مسلم علماؤں کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کی اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماں اور اس کے بچے کے رشتے کی تعریف کے لیے کسی رسمی اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: June 02, 2026, 8:03 PM IST | Luckhnow
مسلم علماؤں کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کی اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماں اور اس کے بچے کے رشتے کی تعریف کے لیے کسی رسمی اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو مسلمان علماء کی جانب سے گائے کو قومی جانورقرار دینے کے مطالبات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’گائے ہماری ماں ہے۔‘‘بجنور میں ایک تقریب میں ادتیہ ناتھ نے کہا کہ’’ انہیں پتا چلا ہے کہ کچھ مولوی اور مولانانے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’گائے پہلے سے ہی ہماری ماں ہے اور ہمارا گائے سے رشتہ کئی جنموں پر محیط ہے۔ ماں اور اس کے بچے کے رشتے کی تعریف کے لیے کسی رسمی اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’گئوماتا خود اعلان کردہ قومی ماں ہیں، انہیں قومی ماں قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
بی جے پی لیڈر نے اس مطالبے کو ’’دوہرا معیار‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کچھ لوگ گائے کے ذبیحے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ گائے کو قومی حیوان کا درجہ دینے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ یوگی نے یہ بھی کہا کہ حکومت گائے ذبح کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔واضح رہے کہ یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب۲۴؍ مئی کو متعدد مسلمان تنظیموں اور رہنماؤں نے جمعیت علمائے ہند (ارشد مدنی دھڑے) کے صدر مولانا ارشد مدنی کے گائے کو قومی حیوان قرار دینے کے مطالبے کی حمایت کی تھی۔تنظیموں نے کہا تھا کہ اس سے گائے کے ذبیحے کے مسئلے کو سیاسی طور پر استعمال کرنے سے روکنے میں مدد ملے گی۔ساتھ ہی اس مطالبے کی سابق نائب صدر محمد حامد انصاری نے بھی حمایت کی تھی، جنہوں نے۲۵؍ مئی کو انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ اگر ’’مسئلے کی اصل وجہ ‘‘حل ہو سکتی ہے تو گائے کو قومی جانور قرار دیا جانا چاہیے۔اخبار نے ان کے حوالے سے کہا تھا، ’’گائے کے ذبیحے کو روکنے کے لیے، اگر ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے، تو یہ اچھی بات ہے۔‘‘