Updated: May 30, 2026, 10:03 PM IST
| Kinshasa
کانگو میں طبی اداروں نے انتباہ دیا ہے کہ ملک میں ایبولا وبا اس کی روک تھام کی کوششوں سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے مطابق، جانچ کی سہولیات میں رکاوٹیں، سپلائی میں تاخیر اور صحت کی محدود صلاحیت وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے سنیچر کو خبردار کیا کہ مشرقی جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا کی وبا کو روکنے کی کوششوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ادارے نے کہا کہ جانچ اور لاجسٹکس میں بڑی کمیوں کے باعث اس وبا کی حقیقی شدت اور پیمانہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ دریں اثناءعالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادانوم گیبریسیوس کے شہر بونیا کے دورے کے دوران جاری کردہ ایک بیان میں، ایم ایس ایف نے کہا کہ ایتوری صوبے کی صورتحال شدید تشویش ناک ہے، اور یہ وبا گزشتہ وباؤں سے مختلف ہے کیونکہ آغاز کے فوراً بعد معاملاتمیں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس کا ایبولا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین ایجاد کرنے کا دعویٰ
بعد ازاں ایم ایس ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر آف آپریشنز ڈاکٹر ایلن گونزالیس نے کہا، ’’ایبولا کی کسی وبا میں آغاز کے بعد اتنی کم مدت میں اتنے زیادہ معاملات کبھی درج نہیں ہوئے۔ایم ایس ایف نے کہا کہ سینکڑوں مشکوک نمونوں کی جانچ ابھی باقی ہے، جبکہ سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر پابندیوں کے باعث ضروری طبی سپلائی اور ماہر عملے کی آمد میں تاخیر ہو رہی ہے جو روک تھام کی کوششوں کو بڑھانے کے لیے درکار ہیں۔گونزالیس نے کہا، ’’آج حقیقت یہ ہے کہ کسی کو بھی اس وبا کا صحیح پیمانہ اور شدت معلوم نہیں ہے۔‘‘ تاہم ادارے نے کہا کہ اس وبا میں ایبولا کی بنڈیبوگیو قسم شامل ہے، جس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں ہے، جس سے وبا پر قابو پانے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ تاہم ایم ایس ایف نے یہ بھی خبردار کیا کہ زیادہ بوجھ جھیلنے والی صحت کی سہولیات معمول کی دیکھ بھال فراہم کرنے میں جدوجہد کر رہی ہیں، جس سے ایبولا سے ہٹ کر صحت پر وسیع تر اثرات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز نہ کھلی توایندھن کے بحران کا خطرہ: آئی ایم ایف،ورلڈ بینک کا انتباہ
گروپ نے جانچ کی صلاحیت میں فوری توسیع، انسانی وسائل کی تیز تر فراہمی، اور بین الاقوامی امداد کی بہتر ہم آہنگی کا مطالبہ کیا۔ اس نے زور دیا کہ معاشرے کی شمولیت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ روک تھام پر اعتماد کریں اور علاج کے لیے آئیں۔مزید برآں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کی موجودہ وبا میں کم از کم ۱۳۴؍تصدیق شدہ معاملات درج ہوئے ہیں۔کانگولی صحت حکام نے اشارہ دیا ہے کہ نئے مشکوک معاملات درج کیے جا رہے ہیں، اور وبا کے اعلان کے بعد مجموعی تعدادایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔جبکہ تصدیق شدہ معاملات میں یوگنڈا میں درج کیے گئے ۹؍ معاملات شامل ہیں، جبکہ دونوں ممالک میں تصدیق شدہ معاملاتمیں ایبولا سے اموات کی تعداد۱۸؍ ہے۔