• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ادیب زندگی اور موجودات کے دجلے کا ایک قطرہ ہے

Updated: February 08, 2026, 11:52 AM IST | Raj Bahadur Gaur | Mumbai

یہ ادیب کا کام ہے کہ دوسرے قطروں کے ساتھ مل کر اس دجلہ کے بہاؤ اور اس کی سمت کا تعین کرے۔

Great literature is that which has faith in life and trust in the people. If it is necessary for a writer to be sensitive, then he must also be sincere with his feelings, and there are no gaps in feelings. Photo: INN
عظیم ادب وہی ہوتا ہے جس کا زندگی پر اعتبار اور عوام پر اعتماد ہو۔ اگر ادیب کے لئے حساس ہونا ضروری ہے تو پھر اسے اپنے محسوسات سے خلوص بھی برتنا ہوگا اور محسوسات میں خلا نہیں ہوتے۔ تصویر: آئی این این

’’فن برائے فن‘‘ کے دن تو بیت گئے۔ اب یہ بحث بے معنی ہوگئی ہے لیکن اب بھی ادیب اور سماج کے رشتوں کے متعلق ادیب کے حساس ذہن پر اپنے اطراف و اکناف کے کوائف کے ارتسامات، ادب کا ردعمل اور پھر اس کشمکش سے پھوٹنے والا اس کا تخلیقی ادب، اور اس ادب کا اس کے قاری کس طرح استقبال کرتے ہیں، یہ تمام امور زیربحث ہیں اور رہیں گے۔ ادب سے اس کے دور کا مزاج جھانکتا ضرور نظر آئے گا۔ مثلاً کملارتنم نے کالیداس کے دو ہی ڈراموں ’شکنتلا‘ اور ’وکرم اروشی‘ کا تجزیہ کرکے یہ کہا تھا کہ دشینت کا شکنتلا کو پہچاننے سے انکار کردینا اور شکنتلا کا واپس اپنی کٹیا میں آنا اور بھرت کو پال پوس کر بڑا کرنا، یا ’وکرم اروشی‘ میں شہزادی کا اپنی داسی سے کہنا کہ اس کا شوہر پرووَرَس اس کی بہت عزت کرتا ہے تو اس پر داسی کا کہنا کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کی عزت کرے تو سمجھ لو کہ وہ کہیں اور آنکھیں لڑا رہا ہے۔ اور ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ کالیداس کے زمانے میں مرد بہت بزدل تھا اور عورت کی اَنا بیدار تھی۔ 
اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ کالیداس نے اپنے دور کی ایک سماجی حقیقت کو آشکار کیا ہے جو عصری تو تھی ہی لیکن شاید آج بھی صحیح ہے اور اس وقت تک صحیح رہے گی جب تک کہ زندگی کے ہر شعبے میں مرد کی برتری باقی رہے گی اور عورت شریک حیات تو ہوگی لیکن شریک کارزارِ حیات نہ ہوگی۔ یہاں ہم تخلیقی اور عظیم ادب کا وہ سماجی پہلو دیکھ رہے ہیں جو بعض تلخ سماجی حقیقتوں کو جمالیاتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ 
لیکن ایک اور ادب بھی ہے جو لوک ادب کہلاتا ہے۔ اس کا راست تعلق محنت اور محنت کشوں کی محبت سے ہے۔ ذرا ان گیتوں کی طرف توجہ فرمائیے جو عورتیں چکی چلاتے وقت گاتی ہیں، کھیتوں میں کلچائی کے وقت گاتی ہیں یا مزدور روزن ڈھکیلتے وقت گاتے ہیں۔ یہ گیت کام کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔ یہ بھی ادب ہے اور اسکی بھی سماجی افادیت ہے۔ 
عشق زندگی کی امتیازی شان ہے اور انسان ہی عشق کرسکتا ہے، جانور نہیں۔ پھر عشقیہ شاعری بھی ایک انسانی اور سماجی ضرورت کو پورا کرتی ہے مگر یہی عشقیہ شاعری جاگیرداری سماج کے زوال کے دور میں جنس زدہ راجہ صاحب کے لئےٹانک کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ بالزاک نے اپنے ناول میں اسی ابتذال کو ظاہر کیا اور وہ عظیم ادب شمار ہوا۔ ہماری اردو شاعری میں دورِ ابتذال کے نموے بھی ملتے ہیں ، مثلاً :صبح کو آئے ہو بھولے شام کے/ جاؤ بھی اب تم رہے کس کام کے۔ یہ ان شعراء کا کلام ہے جنہوں نے اردو زبان کو صیقل کیا اور اسے نئی آن بان عطا کی۔ مگر سماجی اعتبار سے یہ ادب قاری کے اسفل جذبات کو ہوا دیتا ہے اور ادب کا کام قاری کے اندر نیک جذبات کو ابھارنا ہے۔ اسی لئے جب حسرت یہ شعر یا اس قسم کے اشعار لے کر اردو دنیا میں آئے :
نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی
مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں 
تو شعری دنیا میں انقلاب آگیا، عشق کو معتبری حاصل ہوگئی، معشوق باوقار ہوگیا اور عاشق میں رکھ رکھاؤ پیدا ہوگیا۔ یہ ایک زبردست سماجی خدمت تھی۔ پھر ادب اظہار عشق کا ذریعہ ہی نہیں، افشائے تمنا ہی اس کا مقصد نہیں، سماج طبقات میں تقسیم ہے۔ ادب بھی کسی نہ کسی طبقہ کے مقصد کی ترجمانی کرے گا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ عظیم ادب وہی ہوتا ہے جس کا زندگی پر اعتبار اور عوام پر اعتماد ہو۔ اگر ادیب کے لئے حساس ہونا ضروری ہے تو پھر اسے اپنے محسوسات سے خلوص بھی برتنا ہوگا اور محسوسات میں خلا نہیں ہوتے، وہ جیتے جاگتے، لڑتے جھگڑتے اور آگے بڑھتے ہوئے سماجی محرکات سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ ادیب سماج کا جز ہے، وہ اس سے الگ کوئی مجرد حقیقت نہیں رکھتا۔ وہ دیکھتا ہے، سوچتا ہے۔ یہ سب کچھ ان حقیقتوں کے بیچ میں رہ کر ہورہا ہے جو اس کے اطراف و اکناف وقوع پزیر ہیں۔ اس کا ذہن محض فوٹو پلیٹ نہیں کہ ان حقائق کا صرف عکس پڑ جائے۔ وہ ایک تخلیقی ذہن رکھتا ہے۔ ان سماجی عوامل کا اس پر عمل ہورہا ہے جو جہد ِ زندگی کا راز ہیں۔ پھر وہ اپنے قاری کو اپنی تخلیق کے ذریعے کچھ پیام بھی دے گا جو اُسے کرب کے دور میں جمالیاتی حظ بخشے، لطف اندوزی کا موقع دے، اس کی اذیتناک محنت سے ایک لمحے کیلئے سہی آسودگی عطا کرے اور آگے بڑھنے کیلئے اسے راستہ بھی بتائے اور روشنی بھی دے البتہ یاد رہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر ادب یہاں یہ سارے کام ایک ساتھ انجام دے۔ 
وہ ادب بھی روح کو تازگی بخشتا ہے جو برسات کی خوشگواری کا اظہار کرے۔ پہاڑیوں ، چٹانوں کے بیچ سے درختوں سے ٹکراتا گنگناتا دریا بہتا جائے اور ادیب اس منظر کو پیش کرے تو ہم کچھ دیر کے لئے سہی مصائب و آلام کو بھول کر اپنی تھکن دور کرلیتے ہیں اور تروتازہ آگے کی طرف چل پڑتے ہیں۔ کیا اس ادب کی سماجی افادیت کم ہے؟
لیکن زندگی کی طرح ادب کا بھی یہ ایک پہلو ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا کہ شاعر کا منصب قطرہ میں دجلہ دیکھنا ہے۔ لیکن یہ کب ممکن ہوگا؟ جبکہ شاعر کو بصارت کے ساتھ بصیرت بھی نصیب ہو۔ بصیرت علم سے حاصل ہوتی ہے اور علم ہمیں لاکھوں آنکھیں مہیا کرتا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس کثیرالابعاد مشاہدے اور اس سے حاصل ہونے والے علم کو کیسے کام میں لاتے ہیں۔ سماج کے مفاد میں یا اس کی تباہی کے لئے، کڑوی حقیقتوں سے لوہا لینے کے بجائے ان سے آنکھیں چرا کر راہ فرار اختیار کرنے کے لئے اور پھر سماج میں بھی کس طبقہ کے مفاد میں ؟ اس سوال کے جواب سے ادیب کے فرائض ابھرتے ہیں۔ 
یہ کہنا کہ سماجی مسائل ’’عارضی‘‘ نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان پر لکھا جانے والا ادب بھی ’’عارضی‘‘ ہوگا اور اس میں ابدی جمالیاتی حظ مفقود ہوگا، غلط ہے۔ ادبی علامات کے سہارے، جمالیاتی خطوط کو ابھارا اور سماجی مقصد کو عیاں کیا جاسکتا ہے۔ دور کہاں جائیے، ۱۸۵۷ء کی بغاوت پر کتنا ادب تخلیق ہوا ہے؟ اس بغاوت کے ہیروؤں اور رہنماؤں کو کس طرح دوام بخشا گیا ہے؟ یہ کیوں بھولیں کہ اس میں معیاری ادب بھی ہے اور لوک ادب بھی۔ 
آزادی کی لڑائی کے دوران ہمارے ادیبوں نے مجاہدانہ ادب تخلیق کیا اور نہ صرف آزادی کے لئے لڑنے والوں کی ہمت بڑھائی بلکہ ان میں یہ حوصلہ بھی تھا کہ وہ خود اس مجاہدے میں شریک تھے۔ حسرتؔ اپنی آپ مثال ہیں جو ’’چکی کی مشقت‘‘ اور ’’عشق سخن‘‘ کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ دنیا بھر میں اور ہمارے برصغیر میں ایسے سیکڑوں ادیب ملیں گے جنہوں نے انصاف اور آزادی کے لئے لڑائیوں میں حصہ لیا، صعوبتیں برداشت کیں اور شہید بھی ہوئے۔ 
لوئی اراگاں (فرانس، ۱۸۹۷ء تا ۱۹۸۲ء) ) کی زمانۂ جنگ کی نظمیں اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں۔ جنرل فلپ پیتیاں کی پٹھو سرکار کے زمانے میں وہ علامتوں اور استعاروں میں لکھتے اور اخبار ان تخلیقات کو چھاپتے تھے۔ لوگ اپنا مطلب نکال لیتے تھے اور ان سے نازیوں کے خلاف لڑائی میں حوصلہ پاتے تھے۔ حکومت نے اس پر پابندی لگادی۔ پھر وہ روپوش رہے اور مجاہدانہ ادب تخلیق کرتے رہے۔ اسپین کی خانہ جنگی میں خرانکو کے خلاف ادیبوں نے جان کی بازی لگادی۔ 
اردو ادب کی تاریخ بتاتی ہے کہ انگریزوں کی لائی ہوئی تباہی کو نظیرؔ اکبرآبادی نے کس خوبی سے بیان کیا ہے۔ ’’شہرآشوب‘‘ اسی دور کی تخلیق ہے اور ان حالات کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ انیسؔ نے واقعاتِ کربلا سے حوصلے حاصل کرکے، اس میں ڈرامائی عنصر کا اضافہ کرکے وہ مرثیے لکھے جن سے ہماری ماؤں اور بہنوں میں بچوں سے پیار سے لے کر اصولوں کے لئے قربانی تک سبھی جذبات کو بیدار کیا۔ ملک آزاد ہوا۔ لیکن یہ کیسی آزادی تھی؟ کتنا خون خرابا ہوا؟ ہمارے ادیبوں نے اس پر شاندار ادب تخلیق کیا کہ رشید احمد صدیقی جیسے ادیب کو بھی کہنا پرا کہ ترقی پسندوں کا یہ زبردست کارنامہ تھا کہ بہیمیت کے دور میں بھی انسانیت کا سر اونچا رکھا۔ 
آزادی کے متعلق شاعروں نے اپنے انداز میں کہا۔ اگر شاہد صدیقی یہ کہہ کر رک جاتے ہیں کہ :’’یہ کیا رات کے بعد اک اور رات آئی/ آپ تو کہتے تھے کہ صبح ہونے والی ہے‘‘  تو مخدومؔ آگے بڑھ جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں :
’’رات کی تلچھتیں ہیں، اندھیرا بھی ہے / صبح کا کچھ اجلا اجالا بھی ہے / ہمدمو!/ ہاتھ میں ہاتھ دو/ سوئے منزل چلو/ منزلیں پیار کی/ منزلیں داد کی/ کوئے دلدار کی منزلیں / دوش پر اپنی اپنی صلیبیں اٹھائے چلو‘‘۔ 
اسی دوران فیضؔ کے تیور کچھ ایسے ہیں : ’’یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر/ وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں ‘‘ اور یہ بشارت دیتے ہیں کہ ’’چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ ‘‘
یہاں شاہد صدیقی کے ایک کربناک حقیقت کے اظہار سے لے کر فیض کی ’نجات دیدہ و دل‘ کی منزل کی طرف بڑھنے کی دعوت سبھی کچھ ہے۔ یہی تو فیض کہتے ہیں کہ شاعر کا کام قطرہ میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں، دکھانا بھی ہے۔ ادیب خود زندگی اور موجودات کے دجلے کا ایک قطرہ ہے۔ یہ ادیب کا کام ہے کہ دوسرے قطروں کے ساتھ مل کر اس دجلہ کے بہاؤ اور اس کی سمت کا تعین کرے۔ 
( سماجی تقاضے اور ادیب کے فرائض سے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK