Updated: February 07, 2026, 10:34 PM IST
| Tel Aviv
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جیفری ایپسٹین اسرائیلی نہیں تھا جبکہ ایف بی آئی کی تحقیقات میں اس کے برعکس انکشافات ہوئے ہیں، نیتن یاہو کا اصرار تھا کہ ایپسٹین کے سابق اسرائیلی وزیر اعظم یہود باراک کے ساتھ قریبی تعلقات ہونے سے اس کا اسرائیلی ایجنٹ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
وزیراعظم اسرائیلی نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ارب پتی امریکی مبینہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور سابق وزیراعظم یہود باراک کے تعلقات یہ نہیں بتاتے کہ ایپسٹین اسرائیل کے لیے کام کرتا تھا۔‘‘نیتن یاہو نے ایپسٹین فائلز کی نئی جانچ پڑتال کو یہ کہتے ہوئے کہ بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اسرائیل کے لیے کام نہیں کرتا تھا،اپنے پیشرو یہود باراک پر حملے کے لیے استعمال کیا ہے۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو کے یہ تبصرے ایپسٹین فائلز کے حالیہ منظر عام پر آنے کے بعد آئے ہیں، جن میں ۲۰۲۰ء کی ایف بی آئی دستاویز بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ارب پتی مبینہ جنسی مجرم ایپسٹین باراک کے دور میں جاسوس کے طور پر تربیت یافتہ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: اسرائیلی صدر ہرزوگ کے دورے میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف مظاہرین کو انتباہ
بعد ازاں بین الاقوامی میڈیا کوریج میں ایپسٹین کے اسرائیل سے ماضی کے تعلقات دوبارہ سامنے آئے۔نیتن یاہو نے لکھا، ’’ایپسٹین اوریہود باراک کے غیر معمولی قریبی تعلقات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایپسٹین اسرائیل کے لیے کام کرتا تھا۔ یہ اس کے برعکس ثابت کرتا ہے۔‘‘ یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ گردش میں آنے والی تصاویر میں باراک کو نیویارک میں ایپسٹین کے مین ہیٹن رہائش گاہ میں داخل ہوتے دکھایا گیا تھا۔ جبکہ نیتن یاہو نے مزید الزام لگایا کہ’’ باراک عوامی سطح پر اور پردے کے پیچھے اسرائیل کی حکومت کو کمزور کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، جس میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریکوں کو ہوا دینا، بے امنی پھیلانا اور جھوٹی میڈیا کہانیاں پھیلانا شامل ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ باراک نیتن یاہو کے ایک نمایاں ناقد رہے ہیں اور بار بار ان کی حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔بعد ازاں جمعے کو، امریکی ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے ایپسٹین کی تحقیقات کے حصے کے طور پر۳؍ ملین سے زیادہ اضافی فائلوں کو منظر عام پر لانے کا اعلان کیا۔یہ بھی یاد رہے کہ ایپسٹین، ایک امریکی فنانسر جس پر نابالغوںکی بڑے پیمانے پر جنسی سمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا،۲۰۱۹ء میں نیویارک جیل میں حراست کے دوران مردہ پایا گیا تھا۔اس سے وابستہ فائلوں میں باراک سمیت متعدد نامور شخصیات کا ذکر ہے۔ساتھ ہی ایپسٹین فائلز میں شامل۲۰۲۰ء کی ایک ایف بی آئی دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ارب پتی مبینہ جنسی مجرم باراک کے تحت جاسوس کے طور پر تربیت یافتہ تھا۔ رپورٹس میں مسلسل دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ ایپسٹین بلیک میلنگ آپریشنز کے لیے موساد کےکیلئے کام کرتا تھا، جو اکثر اس کے یہودی پس منظر اور اسرائیلی روابط سے منسلک ہیں۔ایسے دعووں کو سابق اسرائیلی انٹیلی جنس افسر آری بین میناشے جیسی شخصیات نے تقویت دی ہے، جنہوں نے الزام لگایا کہ ایپسٹین اور اس کی گرل فرینڈ گھسلین میکسویل۱۹۸۰ء کی دہائی سے اسرائیلی انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہے تھے۔ایپسٹین نے میکسویل کے والد رابرٹ میکسویل کو موساد کا اثاثہ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: ہلیری کلنٹن کا عوامی سماعت کا مطالبہ، کہا سب کچھ شفاف ہونا چاہئے
مارچ۲۰۱۸ء میں، ایپسٹین نے ایک نامعلوصدر کو خط لکھا، جس میں ایک کتاب کا بڑے پیمانے پر حوالہ دیا گیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ میکسویل کو اسرائیلی جاسوسوں نے قتل کیا تھا کیونکہ اس نے ان کے لیے کیے گئے کام کو ظاہر کرنے کی دھمکی دی تھی۔ایپسٹین نے الزام لگایا کہ میکسویل نے دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے ناکام کاروبار کو بچانے کے لیے ۴۰۰؍ ملین پاؤنڈ کی ادائیگینہ کی گئی تو وہ موساد کے آپریشنز کو ظاہر کردےگا۔ نومبر۱۹۹۱ء میں کینری آئی لینڈز کے قریب اپنی کشتی سے گرنے کے بعد میکسویل کی موت پر اب بھی راز کے پردے پڑے ہیں۔دریں اثناء آئی سی سی کا فرارنیتن یاہو خود بدعنوانی کے الزامات پر جاری ایک مجرمانہ مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔جہاں اس پر۲۰۱۹ء کے آخر میں رشوت، فراڈ اور اعتماد کے خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔نومبر۲۰۲۵ء میں،نیتن یاہو نے صدر اسحاق ہرزوگ سے باقاعدہ طور پر معافی کی درخواست کی تاکہ کسی بھی سزایابی سے پہلے پیشگی طور پر کارروائی ختم کی جا سکے۔ حالانکہ یہ درخواست ابھی تک حل طلب ہے۔جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عوامی طور پر مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔مزیدبرآں نیتن یاہو بین الاقوامی کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کا فرار بھی ہے، جس نے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف غزہ میں نسل کشی میں ان کے کردار کی وجہ سے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔