاز علی کی والدہ محمدی بیگم بھی روشن خیال اور تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ اس طرح امتیاز علی تاج کو علمی اور ادبی ماحول ورثے میں ملا۔ آٹھ سال کی عمر میں تاج کی والدہ کا انتقال ہو گیا لیکن ان کے والد نے ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی اور ان کی پرورش بہتر انداز میں کی۔ امتیاز علی تاج نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل۔ ان کی شادی اپنے وقت کی نامور افسانہ نگار اور برصغیر کی پہلی پائلٹ خاتون حجاب اسماعیل سے ہوئی تھی۔ امتیاز علی کئی رسائل کے مدیر رہے، ان میں ”پھول“ اور ”کہکشاں“ نمایاں  ہیں۔ آل انڈیا ریڈیو میں ملازم ہوئے اور ریڈیو کیلئے کئی ڈرامے تحریر کئے۔ بعد  میں مجلسِ ترقی ادب لاہور کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ ان کے دور میں قدیم ڈراموں کی تدوین کا کام تیزی سے ہوا جو اُن کی ڈراما نگاری سے محبت اور لگن کا برملا ثبوت ہے۔ سید امتیاز علی تاج نے اپنا شاہ کارڈراما  ”انار کلی“ ۱۹۲۲ء میں تحریر کیا تھا جسے جدید اردو ڈراما نگاری کا نقش اوّل خیال کیا جاتا ہے۔ انہوں  نے بچوں کیلئے ایک جاسوسی سیریز انسپکٹر اشتیاق شروع کی، چچا چھکن ان کی مزاح نگاری کی عمدہ کتاب ہے۔ اس کے علاوہ لیلی یا محاصرۂ غرناطہ (مترجم ناول) اور ہیبت ناک افسانے بھی مشہور ہوئے۔ ان کے دیگر کامیاب ڈراموں میں  آخری رات، پرتھوی راج، گونگی، بازار حسن اور نکاح ثانی بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK