• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: نیتن یاہو نے ۷؍ اکتوبر ۲۳ء ناکامی کی ذمہ داری پھر نہیں لی، الزام فوج پر

Updated: February 07, 2026, 10:36 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملوں سے متعلق سیکوریٹی ناکامی کی ذاتی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے الزام فوجی قیادت اور سابق حکومتوں پر ڈال دیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق جمع کرائی گئی دستاویز پر اپوزیشن نے شدید اعتراض کیا ہے۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک بار پھر ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملوں سے متعلق سیکوریٹی ناکامی کی ذاتی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے یہ مؤقف ایک ۵۵؍ صفحات پر مشتمل تحریری دستاویز میں اختیار کیا، جو انہوں نے ۲۰۲۵ء کے اختتام پر اسٹیٹ کمپٹرولر ماتنیاہو اینگلمان کو جمع کرائی۔ رپورٹ کے مطابق اس دستاویز میں نیتن یاہو نے حملوں کی ذمہ داری اسرائیلی فوجی قیادت، انٹیلی جنس اداروں اور سابق حکومتوں پر ڈال دی، جبکہ منتخب اقتباسات پیش کر کے یہ مؤقف اختیار کیا کہ حماس کے حملے کی پیشگی کسی کو توقع نہیں تھی۔ جمعرات کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران نیتن یاہو نے ۷؍اکتوبر سے قبل ہونے والے سیکوریٹی اجلاس کے اقتباسات پڑھ کر سنائے، جن میں سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ، سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ اور سابق شِن بیت سربراہ رونین بار کے بیانات شامل تھے۔ اس اقدام پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے شدید احتجاج اور تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: اسرائیلی صدر ہرزوگ کے دورے میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف مظاہرین کو انتباہ

اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے منتخب اقتباسات کے ذریعے یہ دعویٰ کیا کہ وہ حماس کے لیڈروں کو نشانہ بنانے کے حامی تھے، جبکہ سیکوریٹی حکام نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس مؤقف کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ۷؍ اکتوبر سے قبل کثیر محاذی تصادم کے خدشات پر واضح انتباہات موجود تھے۔نیتن یاہو بدستور ۷؍ اکتوبر کے حملوں پر ریاستی کمیشن آف انکوائری کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسی تحقیقات ان کی ذاتی اور سیاسی ذمہ داری کا تعین کر سکتی ہیں۔ دسمبر ۲۰۲۵ء میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے اسٹیٹ کمپٹرولر کی تحقیقات کو معطل کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ناکامیوں کا جامع جائزہ صرف مکمل ریاستی تحقیق کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دستاویز میں نیتن یاہو نے ۲۰۱۴ء کی ایک کابینہ میٹنگ کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے غزہ پر قبضے کی تجویز دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت کئی وزرا، جن میں موجودہ سیاسی حریف نفتالی بینیٹ بھی شامل تھے، اس تجویز کے مخالف تھے۔ مبصرین کے مطابق یہ حوالہ موجودہ انتخابی ماحول میں سیاسی محاذ آرائی کی عکاسی کرتا ہے۔ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں دو سالہ فوجی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں تقریباً ۷۲؍ ہزار فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ وسیع پیمانے پر رہائشی اور شہری انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جینیوا اکیڈمی کا انتباہ، غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے

اگرچہ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں سینکڑوں مزید فلسطینی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے ذمہ داری دوسرے اداروں پر ڈالنے کی حکمتِ عملی نہ صرف داخلی سیاسی دباؤ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ آنے والے انتخابات سے قبل احتساب کے سوال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK