Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی ادب سے ایک کہانی خواب

Updated: August 20, 2023, 12:58 PM IST | Javed Bassam | Mumbai

اوہنری کی آخری کہانی جس کا نامکمل مسودہ ہنری کی موت کے بعد اس کی خاک آلود میز پر پڑا ملا تھا۔ اسے کاسمو پولیٹن میگزین کے مدیر نے خاکے کے مدد سے پورا کیا اور ستمبر ۱۹۱۰ء میں شائع کیا۔

Photo. INN
تصویر:آئی این این

مَرے نے ایک خواب دیکھا تھا۔
اکثر ماہرین نفسیات اور سائنس دان، مفروضوں اور قیاس آرائیوں کے ذریعے ہمیں موت کی جڑواں بہن نیند میں نظر آنے والے عجیب و غریب خوابوں کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا ہیں؟
 اِس کہانی کا مقصد حل طلب سوال پر روشنی ڈالنا نہیں ہے۔ یہ محض سزائے موت کے مجرم مرے کے خواب کی روداد ہے۔ ہمارے خوابوں کی خصوصیات میں سب سے نمایاں خاصیت یہ ہے کہ جو کچھ کئی مہینوں یا سالوں پر محیط ہوتا ہے، وہ خواب میں منٹوں یا لمحوں میں ہوجاتا ہے۔
 مرے، زنداں خانے کے سزائے موت پانے والے حصے میں اپنی کوٹھری میں بیٹھا تھا۔ گلیارے میں چھت سے لٹکے بجلی کے آرک لیمپ کی تیز روشنی اس کی میز پر پڑرہی تھی  جس پر ایک چیونٹی سفید کاغذ پر بے چینی سے ادھر ادھر رینگ رہی تھی۔ دراصل مرے نے ایک لفافے سے اس کا راستہ روک لیا تھا۔ آج رات آٹھ بجے مرے کو بجلی کی کرسی پر بٹھا کر موت کی سزا دی جانی تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے بے چین چیونٹی کی طرف دیکھا، جو حشرات الارض میں سب سے ذہین مخلوق ہے۔ مرے کے زنداں خانے میں آنے کے بعد، مزید سات افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی اور اس نے تین قیدیوں کو پھانسی کے تختے پر لے جاتے دیکھا تھا۔ ان میں سے ایک صدمے سے پاگل ہوگیا تھا اور اس طرح محافظوں سے لڑرہا تھا۔ جیسے بھیڑیا جال میں پھنس جانے کے بعد آزادی کے لئے جدو جہد کرتا ہے۔ دوسرا کچھ کم پاگل ہوا تھا۔ وہ بلند آواز میں دُعا کررہا تھا۔ جبکہ تیسرا کمزور آدمی تھا۔ وہ ڈر کر بیہوش ہوگیا تھا۔ اسے تختے پر ڈال کر لے جایا گیا تھا۔ آج کا دن مرے کی سزائے موت کے لئے مقرر تھا۔ رات آٹھ بجے اسے بجلی کی کرسی پر بٹھایا جانا تھا۔ وہ اس سوچ میں غلطاں تھا کہ پھانسی کے ان لمحات کا ظاہری اور باطنی طور پر کیسے سامنا کرے گا۔
زنداں خانے میں دو قطاروں میں کوٹھریاں تھیں۔ مرے کے سامنے بونیفاسیو کی کوٹھری تھی۔ وہ اطالوی تھا۔ اس نے اپنی منگیتر اور دو پولیس والوں کو قتل کردیا تھا جو اسے گرفتار کرنے آئے تھے۔ مرے نے اس کے ساتھ گھنٹوں چیکر کھیلا تھا۔ وہ آواز لگاکر راہداری میں اپنے نادیدہ مخالف کو چال بتاتے تھے۔ اسے بونیفاسیو کی پاٹ دار آواز سنائی دی۔ وہ ترنمی انداز میں کہہ رہا تھا۔”ارے ! استاد مرے ! تم کیسا محسوس کر رہے ہو؟ اچھا، ہاں؟“
”بہت اچھا، بونیفاسیو !“مرے نے پر اعتماد لہجے میں کہا اور میز پر رینگتی ہوئی چیونٹی کو لفافے کے ذریعے اٹھایا اور احتیاط سے پتھر کے فرش پر گرادیا۔
”ایسا ہی ہونا چاہئے، استاد مرے ! ہم جیسے لوگوں کو مَردوں کی طرح مرنا چاہئے۔ میری تاریخ اگلے ہفتے مقرر ہے۔ بہت خوب ! استاد مرے ! یاد رکھنا، میں نے تم سے آخری بازی  جیت لی ہے۔ شاید کسی دن ہماری پھر ملاقات ہو اور ہم پھر کھیلیں۔ میں نہیں جانتا، لیکن ہو سکتا ہے، جہاں ہمیں بھیجا جارہا ہے وہاں بھی اِس جہنم کے گلیارے کی طرح بلند آواز میں بات کرنی پڑے۔“
بونیفاسیو کے سخت فلسفے اور گرجدار قہقہوں نے مرے کے دل کو گرمایا تھا، لیکن وہ جانتا تھا کہ بونیفاسیو کے پاس زندہ رہنے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت اور ہے۔
کچھ دیر بعد زنداں خانے کے مکینوں نے گلیارے کے آخر میں آہنی بولٹ نکلنے اور گیٹ کھلنے کی مخصوص آواز سنی۔ پھر تین آدمی قدم اٹھاتے مرے کی کوٹھری کے قریب آئے اور اس کا تالا کھولا۔  ان میں سے دو لوگ وہ تھے جو جیل کے محافظ تھے ۔ تیسرا مرے کا پڑوسی اور بچپن کا دوست لیون تھا، مگر  اب وہ ریورنڈ لیونارڈ وہسٹن تھا۔
”مجھے زنداں کے پادری کی جگہ لینے کی اجازت مل گئی ہے۔“ اس نے مرے کا ہاتھ پکڑ کر گرمجوشی سے ہلاتے ہوئے کہا۔  اس کے بائیں ہاتھ میں ایک چھوٹی سی بائبل نظر آرہی تھی جس میں اس نے اپنی شہادت کی انگلی سے کسی صفحہ پر نشانی لگا رکھی تھی۔
مرے دھیرے سے مسکرایا اور میز پر پڑی دو تین کتابوں اور قلموں کو ترتیب سے رکھنے لگا۔ پھر اس نے کوئی بات کرنی چاہی، لیکن کوئی مناسب لفظ ذہن میں نہیں آیا۔
زنداں خانے میں موجود قیدیوں نے اس اسی ّ فٹ لمبے اور اٹھائیس فٹ چوڑے گلیارے کو، لمبولین یعنی ”جہنم کا دروازہ“ قرار دے رکھا تھا۔ اس دروازے کا محافظ ایک دیوہیکل، گنوار مگر دل کا مہربان آدمی تھا۔ اس نے اپنی جیب سے وہسکی کی چھوٹی بوتل نکالی اور مرے کو دیتے ہوئے بولا: ”یہ معمول کی چیز ہے اور ان لوگوں کے لئے خاص ہے جو خود کو تازہ دم کرنا چاہتے ہیں، ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ تم اس کے عادی نہیں ہوگے۔“
 مرے نے بوتل سے ایک گھونٹ لیا۔ محافظ نے کہا: ”بس ذراسی مقوی دوا اور سب کچھ ریشم کی طرح ہموار۔“
 وہ گلیارے میں آگے بڑھے۔ مرے کے ساتھی قیدی سمجھ گئے تھے کہ آٹھ بجنے والے ہیں، مرے کی پھانسی کا مقررہ وقت آپہنچا ہے۔ ہرچند لمبولین دنیا سے پرے ایک الگ دنیا تھی، لیکن وہاں قید مجرم یہ جلد سیکھ جاتے تھے کہ حواس خمسہ میں سے ایک یا زائد حواس سے محروم ہونے پر کسی اور حس سے اِس کمی کو کیسے پورا کیا جاسکتا ہے۔
لمبولین میں مجرموں کے کئ طبقے تھے۔ وہ آدمی جو کھلم کھلا قتل کرتا ہے، جو اپنے دشمن یا تعاقب کرنے والے کو مارتا ہے، جو پرانی دشمنی یا لڑائی کے جوش میں بہہ جاتا ہے اور انسانوں کو چوہے، مکڑی اور سانپ کی طرح حقیر سمجھتا ہے۔
جب مرے دو محافظوں کے درمیان گلیارے سے گزر رہا تھا تو ان سات قیدیوں میں سے صرف تین قیدیوں نے مرے کو الوداع کہا۔ ان میں پہلا بونیفاسیو تھا، دوسرا مارون تھا جس نے جیل توڑنے کی کوشش کے دوران جیلر کو مار ڈالا تھا اور تیسرا باسیٹ نامی ایک ریل لٹیرا تھا جس نے ایک ایکسپریس پیغام رساں کو ہاتھ سر سے اوپر نہ اٹھانے پر مار دیا تھا۔ باقی چار اپنی اپنی کوٹھڑیوں میں خاموشی سے چھپے بیٹھے رہے۔بلاشبہ آج وہ لمبولین معاشرے میں اپنی بے راہ روی کو زیادہ شدت سے محسوس کر رہے تھے۔
مرے اپنے سکون اور بے حسی پر حیران تھا۔ سزائے موت کے کمرے میں تقریباً بیس لوگ موجود تھے۔ جیل کے اہلکار، اخباری رپورٹر اور تماشائی جو کہ……(ناتمام) 
یہاں، اس جملے کے درمیان اچانک موت کے بھیانک ہاتھ نے اوہنری کو آدبوچا اور اس کی آخری کہانی میں خلل پڑگیا۔ ہنری نے اس کہانی کو اپنی پچھلی کہانیوں سے بالکل مختلف انداز میں لکھنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وہ ایک نئے سلسلے کا آغاز کرنا چاہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا ”میں عوام کو دکھانا چاہتا ہوں کہ میں کچھ نیا لکھ سکتا ہوں۔ میرا مطلب ہے ایک ایسی کہانی جس میں ایک سیدھا سادا ڈرامائی پلاٹ اس انداز میں پیش کیا جائے جو میرے کہانی لکھنے کے حقیقی تصور کے قریب ہو۔“ اس نے کہانی شروع کرنے سے پہلے، مختصراً اس بات کا خاکہ بھی پیش کیا تھا کہ وہ اسے کس طرح لکھنے کا ارادہ رکھتاہے۔
مرے… محبوبہ کے وحشیانہ قتل کا مجرم…قتل کا محرک حسد کی آگ  …   سزائے موت کا سامنا کرنا…پہلے پرسکون اور تمام ظاہری حالتوں اور اپنی قسمت سے لاتعلق … مگر جیسے ہی وہ برقی کرسی کے قریب پہنچتا ہے …  سب اسے حقیقت لگتا ہے …وہ  ہکا بکا رہ جاتا ہے… ڈیتھ چیمبر کا سارا منظر… گواہ… تماشائی…سزائے موت کی تیاریاں  اس کیلئے حقیقت بن جاتی ہیں … اس کے ذہن میں خیال آتا ہے… کوئی خوفناک غلطی ہوگئی ہے۔ اسے کرسی پر کیوں بٹھایا جارہا ہے؟ اس نے کیا جرم کیا ہے؟کچھ  لمحوں بعد جب کرسی کے چمڑے کے پٹے کسے جا رہے تھے تو اس کے ذہن کی آنکھ کے سامنے ایک اور نظارہ نمودار ہوتا ہے ۔وہ ایک اور خواب دیکھتا ہے …اسے کسی گاؤں میں درختوں اور پھولدار بیلوں کے کنج میں ایک چھوٹا سا کاٹیج نظر آتا ہے جس پر سورج چمک رہا ہے ۔ وہ ایک عورت اور بچے کو دیکھتا ہے۔ ان سے بات کرتا ہے  ۔وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی بیوی اور بچہ ہے اور یہ کاٹیج اس کا گھرہے۔
 وہ سوچتا ہے، وہ کوئی غلطی تھی، کوئی بھیانک غلط فہمی، مقدمہ، موت کی سزا، بجلی کی کرسی کے ذریعے سزا پر عمل  درآمد …   وہ سب ایک خواب تھا۔ وہ اپنی بیوی کو گلے لگاتا ہے اور بچے کو پیار کرتا ہے۔ جی ہاں، خوشیوں سے بھری اصل زندگی یہ ہے… وہ ایک خواب تھا… لیکن اچانک جیل وارڈن کے اشارے پر کرسی میں مہلک کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔
مرے نے جو خواب دیکھا تھا، وہ غلط خواب تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK