• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نے یوکرین روس جنگ ختم کرنے کیلئے جون کی ڈیڈ لائن دی: زیلنسکی

Updated: February 07, 2026, 10:36 PM IST | Washington

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکہ نے یوکرین اور روس کو جنگ کے خاتمے کے لیے جون تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس مدت میں پیش رفت نہ ہوئی تو واشنگٹن مزید اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

یوکرین کے صدر وولادیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے یوکرین اور روس کو جنگ ختم کرنے کے لیے جون ۲۰۲۶ء تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ زیلنسکی نے یہ بات صحافیوں سے گفتگو میں کہی، جہاں انہوں نے امریکی مؤقف اور آئندہ ممکنہ سفارتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ زیلنسکی کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی اور سیاسی حل کی سمت واضح پیش رفت کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ طویل جنگ نہ صرف یوکرین اور روس بلکہ عالمی سلامتی اور معیشت پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ صدر زیلنسکی نے بتایا کہ اگر جون تک کسی قسم کی عملی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکہ مزید دباؤ کے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق یہ دباؤ سفارتی، سیاسی یا معاشی نوعیت کا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روس اور یوکرین کے درمیان ۳۰۰؍ قیدیوں کا بڑا تبادلہ

خبروں کے مطابق زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، لیکن وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی امن منصوبے کی بنیاد یوکرین کی سرحدوں کے احترام اور قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتوں پر ہونی چاہیے۔ زیلنسکی نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے یوکرین، روس اور امریکہ پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات کی تجویز دی ہے۔ یوکرین نے اس تجویز سے اصولی اتفاق کیا ہے، تاہم روس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی جواب سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں قیدیوں کے تبادلے جیسے محدود امور پر پیش رفت ہوئی، لیکن جنگ کے خاتمے سے متعلق بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ اصل مسئلہ روس کی جانب سے یوکرینی علاقوں پر قبضے اور سکیورٹی خدشات کا ہے، جس پر اب تک کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھئے: عمان: امریکہ سے مذاکرات کا ’’اچھا آغاز‘‘، احتیاط ضروری: ایرانی وزیر خارجہ

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب روس۔یوکرین جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس طویل تنازع نے یورپ کی سلامتی، توانائی کی فراہمی اور عالمی سیاسی توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکہ اب تک یوکرین کا سب سے بڑا فوجی اور مالی معاون رہا ہے۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ اگر امریکہ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن کے اندر جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف یوکرین بلکہ عالمی سطح پر استحکام کے لیے اہم ہوگی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کسی عجلت میں کیے گئے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔ روس کی جانب سے زیلنسکی کے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کریملن پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب یوکرین روس کے سیکوریٹی خدشات کو تسلیم کرے، جسے کییف مسترد کرتا آیا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے جون کی ڈیڈ لائن مقرر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اب جنگ کے طویل ہونے سے بے چین ہو رہا ہے اور سفارتی حل کی رفتار تیز کرنا چاہتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK