جنگ ہمیشہ رنگ میں بھنگ کرتی ہے۔ گزشتہ جنگ میں گھر جلے تھے، اس بار جنگ زدہ علاقوں کے علاوہ محفوظ آبادیوں کے گھروں میں چولھا جلنا بھی مشکل ہوگیا۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 4:55 PM IST | Muhammad Rafi Ansari | Mumbai
جنگ ہمیشہ رنگ میں بھنگ کرتی ہے۔ گزشتہ جنگ میں گھر جلے تھے، اس بار جنگ زدہ علاقوں کے علاوہ محفوظ آبادیوں کے گھروں میں چولھا جلنا بھی مشکل ہوگیا۔
جنگ ہمیشہ رنگ میں بھنگ کرتی ہے۔ گزشتہ جنگ میں گھر جلے تھے، اس بار جنگ زدہ علاقوں کے علاوہ محفوظ آبادیوں کے گھروں میں چولھا جلنا بھی مشکل ہوگیا۔
اس جنگ میں دو چیزوں کا بڑا شہرہ ہوا۔ ایک طرف میزائلوں کی بارش ہوئی۔ ایسی بارش جونہ کبھی دیکھی گئی اور نہ اس کی بابت سنا گیا۔ میزائل کیا ہے، یہ دراصل ایک دور مار کرنے والا ہتھیار ہے۔ اسے اُڑان بم بھی کہتے ہیں۔ اس بار اس ’اُڑان بم ‘ نے بڑے بڑوں کے ہوش اُڑا د ئیے۔ اس جنگ کے دوران دروغ گوئی کا شاندار مظاہرہ بھی ہوا۔ بے پر کی اُڑانے میں بڑوں نے بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا۔ دروغ بیانی تو جنگوں میں روا ہے مگر اس باردروغ بیانی کا معیار اور مقام بہت بلند رہا۔
یوں تو اس جنگ نے کئی غم دئیے۔ لیکن سب سے بڑا غم رسوئی گیس کے سلنڈر کا رہا۔ جو سب کا غم تھا وہی ہمارا بھی رہا۔ رسوئی گیس سلنڈر کو ٹھیٹ زبان میں ’باٹلا‘ کہتے ہیں۔ اس سے ہماری کچھ تلخ کچھ شیریں یادیں وابستہ ہیں۔ باٹلا سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ بھرا تو خیر بھرا ہے خالی باٹلا بھی وزن رکھتا ہے۔ یہ خالی برتن کی طرح نہیں ہوتا۔ پھر بھی لوگ اس کی صدا پر کان دھرتے ہیں۔ اس کی ’کھنکھناتی‘ آوازسن کر لوگ اپنی اپنی کھڑکیوں ، دروازوں پر آجاتے ہیں کہ کہیں کسی باٹلے پر ان کا نام نہ لکھا ہو۔
’باٹلا‘ سے ہماراتعلق بہت پرانا ہے۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں ہم نے گیس کنکشن کے لئے درخواست داخل کی تھی۔ جسے قبولیت کا شرف اس وقت ملا جب ہم برسرروزگار ہو گئے۔ گیس کمپنی کے مالک شمشیر خان تھے۔ لاکھوں میں ایک۔ خود بھی باٹلے کی طرح سرخ تھے۔ ان کی آواز بھی آتش بار اوران کی ہر بات بھی بڑی شعلہ ریز ہوتی تھی۔ ان کی زبان سے ’باٹلا‘ سنتے وقت ایسا لگتا تھا کہ جیسے باٹلاخود (اپنے منہ سے) بول رہا ہو۔ شمشیر خاں کے ماتحت کئی لوگ تھے، لیکن وہ سب کے سب بوتل میں بند جن کی مانند تھے۔ شمشیر ہرگاہک سے ایک پرچہ بھرواتے تھے۔ لوگ اسے ’گیس پیپر‘ کہتے تھے۔ افسوس!ہمارے اور ان کے تعلقات ہمیشہ ’گیس ‘ پر رہے۔
ُایک بات آج بھی یاد ہے۔ پہلی بار جب ’باٹلا‘ ہمارے گھر آیاتو ہمدردوں نے گلہ کیا کہ آخر یہ بکھیڑا پالنے کی کیا ضرورت تھی؟ بزرگوں کا خیال تھا کہ اس گیس سے ’گیس‘ کی شکایت کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ دوستوں نے ہمیں خود سے زیادہ ’باٹلے‘ کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق جن گھروں کے ماحول میں ناخوشگواری ہو، یا جہاں آپسی رنجش اور تنا تنی کی فضا رہتی ہووہاں مٹی کے تیل کے ساتھ ساتھ باٹلے سے بھی خبردار، ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ رفتہ رفتہ باٹلے کی حقیقت ہم پر منکشف ہوتی گئی۔ ہم اس کے طرف داروں میں شامل ہوگئے۔ پھر یوں ہواکہ باٹلا ہمارا’حوصلہ‘ اورہمارا’آسرا‘ بن گیا۔
ہمیں اس کے حصول میں کبھی دقت نہیں اُٹھانی پڑی۔ ہنگا می صورت پیش آنے پر یعنی جب باٹلے کی اضافی ضرورت پڑ جاتی تو ہم اپنے علاقے کے دو ’باٹلا باز‘ جناب خسرو اور وہ نہ ملے تو بھائی حمزہ سے غیر واجبی حقِ محنت پر ’باٹلا‘ خریدکر اپنی مشکل آسان کرتے رہے۔ پھر بھی ان دونوں غمگساروں کے ہم ہمیشہ ممنون رہے۔ ان کادھندہ مندہ کبھی نہیں رہا، خسروبہت جلدخسرو سے امیر خسرو ہوگئے۔ بھائی حمزہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ان کا کاروبار بھی مختصر مدت میں اتنا پھولا پھلا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے حمزہ سے امیر حمزہ ہو گئے۔
جنگ کی افرا تفری اور باٹلے سے مایوس ہونے پر ایک بار خیال آیا کہ کیوں نہ ’اسٹو‘ خریدا جائے لیکن جب اس باب میں چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ ان دنوں اس کا حاصل کرنا بھی جوئے شیر لانا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والے ’مٹّی کے تیل کے دن بھی پھر گئے ہیں۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا، تازہ بستیوں میں اسٹو میں استعمال ہونے والے بدبو دار تیل کا ڈیمانڈ خوشبودار تیلوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مہکتے تیلوں کی خاطر نہ قطاریں لگتی ہیں نہ آستینیں چڑھائی جاتی ہیں اور نہ ہاہا کار مچتی ہے۔ مگر مٹی کے تیل کیلئے سب کچھ ہورہاہے۔ ایک زمانہ تھا جب راشن کی دکانوں کی رونق مٹی کے تیل یعنی گھاسلیٹ کی بدولت تھی۔ گھاسلیٹ میں ابتدا ہی سے ہماری دلچسپی رہی ہے۔ ہم نے ایک مرتبہ اپنے استاد سے پوچھا بھی تھاکہ جلانے والے تیل کو گھاسلیٹ کیوں کہتے ہیں ؟استاد نئے نئے تھے اور ہر سوال کا تشفی بخش جواب دینے کی کوشش کرتے تھے۔ ہمارے اس سوال پر بولے ’’میاں !ایک گھاس جو لیٹی ہوئی ہوتی ہے اس سے یہ تیل نکالا جاتا ہے، اس لئے یہ گھاسلیٹ کہلاتا ہے۔ ‘‘
پرسوں ہم اسی خیال میں غلطاں تھے کہ سدّو بھائی سے ملاقات ہوگئی۔ تعجب ہوا کہ ان کے ساتھی براتی توباٹلے کے ساتھ ساتھ کوئلہ، لکڑی اور کیروسین کی تفتیش و تلاش میں سرگرداں ہیں اور یہ دن رات جنگوں کی خبریں سن سن کر عالمِ بے خبری میں سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہیں خوابِ غفلت سے جگاتے ہوئے ہم نے کہا’ سدّو بھائی! یہ کیاحال بنا رکھا ہے؟ہماری باتیں سن کر کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے، جنگوں کی خبروں کا معاملہ دوسری خبروں سے بہت مختلف ہے۔ موبائل پر خبریں سننے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ ایک بار موبائل اُٹھالیں تو مانندِجام یہ ہاتھ سے چھوٹتا نہیں ہے، پھر تازہ خبر کے کیا کہنے، تازہ خبر کے لئے میں نے اپنے تمام کام پسِ پشت ڈال رکھے ہیں۔ ہر تازہ خبرمجھے تازہ دم رکھتی ہےاور ہر بریکنگ نیوزمجھ میں نیا حاصلہ جگاتی ہے۔
عالمِ پریشانی میں مبتلا اور ’باٹلے‘ کے غم سے نڈھال ہونے پر بھی جی ان کی باتوں میں لگا...میں نے کہا گو میرا واسطہ چینلوں کی خبروں سے کم کم ہے، لیکن ایک بات سمجھ میں نہیں آتی‘ بولے ’کیا‘میں نے کہا حضور! ان چینلوں پر خبریں کہاں سے نکل کر آتی ہیں ؟چاند بادلوں سے نکلتا ہے، ارمان دل سے اورآنسو آنکھوں سےپھر یہ نئی نئی خبریں آخر کہاں سے نکل کر آتی رہتی ہیں ؟میری باتیں سن کر کچھ دیر خاموش رہے پھر فلسفیانہ انداز میں بولے’’یہ بڑی بچکانہ بات پوچھی ہے تم نے‘‘ دراصل ’خبر‘ امرِ واقعہ ہے اور نکلنا اسے منظرِ عام پر لانا ہے۔ اسے عرفِ عام میں ’بریکنگ نیوز‘ کہتے ہیں۔ بریکنگ نیوز کا چلن دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے۔ اسی لئے اب نیوز سے زیادہ ’بریکنگ نیوز کی اہمیت ہے۔ ان خبروں کا روشن پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں بلا واسطہ بیخودی سے جوڑدیتی ہیں کہتے ہیں کہ فی زمانہ بے خبری ‘ میں مبتلا رہنے میں بڑی عافیت ہے۔
ابھی انھوں نے اپنی بات ختم بھی نہ کی تھی کہ موبائل کی ایک ارجنٹ کال نے مجھے چونکا دیا۔ سدّو بولے ’’ کیا کوئی بریکنگ نیوز ہے‘‘ دراصل یہ کال حمزہ بھائی ’باٹلا ساز ‘کی تھی۔ جنھوں نے ایک مدت کے بعد مجھ سے رابطہ کیا تھا۔ کہہ رہے تھے’ جناب!تازہ خبر سنیے’باٹلا آگیا ہے۔ مناسب قیمت ( جو قطعی نامناسب تھی)پر دستیاب ہے۔ پہلے آئیے، پہلے پائیے‘، یہ خبر سن کر میں غش کھاتے کھاتے بچا۔ مجھے ایسا لگا جیسے اچانک جنگ بندی کا اعلان ہوگیا ہو۔