مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے پہلی مرتبہ آغا حشر کا نام کب سنا؟ صرف اتنا یاد ہے کہ ’’ڈراما‘‘ کا نام سننے سے پہلے اس نام سے میرے کان آشنا ہوچکے تھے۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 3:39 PM IST | Chiragh Hasan Hasrat | Mumbai
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے پہلی مرتبہ آغا حشر کا نام کب سنا؟ صرف اتنا یاد ہے کہ ’’ڈراما‘‘ کا نام سننے سے پہلے اس نام سے میرے کان آشنا ہوچکے تھے۔
مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے پہلی مرتبہ آغا حشر کا نام کب سنا؟ صرف اتنا یاد ہے کہ ’’ڈراما‘‘ کا نام سننے سے پہلے اس نام سے میرے کان آشنا ہوچکے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد میری معلومات میں اتنا اضافہ اور ہوا کہ آغا حشر جو کچھ کہتا ہے اس کا نام ڈراما ہے۔ ڈراما کی اصل کے متعلق مجھےکچھ معلوم نہیں تھا۔ ہاں کبھی کبھی یہ خیال آتا تھا کہ ڈراما اور ڈرانا کے معنی میں بہت تھوڑا فرق ہوگا۔
ہمارے پڑوس میں ایک افغان سردار رہتے تھے۔ ان کا ایک نوکر تھا جسے سب ’’آغا آغا‘‘ کہہ کے پکارتے تھے۔ بڑے کلے ٹھلے کا دیدارو جوان تھا۔سیاہ گنجان داڑھی، زلفیں چھٹی ہوئیں۔ وہ جدھر سے گزرتا تھا، لڑکے ’’آغا آغا‘‘ کہہ کے اس کے پیچھے دوڑ پڑتے تھے۔ وہ اکثر اوقات تو ہنستا ہوا گزر جاتا۔ لیکن کبھی کبھی جب وہ چرس کے نشے میں ہوتا لڑکوں کے نعرے سن کے چلتے چلتے رک جاتا۔ اپنی زبان میں چلا چلا کے کچھ کہتا اور سرخ سرخ آنکھیں نکال کے ہماری طرف اس طرح دیکھتا کہ سب سہم جاتے۔ انہی دنوں ہمارے قصبہ میں ایک اور آغا وارد ہوئے۔ یہ ہینگ بیچنے آئے تھے۔ لمبی داڑھی، بال شانوں پر بکھرے ہوئے، صدری پر میل کی تہہ جمی ہوئی۔ وہ ایک ہاتھ سے گٹھڑی سنبھالے سڑک پر کھڑے رہتے اور ’’اینگ لے لو، اینگ لے لو‘‘ پکارا کرتے تھے۔ لیکن میں نے کبھی کسی شخص کو ان سے ہینگ خریدتے نہیں دیکھا، کبھی کبھی وہ جھنجھلاکے چلا چلا کر کچھ کہتے۔ غالباً بستی کے لوگوں کو جن میں کوئی ہینگ کا قدر شناس نہیں تھا، گالیاں دیتے ہوں گے۔ اس عالم میں کوئی شخص آنکلتا تو اسے پکار کے کہتے ’’خواینگ لے لو‘‘ اگر وہ چپ چاپ گزر جاتا تو کچھ دیر بک جھک کر خاموش ہو رہتے۔ ورنہ اگر وہ جواب میں کہتا کہ مجھے ہینگ کی ضرورت نہیں، تو چلا کے فرماتے’’خوام تمہارے باپ کا نوکر ہے کہ تمہارا واسطے اتنی دور سے اینگ لایا۔ اینگ لو۔ ام سے مسخری مت کرو۔‘‘
ہماری پڑوسن بی کا خیال تھا کہ یہ موا بردہ فروش ہے۔ ننھے ننھے بچوں کو چرا کےلے جاتا ہے۔ اور بابا خلیل جُو جو مو چیوں کے پیر تھے، اس باب میں اس کے ہم خیال تھے۔
یہ بھی پڑھئے: آئینوں کے اُس پار
غرض آغا، حشر (لفظ ’’حشر‘‘سے جس قسم کے تصورات وابستہ ہیں ان کے متعلق میں نے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ کشمیری زبان میں ’’حشر‘‘ گالی ہے) اور ڈراما تینوں لفظ میرے نزدیک بہت ڈراؤنے اور بھیانک تھے اور انہوں نے میرے ذہن پر کوئی خوشگوار اثر نہیں چھوڑا۔ پھر جب ہمارے ہاں ایک ’’ڈرامیٹک کلب‘‘ کی بنیاد پڑی اور اسیر حرص، سفید خون، خواب ہستی، ہملٹ کے نام ہر شخص کی زبان سے سنائی دینے لگے، تو آغا حشر کا نام بھی بار بار زبانوں پر آنے لگا۔ اس دور افتادہ مقام میں لے دے کے یہی ایک تفریح تھی اس لئے بوڑھے بچے، جو ان سب تھیٹر دیکھنے جاتے تھے۔ مستری خدا بخش سے جو تھیٹر کے پردے بھی بناتے تھے اور میلوں میں اپنا ہنڈولا لے کر بھی پہنچ جاتے تھے، شائقین تک جن میں اکثر اسکول کے بھاگے ہوئے لڑکے تھے، میں سب کو جانتا تھا لیکن ان میں آغا حشر کوئی بھی نہیں تھا۔ مجھے یقین تھا کہ آغا حشر پردوں کے پیچھے کھڑا ہے، اس کا سر چھت سے لگا ہوا ہے، لمبی داڑھی ہے، گیسو کمر تک پہنچتے ہیں، ایک ہاتھ میں ہینگ کی گٹھڑی ہے، دوسرے میں جادو کا ڈنڈا۔ اسی کے حکم سے پردے اٹھتے اور گرتے اور ایکٹر بھیس بدل بدل کر نکلتے ہیں۔ ایک آدھ مرتبہ خیال آیا کہ کسی طرح پردے کے پیچھے جاکر اس کی ایک جھلک دیکھ لوں لیکن پھر ہمت نہ پڑی۔
میں نے جس زمانے کا ذکر کیا ہے ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا۔ جو کچھ تھا تھیٹر ہی تھیٹر تھا اور اس دنیا میں آغا حشر کا طوطی بول رہا تھا۔ یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے۔ احسن، بیتاب، طالب، مائل، سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی؟ بیچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے ’’منشی‘‘ کہلاتے تھے۔ اور یہ لقب اتنا ذلیل ہوچکا تھا کہ تھانہ کے محرر، نہر کے پٹواری، ساہوکاروں اور تاجروں کے گماشتے بھی اسے اپنے نام کے ساتھ لکھتے ہچکچاتے تھے۔
پنجاب میں اگرچہ تھیٹرنے چنداں ترقی نہیں کی اور یہاں منشی غلام علی دیوانہ اور ماسٹر رحمت کے کینڈے کے لوگ اس فن میں سندالوقت سمجھے جاتے تھے لیکن ۱۹۲۱ء میں جب مجھے پہلی مرتبہ لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو یہاں آغا حشر کی شاعری کی دھوم تھی۔ جن لوگوں نے انہیں انجمن حمایت اسلام میں نظمیں پڑھتے دیکھا تھا وہ ان کے انجمن کے جلسے میں آنے اور نظم سنانے کی کیفیت اس ذوق و شوق سے بیان کرتے تھے گویا کربلائے معلی کے محرم کا حال بیان کر رہے ہیں۔’’موجِ زمزم‘‘ اور’’شکریہ یورپ‘‘ کے اکثر اشعار لوگوں کو زبانی یاد تھے اور انہیں آغا کی طرح مٹھیاں بھینچ کر گونجیلی آواز میں پڑھنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ادیب کے تخلیقی کارنامے سماج میں پائی جانے والی حقیقتوں کا عکس ہوتے ہیں
اگرچہ آغا اپنے عروجِ شباب کے زمانے میں صرف ایک مرتبہ پنجاب آئے لیکن ان کا یہ آنا عوام و خواص دونوں کے حق میں قیامت تھا۔ یعنی جو ثقہ حضرات ڈراما کو بدوضع اور آوارہ لوگوں سے مخصوص سمجھتے تھے، ان کی رائے اس فن کے متعلق بدل گئی۔ اور کیوں نہ بدلتی؟ اسی گروہ کے ایک شخص نے انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں جو ان دنوں ایک قومی میلہ سمجھا جاتا تھا، ایسی نظم پڑھی کہ روپے پیسے کا مینہ برس گیا اور جو کام بڑے بڑے عالموں سے نہ ہوسکا، اس نے کر دکھایا۔یہ تو خواص کاحال تھا۔ آغا کے لاہور جانے نے عوام کے مذاق پر بھی اثر ڈالا اور جو لوگ ماسٹر رحمت کی غزلوں پر سردھنتے اور ان کے ڈراموں کو اس فن کی معراج سمجھتے تھے وہ بھی یک بیک چونک پڑے اور انہوں نے جان لیا کہ اس فن میں اس سے اونچا کوئی مقام بھی ہے اور ماسٹر رحمت سے بہتر ڈراماٹسٹ بھی دنیا میں موجود ہیں۔
میں ۱۹۲۵ء میں کلکتہ گیا تو آغا صاحب کلکتہ چھوڑ کرمہاراجہ ٹکاری کے ہاں جاچکے تھے لیکن ان کے ہزاروں مداح، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کلکتہ میں موجود تھے۔ ان کی زبانی آغا کی زندگی کے اکثر واقعات، ان کے لطیفے، اشعار، پھبتیاں سنیں۔ کوئی سال بھر کے بعد ایک دن کسی نے آکر کہا، کہ آغا آئے ہیں۔ فائن آرٹ پریس والے لالہ برج لال اروڑہ آغا کے بڑے عقیدتمند تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ ’’آغا آگئے، ان سے کب ملوائے گا؟‘‘ وہ کہنے لگا، ابھی چلو۔ نیکی اور پوچھ پوچھ۔ میں نے رسالہ آفتاب کے کچھ پرچے بغل میں دبائے، لالہ برج لال نے ٹوپی ٹیڑھی کرکے سر پررکھی اور بخط مستقیم آغا کے ہاں پہنچے۔ وہ ان دنوں سکی ا سٹریٹ میں رہتے تھے۔ بڑا وسیع مکان تھا۔ ڈیوڑھی سے داخل ہوتے ہی صحن تھا۔ اس کے داہنے بائیں کمرے۔ لالہ برج لال نے ان کے نوکر سے پوچھا: ’’آغا صاحب کہاں ہیں؟‘‘ اس نے بائیں ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔ صحن سے ملا ہوا ایک وسیع کمرہ تھا۔ اس میں ایک چار پائی اور دو تین کرسیاں پڑی تھیں۔ چار پائی پر آغا صاحب لنگی باندھے اور ایک کرتا پہنے لیٹے تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی اٹھ بیٹھے۔ اب جو دیکھتا ہوں تو ہینگ والے آغا اور اس آغا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ سر پر انگریزی فیشن کے بال، داڑھی منڈی ہوئی، چھوٹی چھوٹی مونچھیں، دوہرا جسم، سرخ و سپید رنگ اور میانہ قد۔ ایک آنکھ میں نقص تھا۔ محفل میں بیٹھے ہوئے ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ میری طرف ہی دیکھ رہے ہیں۔ بڑے تپاک سے ملے۔ پہلے لالہ برج لال سے خیر و عافیت پوچھی پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور ادبی ذکر و افکار چھڑ گئے۔
یہ بھی پڑھئے: مشکل الفاظ کا درست اِملا لکھنا کتنے طلبہ جانتے ہیں؟
آغا صاحب نے اگرچہ ہزاروں کمائے اور لاکھوں اڑائے لیکن ان کی معاشرت ہمیشہ سیدھی سادی رہی۔ مکان میں نہ نفیس قالین تھے، نہ صوفے، نہ کوچ، نہ ریشمی پردے، نہ غالیچے۔ نفیس کپڑے پہننے کابھی شوق نہ تھا۔ گھر میں ہیں تو لنگی باندھے، ایک بنیان پہنے کھری چار پائی پر بیٹھے ہیں۔ باہر نکلے ہیں تو ریشمی لنگی اورلمبا کرتا پہن لیا۔ میں نے پہلی مرتبہ انہیں اسی وضع میں دیکھا اور زندگی کے آخری ایام میں جو لاہور میں گزرے ان کی یہی وضع تھی۔ ہاں اکثر لوگوں سے اتنا سنا ہے کہ لاہور منتقل ہونے سے پہلے وہ کلکتہ میں بڑے ٹھاٹھ سے رہتے تھے۔
آغا بڑے حاضر جواب اور بذلہ سنج شخص تھے۔ جس محفل میں جا بیٹھے تھے، سب پر چھا جاتے تھے۔ ان کے ملنے والوں میں اکثر لوگ ضلع جگت میں طاق اور پھبتی میں مشاق تھے۔ اور جب شام کو صحبت گرم ہوتی، تین تین چار چار آدمی مل کے آغا پر پھبتیوں کا جھاڑ باندھ دیا کرتے تھے۔ لیکن آغا چومکھی لڑنا جانتے تھے۔ حریف دم بھر میں ہتھیار ڈال دیتا لیکن آغا کی زبان نہ رکتی تھی۔ اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک بانکا پھکیت سرد ہی کے ہاتھ پھینکتا چلاجارہا ہے۔ کبھی کمر کو بتاکے سر پر وار کیا، کبھی پالٹ کا ہاتھ مارا، کبھی داہنے سے کبھی بائیں سے۔ اس فن میں ان کا کوئی حریف نہیں تھا۔ البتہ حکیم صاحب (شفاء الملک حکیم فقیر محمد صاحب چشتی نظامی مرحوم جو آغا مرحوم کے جگری دوست تھے) سے آغا کی بھی کور دبتی تھی۔ جس شخص سے بے تکلفی بڑھانا منظور ہوتا اسے اس بے ساختگی سے گالی دے بیٹھتے تھے کہ بیچارا حیران رہ جاتا تھا۔
’’گالی‘‘ کا نام سن کر کچھ لوگ کہیں گے کہ گالی دینا کہاں کااخلاق؟ لیکن آغا کنجڑے قصابوں جیسی گالیاں تھوڑے ہی دیتے تھے۔ انہوں نے ’’گالی‘‘ کو ادب و شعر سے ترقی دے کر ایسی خوش نما چیز بنادیا تھا کہ مرحوم اگر کچھ دنوں اور زندہ رہتے تو اس کا شمار فنونِ لطیفہ میں ہونے لگتا۔ اصل میں آغا ایک تو یوں بھی بڑے ذہین اور طباع شخص تھے۔ پھر انہوں نے جوانی میں ہی تھیٹر کی طرف توجہ کی جہاں دنیا بھر کے بگڑے دل جمع تھے۔ رات بھر نوک جھونک کا بازار گرم رہتا تھا۔ کچھ تو ان صحبتوں میں ان کی طبیعت نے جلا پائی، اس پر مطالعہ کا شوق سونے پر سہاگہ ہوگیا۔وہ ہرقسم کی کتابیں پڑھتے تھے۔ ادنیٰ قسم کے بازاری ناولوں، اخباروں، رسالوں سے لے کر فلسفہ اور مابعد الطبیعات کی اعلیٰ تصانیف تک سب پر ان کی نظر تھی۔ اور فضل بک ڈپو سے دارالمصنفین تک وہ سارے اداروں کی سرپرستی فرماتے تھے۔ کلکتہ میں ان کا معمول یہ تھا کہ سہ پہر کو گھر سے نکلے اور بخط مستقیم اخبار عصر جدید کے دفتر میں پہنچے۔ پہلے سارے اخبار پڑھے، پھر رسالوں کی نوبت آئی۔ کبھی ریویو کے لئے کوئی کتاب آگئی تو وہ بھی آغا صاحب کی نذر ہوئی۔ کچھ اخبار اور رسالے تو وہیں بیٹھے بیٹھے دیکھ لئے۔ جو بچ رہے انہیں گھر لے گئے۔ بازار میں چلتے چلتے کتابوں کی دکان نظر آگئی، کھڑے ہوگئے۔ اچھی اچھی کتابیں چھانٹ کے بغل میں دبائیں اور چل کھڑے ہوئے۔ راستہ میں کسی کتاب کا کوئی گرا پڑا ورق دکھائی دیا تو اسے اٹھالیا اور وہیں کھڑے کھڑے پڑھ ڈالا۔ نوکر بازار سے سودا سلف لے کر آیا ہے، بنئے نے اخباروں اور کتابوں کے اوراق میں پڑیاں باندھ کے دی ہیں۔ یکایک آغا صاحب کی نظر پڑگئی۔ نوکر سے پوچھ رہے ہیں اس پڑیا میں کیا ہے؟ شکر! اچھا شکر ڈبے میں ڈالو۔ پڑیا خالی کرکے لاؤ۔ اسے کہیں پھینک نہ دیجیو، یہ بڑے کام کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ خدا جانے کسی اخبار کے ورق ہیں یا کتاب کے، بہر حال مجھے ان پر شبلی کا نام لکھا نظر آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وے صورتیں الٰہی… امتیاز علی تاج کی ۵۶؍ ویں برسی (۱۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء) پر
مطالعہ سے آغا کے شغف کا حال سن کر شاید بعض لوگوں کا خیال ہو کہ انہوں نے بہت بڑا کتب خانہ جمع کرلیا ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ کتب خانہ چھوڑ ان کے ہاں دس پانچ کتابیں بھی نہیں تھیں۔ ایک تو ان کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ ایک مرتبہ کوئی کتاب پڑھ لیتے تھے تو اسے دوسری مرتبہ دیکھنے کی ضرورت نہیں رہتی تھی۔ دوسرے ان کی طبیعت علائق سے گھبراتی تھی۔ کتابیں سینت سنبھال کے رکھنے کے جھنجھٹ میں کون پڑے۔ ان کا تو بس یہ حال تھا کہ کتاب آئی، پڑھ کے مکان کے کسی گوشے میں ڈال دی۔ کوئی ملنے والا آیا اور اٹھا کے لے گیا۔
یہ اسی مطالعہ کی برکت تھی کہ ان کی معلومات پر لوگوں کو حیرت ہوتی تھی۔ طب ہو یا فلسفہ، شاعری ہو یا ادب، کسی موضوع میں بند نہیں تھے۔ اور جہاں علم ساتھ نہیں دیتا تھا وہاں ان کی ذہانت آڑے آجاتی تھی۔ بازار سے نئی جوتی منگوائی ہے۔ کسی نے پوچھا آغا صاحب کتنے کی مول لی ہے؟ بس آغا صاحب نے جوتی کے فضائل اور محاسن پر تقریر شروع کردی۔ چمڑے کی مختلف قسموں، دباغت کے طریقوں، جوتی کی وضع قطع، ایک ایک چیز پر اس تفصیل سے بحث کر رہے ہیں گویا کسی نہایت اہم مسئلہ پر گفتگو ہو رہی ہے۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد جب ان کی تقریر ختم ہوئی تو سننے والوں کو یہ احساس تھا کہ آغا صاحب کی جوتی کو سچ مچ تاریخی حیثیت حاصل ہے۔
آغا مناظرہ کے میدان کے شیر تھے۔ جس محفل میں جابیٹھتے تھے، سب پر چھا جاتے تھے۔ باقاعدہ تعلیم تو واجبی تھی لیکن مطالعہ نے انہیں کہیں سے کہیں پہنچا دیا تھا۔
ایک دن میں نے کہا، آغا صاحب جی چاہتا ہے آپ کی سوانح حیات لکھ ڈالوں۔ کہنے لگے:’’میری سوانح حیات میں کیا پڑا ہے:حاصل عمرم سہ سخن بیش نیست = خام بدم، پختہ شدم، سوختم۔ بزرگوں کا وطن کشمیر ہے۔ وطن میں ان پر کچھ ایسی افتاد پڑی کہ امرتسر اٹھ آئے۔وہاں سے والد مرحوم شالوں کی تجارت کے سلسلہ میں بنارس پہنچے اور وہیں ڈیرے ڈال دیئے۔ ہر چند انہوں نے میری تعلیم میں سعی کی لیکن جی نہ لگا۔ فارسی کی چند کتابیں پڑھ کر چھوڑ دیں۔ ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں کہ بنارس سے بھاگ کر بمبئی پہنچا۔ وہاں پارسیوں نے تھیٹر کا ایسا طلسم باندھ رکھا تھا کہ ادنیٰ و اعلیٰ سب اس پر غش تھے۔ میں نے بھی ڈرامہ لکھنے کو ذریعہ معاش بنایا اور ایک دو ڈرامے لکھ کر شیکسپئر پر ہاتھ صاف کیا۔ اگرچہ ان دنوں بمبئی میں بڑے بڑے انشاء پرداز اور شاعر موجو دتھے لیکن خدا کی قدرت کہ تھوڑے دنوں میں سب گرد ہوگئے۔ لو میری سوانح حیات کا بہت بڑا حصہ تو چند لفظوں میں ختم ہوگیا۔‘‘
ایک دن کہنے لگے’’تمہیں معلوم ہے، جوانی کے زمانے میں ہمارے دوست کون کون لوگ تھے؟‘‘
میں نے کہا’’نہیں!‘‘
کہنے لگے:’’بزرگوں میں مولانا شبلی مرحوم، نوجوانوں میں ابونصر غلام یٰسین آہ، یہ تمہارا ابوالکلام اور حکیم فقیر محمد چشتی۔ لیکن بھائی میں نے ابونصر آہؔ جیسا ذہین آدمی نہیں دیکھا۔ جانتے ہو آہ کون تھا؟ ابوالکلام کا بڑا بھائی۔ بیچارے نے جوانی میں انتقال کیا۔ زندہ رہتا تو لوگ ابوالکلام کو بھول جاتے۔ آہ نے وفات پائی۔ ابوالکلام اور میں دونوں، برسوں سے ایک ہی شہر میں رہتے ہیں لیکن سلام و کلام تک ترک ہے۔‘‘ پھر کچھ دیر خاموش رہ کے بولے ’’وہ زمانہ بھی عجیب تھا۔ میں ڈرامے بھی لکھتا تھا، شراب بھی پیتا تھا، نہ کبھی نماز پڑھی نہ روزہ رکھا، لیکن دینی حرارت سے دل گداز تھا۔ آریہ اور عیسائی اسلام پر اعتراض کرتے تھے اور میں اور ابوالکلام انہیں جواب دیتے تھے۔ ‘‘
آغا نے اگرچہ لاکھوں کمائے اور لاکھوں ہی اڑائے لیکن وہ تنہا خوری کے عادی نہیں تھے۔ جب روپیہ آتا تھا اس میں سب عزیزوں کے حصے لگائے جاتے تھے۔ قریب کے رشتہ داروں کو تو انہوں نے ہزاروں لاکھوں دے ڈالے۔ والدہ کی ایسی خدمت کی کہ کوئی کیا کرے گا لیکن دور کے رشتہ داروں کو بھی وہ کبھی نہ بھولے۔ ان کے عزیزوں میں کئی بیوائیں اور یتیم بچے تھے۔ ان سب کے درماہے مقرر تھے۔ روپیہ آتا تھا تو جس کا جو حصہ مقرر تھا اسے گھر بیٹھے پہنچ جاتا تھا۔ غرض آغا کی ذات کئی بے کسوں کی زندگی کا سہارا بنی ہوئی تھی۔ ان کے اٹھتے ہی یہ سہارا مٹ گیا۔
آغا کے کلام اور ان کے ڈراموں پر تبصرہ کرنا میرا فرض نہیں۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ شعر بہت جلد کہتے تھے۔ مولانا ظفر علی خاں کے بعد اگر میں نے کسی کو اس قدر جلد شعر کہتے دیکھا تو وہ آغا تھے۔ شعر خود نہیں لکھتے تھے بلکہ دوسروں کو لکھوادیتے تھے۔ ڈراموں کا بھی یہی حال تھا۔ اصل میں انہیں لکھنے سے نفرت سی تھی۔ عمر بھر کبھی کسی کو خط کا جواب نہیں دیا اور جواب دیا بھی تو اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا۔کئی موقعوں پر ایسا ہوا کہ میں نے ایک مصرع پڑھا۔ انہوں نے برجستہ دوسرا مصرع کہہ دیا اور چند منٹوں میں غزل ہوگئی۔ ان کی غزلوں میں ایک سرمستی اور جوش ہے جو اردو میں ان کے سوا کسی کے ہاں نظر نہیں آتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ غزل گوئی کا اثر ان کے ڈراموں پر بھی پڑا ہے۔ یعنی جس طرح غزل میں ہر شعر مستقل حیثیت رکھتا ہے، اسی طرح ان کے ڈراموں کے مختلف اجزاء تو اپنی اپنی جگہ خوب ہیں لیکن آپس میں مل کر وہ اپنا حسن کسی حدتک کھو بیٹھے ہیں۔ گویا یوں کہنا چاہئے کہ آغا کے ڈراموں کا حسن اجزا میں ہے، کل میں نہیں ۔