Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میں ویب شوز اور فلموں کے ذریعہ دوبارہ اپنے کریئر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں‘‘

Updated: April 26, 2026, 2:00 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

فلم اور ٹی وی اداکاراَمل سہراوت کا کہنا ہے کہ میں نے انڈسٹری سے ۳؍ سال کا وقفہ لے کر کاروبار شروع کیا تھا لیکن اب میں ایک بار پھر یہیں قدم جمانے کیلئے کوشاں ہوں۔

Amal Sehrawat. Photo: INN
امل سہراوت۔ تصویر: آئی این این

۲۰۱۳ء میں رام گوپال ورما کی فلم ’ستیہ۲‘ سے اپنے فلمی کریئر کی شروعات کرنے والے اداکاراَمل سہراوت نے فلموں کے بعد ٹی وی شوز کے ذریعہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ اس کے بعد انہوں نے وکرم بھٹ کی ویب سیریز میں کام کیا۔ ان کے ۱۰؍سالہ کریئر میں کئی اتارچڑھاؤ آئے۔ کورونا کے دوران انہوں نے اپنے والد کو بھی گنوا دیا جس کی وجہ سے ان پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ دسمبر۲۰۲۲ء میںانہوں نےاپنا آخری ٹی وی شوختم کیا اور اپنے وطن گروگرام لوٹ گئے۔ اس دوران شوبزانڈسٹری سے وقفہ لے کر انہوں نے اپناکاروبار شروع کیا اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی تاہم اب وہ ایک بار پھر شوبزانڈسٹری میں کام کی تلاش کررہے ہیں۔ انہوں نے نئے جوش کے ساتھ انڈسٹری میں کام تلاش کرنا شروع کردیا ہے۔ نمائندہ انقلاب نے ٹی وی اور فلم اداکاراَمل سہراوت سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:

 اس وقت آپ کی مصروفیات کیا ہیں؟ ٹی وی شوز کررہے ہیں یا پھر فلموں میں کام کررہے ہیں؟

ج: دسمبر ۲۰۲۲ء میں میں نے اپنا آخری شو ختم کیا تھا جو کلرس چینل پر پیش ہوتا تھا اورجس کانام ’ہر پھول موہنی ‘ تھا۔ اس وقت مجھے ایسا لگا تھا کہ شو بزانڈسٹری کا کام ڈائنامک ہے مطلب یہ کہ اگر کام ہے تو بہت زیادہ ہے ورنہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اس وقت میرے ذہن میں بات آئی کہ آمدنی کا کوئی متبادل ذریعہ بھی ہونا چاہئے، اسلئے میں اپنے وطن گروگرام  چلا گیا جہاں ۲؍ ہوٹلیں بنوائیں۔ دونوں ہوٹلوں کی تعمیر کے بعد میں نے انہیں لیز پر دے دیا ہے۔مالک کے کرم سے اب یہ دونوں ہوٹلس بہت اچھے چل رہے ہیں۔ یہ ہوٹلس بہتر انداز میں کام کررہے ہیں اسلئے مجھے بڑی حد تک معاشی اطمینان حاصل ہے، لہٰذا میں نے  اپنے بنیادی کام کی طرف لوٹنے کا فیصلہ کیا اور اب ممبئی آگیاہوں۔  

یہ بھی پڑھئے: موشمی چٹرجی نے ہر کردار کو پوری شدت کے ساتھ نبھایا

کیا آپ کام پانے کیلئے آڈیشن دے رہےہیں؟  

ج:اس وقت میں نریشن میں مصروف ہوں۔ میں نے پچھلے ماہ آڈیشن دینا شروع کردیا تھا اور دو جگہ سے مثبت جواب بھی ملا تھا۔اگلے ہفتے پھر نریشن ہونے والا ہے اور امید کرتا ہوں کہ اس میں مجھے کامیابی ملے گی۔ کوشش یہی ہے کہ کوئی اچھا شو مل جائے تو میں دوبارہ پردے پر لوٹ آؤں۔

 اس بار کس میڈیم سے اداکاری کی شروعات کرنے والے ہیں؟

ج:اس بار ٹی وی شوز پر زیادہ توجہ دینے کا ارادہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے اس بار ویب اور فلموں کے پروڈکشن ہاؤس کے چکر لگانے کا فیصلہ کیاہے۔ ٹی وی شو ز میں وقت بہت زیادہ لگتاہے اور شوٹنگ میں مصروف رہنا ہوتاہے۔ آپ ایک سال تک کوئی اور کام نہیں کرسکتے۔ حالانکہ میرے پاس ٹی وی شوز کی پیشکش ہے لیکن میں اس جانب جانے سےگریز کررہا ہوں۔میں اداکاری میں ویب اور فلم سے شروعات کرنے کا خواہشمندہوں۔ اس میں زیادہ وقت نہیں لگتاہے۔  

کس طرح کے رول کرنے کا ارادہ ہے ؟  

ج:جیساکہ میں نے بتایا کہ میں ٹی وی شوز پرکم توجہ دے رہاہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ فلم اور ویب پر کوئی بھی رول  قبول نہیں کروں گا۔ اس بار میں نے طے کیا ہے کہ مطمئن ہوکر رول کا انتخاب کروں گا۔ اس بار روپوں کی کمی نہیں ہے کیونکہ دونوں ہوٹلس بہت اچھے چل رہے ہیں اور وہاں سے اچھی آمدنی ہورہی ہے۔ اس بار وہ رول کرنے ہیں جس سےمیں مطمئن رہوں۔ میں ایسے رول ادا کرنا چاہتاہوں جس میں میں اپنے فن اور صلاحیتوں کو بخوبی پردے پر پیش کرسکوں۔   

کیا آپ ورٹیکل میں بھی قسمت آزمانا چاہتے ہیں؟ 

ج:میں نے اب تک کوئی ورٹیکل نہیں دیکھی ہے، اسلئے مجھے اس کے بار ےمیں زیادہ معلومات نہیں ہے۔ میرے پاس ۲؍ ورٹیکل کی پیشکش آئی تھی لیکن میں اس کے بارے میں زیادہ جانتا نہیں تھا، اسلئے میں نے انکار کردیا۔ دوسرے ان کا بجٹ بھی کم تھا اسلئے میں نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ مجھے پہلے ورٹیکل کے بجٹ اور دیگر چیزوں کے بارے میں سمجھنا ہے اور اس کے بعد میں اس میڈیم میں قسمت آزمانا چاہوں گا۔ میں نے ورٹیکل کے لئے دروازے بند نہیں رکھے ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے: امال ملک کا دعویٰ: ’’مرڈر‘‘ میوزک پروجیکٹ انو ملک نے مفت آفر دے کر حاصل کیا

آپ ہندی زبان کی انڈسٹری کے علاوہ کسی اور انڈسٹری میں بھی کام تلاش کررہے ہیں؟

ج:ہندی زبان کی انڈسٹری میں کام کیلئے میری تلاش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں جنوبی ہندو ستان کی کسی بھی انڈسٹری میں کام کرنے کیلئے تیارہوں۔ میں ملیالم ، تیلگو ،تمل اور کنٹر زبان کی انڈسٹری میں بھی کوشش کررہا ہوں۔ ان دنوں وہاں کی انڈسٹری بہت اچھا کام کررہی ہے اور ہندی زبان کے ہدایتکار اور فلمساز بھی جنوبی ہند کی فلمیں بنارہے ہیں۔ ایک اچھی بات یہ کہ میں وہاں کی انڈسٹری میں کسی بھی رول کیلئے فٹ ہو جاتاہوں۔ میرا قد اور جسامت وہاں کی انڈسٹری کی مناسبت سے کافی بہتر ہے۔ ایسے میں بہت ممکن ہے کہ میں جنوبی ہند کی انڈسٹری کی فلموں میں نظرآؤں۔ 

اس وقفےکے دوران کیا آپ نے اداکاری سے ناطہ توڑ لیا تھا؟   

ج:میں نےاداکاری سے ناطہ بالکل بھی نہیں توڑا تھا۔ ان تین برسوں میں، میں نےدہلی میں کئی ورکشاپ میں شرکت کی تھی اور وہاں کے ۲؍ ورکشاپس میں مہمان لیکچرار کی حیثیت سے رہنمائی بھی کی تھی۔ دہلی میں مکیش چھابڑا کے ورکشاپس میں بھی شرکت کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دہلی میں رہتے ہوئے میں وہاں کے تھیٹر سرکل سے وابستہ رہا۔ میں تھیٹرکے شوز دیکھا کرتا تھا اور کسی کو مدد یا تعاون کی ضرورت ہوتی تو وہ بھی کردیا کرتا تھا۔ میں نے۳؍ سال میں اداکاری سے کبھی ناطہ نہیں توڑا اور نہ توڑنے کا خواہشمند ہوں۔  

کیا آپ نے ہوٹل شروع کرنے کافیصلہ پہلے ہی کرلیا تھا؟

ج: شوبز انڈسٹری میں جوکام ہوتاہے وہ سیزنل ہوتاہے ، مثلاً آپ کے پاس کام ہے تو اتنا ہے کہ آپ کو سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوگی ، اگر کام نہیں ہے تو آپ کو کئی مہینوں تک ایک رول کا انتظار کرنا ہوتاہے۔ اگر اس دوران آپ اپنے اخراجات سنبھال سکتے ہیں تو آپ ورکشاپس میں شرکت کرسکتے ہیں، آپ شارٹ فلم میں بھی کام کرسکتے ہیں یا اپنی شارٹ فلم بھی بناسکتے ہیں لیکن جب آپ مالی طورپر مضبوط نہیں ہوتے تو آپ کو آمدنی کے دیگر ذرائع کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے۔ یہی سوچ کرمیں نے کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گروگرام میں میری بہت زمین ہے اور میں ہاسپلیٹی کے شعبے کو پسند کرتا تھا، اس لئے میں نے ہوٹلس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ میں  خوداس کا کام کاج نہیں دیکھتا ہوں۔   

یہ بھی پڑھئے: ’’عاشقی ۲‘‘ کی ری ریلیز کی مانگ، شردھا کپور کے کلپ نے نئی بحث چھیڑ دی

کیا آپ سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں؟

ج: گزشتہ ۲؍ماہ سے میں سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم ہوں۔  جس وقت میں نے انڈسٹری سے وقفہ لیا تھا، اس وقت میں  سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم نہیں تھا کیونکہ میں اس پلیٹ فارم کا استعمال صرف اپنے کام کیلئے کرنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا ہوںکہ کاسٹنگ ڈائریکٹر اور انڈسٹری سے وابستہ دیگر افراد سوشل میڈیا پر میرا کام دیکھیں۔میں اپنی ذاتی چیزیں سوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کرتا تھا کیونکہ یہ میرا کام نہیں ہے۔اُن ۳؍ برسوں میں، میں نے یہ نہیں بتایا کہ میرا ہوٹل کتنا بناہے اور اس کے کتنے کمرے تیار ہوئے کیونکہ کوئی بھی یہ سب نہیں دیکھنا چاہے گا۔ 

انڈسٹری میں اور کیا کرنے کا ارادہ ہے؟

ج: انڈسٹری میں اتنا تجربہ حاصل ہوگیا ہے کہ میں کہانیوں کو اچھی طرح سمجھ لیتا ہوں اور انہیں پروڈیوس کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہوں۔اگر میں ایکٹنگ کے علاوہ کچھ اور کرنا چاہوں تو کہانیوں کو پروڈیوس کرنا چاہوںگا۔ میں ہدایتکاری نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا تجربہ نہیں ہے۔ میں اداکاری بخوبی نبھا سکتاہوں اور کہانیوں کو پروڈیوس کرسکتاہوںلیکن اس کیلئے ابھی وقت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK