Inquilab Logo Happiest Places to Work

موشمی چٹرجی نے ہر کردار کو پوری شدت کے ساتھ نبھایا

Updated: April 26, 2026, 12:54 PM IST | Mumbai

موشمی چٹرجی ہندی اور بنگالی سنیما کی ان چند اداکاراؤں میں سےہیں جنہوں نے شادی کے بعد کریئر شروع کر کے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

Beautiful actress Moushumi Chatterjee. Photo: INN
خوبصورت اداکارہ موشمی چٹرجی۔ تصویر: آئی این این

موشمی چٹرجی ہندی اور بنگالی سنیما کی ان چند اداکاراؤں میں سےہیں جنہوں نے شادی کے بعد کریئر شروع کر کے کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ ۲۶؍اپریل ۱۹۴۸ءکو کولکتہ میں پیدا ہونے والی موشمی کا اصل نام اندرا تھا۔ ان کا تعلق ایک قدامت پسند فوجی خاندان سے تھا۔ دادا جج تھے اور والد فوج میں۔ بچپن سے ہی فلموں کا شوق تھا اور اسکول سے بھاگ کر فلمیں دیکھنے جایا کرتی تھیں۔

موشمی کی قسمت اس وقت بدلی جب وہ پانچویں جماعت میں تھیں۔پڑوس میں رہنے والے ہدایت کار ترون مجمدار نے انہیں اسکول سے آتے دیکھا اوراپنی بنگالی فلم ’بالیکا بدھو‘ (۱۹۶۷ء)کے لیے سائن کر لیا۔ فلم سپرہٹ ہوئی اور۱۹؍سال کی موشمی نے ایک کم عمر دلہن کاکردار اتنی خوبصورتی سے نبھایا کہ انہیں فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی کردار بعد میں جیا بچن نےہندی ریمیک ’اپہار‘میں کیا۔اس فلم کےمیوزک ڈائریکٹر مشہور گلوکار ہیمنت کمار تھے۔ انہوںنےموشمی کو پسند کیا اور اپنے بیٹےجینت مکھرجی سے ان کی شادی کرا دی۔ یوں موشمی نے دسویں جماعت کے بعد ہی شادی کر لی اور ممبئی آ گئیں۔

یہ بھی پڑھئے: امال ملک کا دعویٰ: ’’مرڈر‘‘ میوزک پروجیکٹ انو ملک نے مفت آفر دے کر حاصل کیا

سسر ہیمنت کمار نے ہی انہیں اداکاری جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ شکتی سامنت کی ’انوراگ‘(۱۹۷۲ء)موشمی کی پہلی ہندی فلم تھی جس میںانہوں نے اندھی لڑکی کاکردارکیا۔ فلم جوبلی ہٹ ہوئی اور موشمی کو بیسٹ ایکٹریس کا فلم فیئر ملا۔ ۱۹۷۰ءکی دہائی میں وہ ٹاپ ہیروئن بن گئیں۔’کچے دھاگے‘(۱۹۷۳ء)میںونود کھنہ اور کبیر بیدی کےساتھ، ’زہریلا انسان‘۱۹۷۴ء)میں رشی کپور کے ساتھ،’روٹی کپڑا اورمکان‘ (۱۹۷۴ء)میںمنوج کمار کے ساتھ ان کے کردار یادگار رہے۔اس فلم کیلئےانہیں بیسٹ سپورٹنگ ایکٹریس کا فلم فیئر ملا۔باسو چٹرجی کی ’منزل‘ (۱۹۷۹ء)میں امیتابھ بچن کے ساتھ ’رِم جھم گرے ساون‘ گانا آج بھی کلاسک ہے۔ گلزار کی ’انگور‘ (۱۹۸۲ء)میںسنجیو کمارکے ساتھ ان کی مزاحیہ اداکاری کو بہت سراہا گیا۔ امیتابھ بچن نےخود کہا تھا کہ موشمی کے ساتھ کام کرتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی تھی کیونکہ ’پتہ نہیں وہ اگلے لمحے کیا بول دیں‘۔ دونوں کی جوڑی’بےنام‘ (۱۹۷۴ء) اور ’منزل‘میں فلاپ رہی، مگر ۳۶؍سال بعد فلم ’پیکو‘ (۲۰۱۵ء) میں ہٹ ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’عاشقی ۲‘‘ کی ری ریلیز کی مانگ، شردھا کپور کے کلپ نے نئی بحث چھیڑ دی

۱۹۸۵ءکے بعد موشمی نے ماں اور بھابھی کے کرداروں کی طرف رخ کیا۔’گھائل‘ (۱۹۹۰)میں سنی دیول کی بھابھی کے کردار میںانہوں نے گہرائی پیدا کی۔ ۱۹۹۰ءکی دہائی میں راجیش کھنہ کے ساتھ ’گھر پریوار‘ اور ’آ اب لوٹ چلیں‘، جیتندر کے ساتھ ’سنتان‘، ’پرتیکشا‘ اور’ادھار کی زندگی‘میں لیڈ رول کیے۔ ۲۰۰۳ءمیں انڈو-کینیڈین فلم ’بالی ووڈ/ہالی ووڈ‘کی۔۲۰۰۶ءمیں ’زندگی راکس‘ سےکم بیک کیا۔۲۰۱۵ءمیں’پیکو‘ میں دپیکا پڈوکون کی ’ماسی‘بن کر سب کا دل جیت لیا۔ بنگالی سنیما میں ’گوئنار بکشو(۲۰۱۳ء)پر بیسٹ سپورٹنگ ایکٹریس کا فلم فیئر جیتا اور۲۰۱۵ءمیں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK