Inquilab Logo Happiest Places to Work

کشمیر: سری نگر ہوائی اڈے کے رن وے کو جزوقتی بند کرنے کا منصوبہ، سیاحت کو دھچکا

Updated: June 02, 2026, 10:00 PM IST

کشمیر کے سری نگر ہوائی اڈے کے رن وے کو جز وقتی بند کرنے کا منصوبہ زیر غورہے، جولائی سے اکتوبر۲۰۲۶ء تک سری نگر ہوائی اڈے پر رن وے کی مرمت سے پروازوں میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔

Srinagar Airport. Image: X
سری نگر ہوائی اڈہ۔ تصوہر: ایکس

پہلگام میں دہشت گرد حملے کے اثرات سے ابھرنے کی کوشش کر رہی کشمیر کی سیاحت اب ایک بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ سری نگر ہوائی اڈے پر رن وے کی طویل مرمتسیاحتی سیزن کے عروج پر فضائی رابطوں میں خلل ڈال سکتی ہے۔سری نگر ہوائی اڈے کی جانب سے جاری کردہ مسافر ایڈوائزری کے مطابق، حکام نے ہندوستانی فضائیہ کے اشتراک سے رن وے کی مرحلہ وار بحالی کا منصوبہ تجویز کیا ہے، جو جولائی سے اکتوبر۲۰۲۶ء کے درمیان پروازوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔مجوزہ منصوبے کے تحت، یکم جولائی تا۳۰؍ ستمبر۲۰۲۶ء ہر پیر اور منگل کو رن وے بحالی کے لیے بند رہے گا۔ اس دوران تجارتی پروازوں میں تبدیلیاں متوقع ہیں، جس سے ہزاروں مسافروں بشمول وادی آنے والے سیاح متاثر ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: مسلمانوں کی گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کی یوگی آدتیہ ناتھ کی مخالفت

اس کے علاوہ یکم تا۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو رن وے مکمل طور پر بند رہے گا، جس کے دوران کوئی بھی پرواز نہیں ہو سکے گی۔ہوائی اڈے کے محکمہکا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے، حتمی منظوری کے بعد تفصیلات جاری کی جائیں گی۔بعد ازاں یہ اعلان کشمیر کی سیاحت کے لیے حساس وقت پر آیا ہے، جو پہلگام حملے کے بعدصدمے سے بحال ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو خدشہ ہے کہ فضائی رابطوں میں طویل خلل کی وجہ سے بکنگ منسوخ ہو سکتی ہے اور ہوٹلوں، ٹور آپریٹرز، ٹرانسپورٹرز کو مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔چیمبر آف کامرس کے صدر طارق غنی نے کہا کہ اکتوبر میں بندش شدید تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اکتوبر نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ہندوستان میں مصروف ترین سیاحتی مہینوں میں سے ہے۔ دہلی، درگا پوجا، دسہرہ اور دیوالی جیسے تہوار اس دوران آتے ہیں، جب بڑے پیمانے پر سفر کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریپ ملزم کی ضمانت مسترد، جج کا مشرقِ وسطیٰ طرز کی سزاؤں کا حوالہ دینے پر تنقید

ہاؤس بوٹ ایسوسی ایشن کے صدر منظور پختون نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاحت پر گہرے اثرات ڈالے گا، حکومت کو متبادل انتظامات پر غور کرنا چاہیے، جیسے رات کے اوقات میں مرمت کا کام کرانا۔تاہم، ہوائی اڈے حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کا شیڈول منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے، حتمی منظوری کے بعد ہی تفصیلات جاری ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ رن وے کی بحالی طویل مدتی حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK