Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج تک کے تاج محل کو ہندومندر قرار دینے کے شو میں ترمیم کا ریگولیٹرکا حکم

Updated: May 30, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

نیوز ریگولیٹر نے آج تک کے شو ، جس میں تاج محل کو ہندو مندر قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ترمیم کا حکم دیا ہے،محکمہ کا کہنا ہے کہ سدھیر چودھری کا شو ’’ غیر جانبداری ‘‘ پر مبنی نہیں ہے۔

Sudhir Chaudhary. Photo: X
سدھیر چودھری۔ تصویر: ایکس

نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی نے’’ آج تک‘‘ چینل کو ہدایت دی ہے کہ وہ صحافی سدھیر چودھری کے پیش کردہ پروگرام کے ان حصوں میں ترمیم یا مناسب تبدیلی کرے جن میں تاج محل کے کبھی ہندو مندر ہونے کے دعووں پر بحث کی گئی تھی۔ بار اینڈ بنچ نے سنیچرکو یہ اطلاع دی۔ محکمہ نےتبصرہ کیا کہ یہ نشریات اس کے ضابطہ اخلاق کے تحت غیر جانبداری اور بے تعصبی کے معیارات پر پورا نہیں اترتے۔دریں اثناء جمعرات کو جاری کردہ حکم میں، اتھارٹی کے چیئرپرسن جسٹس اے کے سیکری نے مشاہدہ کیا کہ ’’جہاں براڈکاسٹر نے قطب مینار کے بارے میں دعووں کو پیش  کرتے وقت آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا( محکمہ آثار قدیمہ) کی رپورٹ پر انحصار کیا، وہیں تاج محل پر تبصرہ کرتے وقت اسی طرح کے سرکاری دستاویز کو چھوڑ دیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پیٹرول کی قلت اور داموں میں اضافے کیخلاف کانگریس کارکنان کا احتجاج

واضح رہے کہ یہ حکم ایک درخواست پر دیا گیا جس نے نیوز براڈکاسٹنگ اینڈ ڈیجیٹل اسٹینڈرڈز اتھارٹی کے دسمبر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں پروگرام میں ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نہیں پائی گئی تھی۔درخواست میں کہا گیا کہ۲۹؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو نشر ہونے والی ’’بلیک اینڈ وائٹ‘‘ کی قسط نے مسلم حکمرانوں کے ذریعے ہندو مندروں کی تباہی کے بارے میں یک طرفہ بیانیہ کو فروغ دیا۔اس میں یہ بھی استدلال کیا گیا کہ نشریات نے وسیع پیمانے پر مسترد کیے گئے اس دعوے کو تقویت دی کہ تاج محل اصل میں ایک ہندو مندر تھا، حالانکہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے ایسے دعووں کو مسترد کر دیا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ ٹی وی ٹوڈے نیٹ ورک لمیٹڈ، جو آج تک کی مالک ہے، نے نشریات کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک دستاویزی طرز کی پیشکش قرار دیا جس نے کتابوں، رپورٹوں اور دیگر  ذرائع سے دعوے جمع کیے تھے۔۲۳؍دسمبر کے اپنے حکم میں، اتھارٹی نے تبصرہ کیا تھا کہ نشریات کو ایک تاریخی بیان کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور اینکر نے پیش کردہ بیانیہ کی تائید کے لیے شائع شدہ مواد، بشمول آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹوں پر انحصار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹ پر سپریم کورٹ میں سرزنش،حکومت کو تلخ سوالوں کا سامنا

تاہم، جائزہ لینے پر اتھارٹی نے تاریخی دعوے پیش کرنے اور ایسا کرنے کے طریقے میں فرق کیا جو غیر جانبداری اور درستگی کے معیارات کے مطابق ہو۔اس نے نوٹ کیا کہ براڈکاسٹر نے کچھ حصوں میں سرکاری ریکارڈز کا حوالہ دیا تھا لیکن تاج محل پر بحث کرتے ہوئے اسی طرح کے ریکارڈز کو چھوڑ دیا۔تاہم اتھارٹی نے اپنی مداخلت کو تاج محل والے حصے تک محدود رکھا اور شکایت میں اٹھائے گئے دیگر الزامات کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا، جن میں پروگرام کے فرقہ وارانہ لہجے،۱۹۹۱ء کے مقامات عبادت خصوصی دفعات ایکٹ جیسے قانونی تناظر کے حذف ہونے سے متعلق دعوے شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK