میری گفتگو ذوق کے متعلق ہے مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ ذوق ایک ایسی کیفیت ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ بتقریر در نہ آید… اس سے اور کچھ نہیں تو مسئلے کی مشکلات کا احساس تو ضرور ہوجاتا ہے، اور بڑی دقت یہ ہے کہ جس طرح ذوق کی حقیقت بعض دوسری اقدار کی طرح ناقابل ِ گرفت ہے اسی طرح فن خود بھی ایک مبہم سلسلہ عمل ہے۔
فنی تخلیق میں ذوق کا کیا مقام ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے تخلیق کے سلسلۂ عمل پر غور کرنا ہوگا۔ تصویر: آئی این این
میری گفتگو ذوق کے متعلق ہے مگر بڑی مشکل یہ ہے کہ ذوق ایک ایسی کیفیت ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ بتقریر در نہ آید… اس سے اور کچھ نہیں تو مسئلے کی مشکلات کا احساس تو ضرور ہوجاتا ہے، اور بڑی دقت یہ ہے کہ جس طرح ذوق کی حقیقت بعض دوسری اقدار کی طرح ناقابل ِ گرفت ہے اسی طرح فن خود بھی ایک مبہم سلسلہ عمل ہے۔ اس لئے اس سلسلے میں کوئی تعریف و تشریح صحیح معنوں میں نہیںہوسکتی ماسوا اس کے کہ ذوق ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو تخلیقی عمل میں مقباس حُسن کا کام دیتی ہے یا یہ اشیاء و کوائف کے متعلق انسان کا ایک جمالیاتی رویہ ہے جو خارجی عمل میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اب کیا کریں ؟
فنی تخلیق میں ذوق کا کیا مقام ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے تخلیق کے سلسلۂ عمل پر غور کرنا ہوگا۔ تخلیق اپنی ابتدائی تحریک سے لے کر تکمیل تک کئی مراحل سے گزرتی ہے ۔ اس کی ابتداء جذبہ کی خلش سے ہوتی ہے جو فنکار کو کسی موزوں پیکر کی تخلیق پر ابھارتی ہے جس سے اس جذبے یاتجربے کی تسکین ہوسکے۔ اس کے لئے فنکار کوئی فارم اختیار کرتا ہے اور اس فارم کو گوشت پوست عطا کرنے کے لئے وہ تخیل کی رنگ آمیزی سے کام لیتا ہے اور اس طرح آخر کار ایک تصویر بنا کر رکھ دیتا ہے۔ اس سلسلۂ عمل کو دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ ابتدائی تحریک سے لے کر آخر تک فنی پیکر کی تیاری میں کوئی ایسی پراسرار چیز بھی ضرور موجود رہتی ہے جو اس خاص فنی پیکر کو کسی خاص شکل پر قائم رکھتی ہے اور اس کو دوسرے فنکاروں کی اسی قسم کی تخلیقات سے جدا رکھتی ہے۔ کوئی فنکار اپنے تجربے کو حسین شکل دینے کے لئے کوئی صنف یا نوع اختیار کرتا ہےتو اس کا انتخاب یہ قوت کرتی ہے ، اس کے لئے Imagery کی نوعیت کا انتخاب شاعری میں بحر و وزن کا انتخاب، مواد میں ترتیب کی صورت کا انتخاب۔ غرض اظہار حُسن کو کسی خاص حالت پر رکھنے کا کام اسی صلاحیت کی بدولت ہوتا رہتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حسن کی شکل کو انفرادی خصوصیت بخشنے والی کوئی شے نفسِ شاعر میں ایسی بھی ہے جو اس کی رہنمائی بھی کرتی ہے اور اس کا محاسبہ بھی، اور اس کا یہ عمل جاری رہتا ہے تاآنکہ وہ فن پارہ مکمل ہوکر سامنے آجاتا ہے۔ اس وجدانی قوت یا جمالیاتی حس کو عرف عام میں ذوق کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اردو کیلئے ماحول سازگار تو ہے لیکن خوشگوار نہیں ہے‘‘
یہ تو معلوم ہے کہ شاعر یا مصور اپنے عمل کے لحاظ سے فنکار بھی ہوتا ہے اور کاریگر بھی، یعنی اس کے عمل یا طریق کار میں آرٹ بھی کارفرما ہوتا ہے اور کاریگری یعنی کرافٹ بھی اور ذہنی صلاحیت بھی۔ اب قابل ذکر بات یہ ہے کہ فنکار کے عمل کے ان دونوں شعبوں میں ذوق کی رہنمائی برابر شریک رہتی ہے۔ زبان اور الفاظ کا استعمال، محاورہ و روزمرہ کی صورتیں، مروجہ اسالیب و روایات کا لحاظ، سماجی مواد سے استفاد، غرض جذبے کی اصولی تحریک کے بعد ان خارجی وسائل و ذرائع تک تخلیق میں ذوق کی موجودگی اور رہبری ہر جگہ مسلم ہے۔ اور اگر سچ پوچھئے تو ذوق اور تخلیق کو الگ الگ کرنا از قبیل محالات ہے۔ تخلیق ایک لحاظ سے ذوق ہی کا دوسرا نام ہے ، یہ اور بات ہے کہ ہم تخلیق کے پیکر میں ذوق کی خارجی نشاندہی نہ کرسکیں اور یہ نہ بتا سکیں کہ ذوق کہاں کہاں چھپا بیٹھا ہے ، مگر یہ واقعہ ہے کہ تخلیق تمام تر ذوق ہی کا کھیل ہے۔ حسرتؔ نے ایک اور ضمن میں کیا خوب کہاتھا:
اگرچہ میں ہمہ تن درد ہوں ولے حسرتؔ
کوئی جو پوچھے کہاں ہے؟ بتا نہیں سکتا
غرض یہ کہ ذوق کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی، اس کا تعلق وجدان سے ہے۔ یہ تقریر میں سما نہیں سکتا۔ بایں ہمہ ذوق فن پارے میں خوشبو کی طرح موجود ہوتا ہے۔ ذرا زیادہ معین تعریف کی کوشش کی جائے تو ہم کہہ سکیں گے کہ ذوق، حسن اور موزونیت کی اس طلب کا نام ہے جو نفسِ انسانی میں درجہ بدرجہ مرکوز و محفوظ ہوتی ہے، مگر جس کی کیفیتیں ہر شخص کے وجدان، طبیعت اور ترتیب کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔ ذوق صرف فنکاروں کی واحد ملکیت نہیں، یہ تو ایک الوہی عطیہ ہے عام بنی نوع انسان کے حق میں، مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کا بہت بڑا اور خاص حصہ فنکار اور اس کا کچھ حصہ فن پرست یا فن شناس بلکہ حصہ ٔ رسدی ہر انسان کو ارزانی ہوا ہے۔ بہرحال ذوق موزونیت یا حُسن کی طلب یا اس کو ایک خاص صورت میں بروئے کارلانے یا اس کو تسکین دینے کا نام ہے۔ اس میں فنکار اور فن شناس دونوں کمی اور بیشی کی نسبت سے شریک ہوتے ہیں۔
ذوق حُسن کی جوئندہ اور متشکل قوت ہے جو کسی پیکر فن کو حسین بنانے میں تخلیقی قوتوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ میں جس حد تک ذوق کی حد بندی کر سکا ہوں مجھے کچھ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ذوق بنیادی طور پر انسان کی وہ جمالیاتی اشتہا ہے جو دوسری اشتہاؤں کی طرح تسکین چاہتی ہے ، محض اثر پزیر قوت نہیں۔ غالبؔ نے جب یہ کہا تھا:
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
حورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے
تو اس سے کم از کم یہ تو معلوم ہوگیا کہ ذوق کسی احساس منفعل کا نام نہیں بلکہ ایک تسکین طلب حسن کا نام ہے جس کی عام کیفیت، تناسب، لطافت اور سکون کی تلاش ہے۔ یہ شاید اس شدید فاعلی احساس سے بھی الگ چیز ہے جس کو ہماری اصطلاح میں شوق سے تعبیر کیا جاتا ہے ، اگرچہ ذوق و شوق کی حدیں بھی ایک مقام پر باہم متصل ہوجاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دُنیا کا اختتام
میں سمجھتا ہوں کہ ذوق داخلی شے بھی ہے اور خارجی بھی ۔ خارجی اس معنی میں کہ فنکار ، آزاد ہونے پر بھی زمانے کے ذوق کا خیال رکھتا ہے اور تربیت سے اس کی کیفیتوں میں تغیر بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ کروسے (فرانسیسی ڈرامہ نگار اور مصنف)نے حسن کی اس طلب کو قدرے زبردستی سے محض داخلی اور منفعل چیز قرار دے لیا ۔ اس سے بہتر پوزیشن تو آئی اے رچرڈز کی ہے جو ادب یا فن کو ایک ابلاغی چیز بھی سمجھتا ہے اور اس لحاظ سے مخاطب سامع یا زمانے کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو محض اندرونی اور انفرادی چیز خیال نہیں کرتا۔ حسن خود بھی محض موضوعی قدر نہیں۔ اس میںمعروضیت یوں مل گئی ہے گویا اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے۔ یہی خیال جمالیاتی حس اور ذوق کا ہے کہ وہ نفس کے اندر بھی ہے اور باہر بھی۔ وہ زمانے کے اندر بھی ہے اور زمانے سے باہر بھی۔ اس معاملے میں ’حسن را بے انجمن دیدن خطا ست‘ بھی غلط نہیں … اور ’’آپ جس پھول کو توڑیں وہی رعنا ہوگا‘‘ ۔
ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ ذوق نفس ِ انسانی کی ایک جمالیاتی قوت ہے جو حسن کا ادراک کرتی اور اس کا رویہ متعین کرتی ہے اور تخلیقی عمل میں یعنی جمال کی پیکر تراشی میں معیار کی نگہبان اور پاسبان بھی ہوتی ہے جو ادب، موسیقی، مصوری، سنگ تراشی، غرض جملہ انواعِ فن بلکہ اسالیب حیات کی جزئیات تک میں بھی جمال کی حدوں کو قائم رکھتی اور جمال کی طلب کو تسکین بخشتی رہتی ہے، اور فنکار اور فن شناس دونوں کے آہن ، اظہار و ادراک کو درست رکھنے میں مدد کرتی رہتی ہے۔ ان مقدمات کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں نکلتا کہ تخلیق کے عمل میں ذوق کو بنیادی مرکزی اور وسیع اہمیت حاصل ہے ۔ یہ جامع بھی ہے اور مانع بھی، یعنی حسن کی کیفیتوں کو تسکین فنکار بلکہ تسکین فن شناس کی حد تک جمع کرتی اور بے آہنگی اور عدم موزونیت سے فن پارے کو بہرحال بچاتی رہتی ہے۔ یہ ہے ذوق کی مختصر تشریح!