Inquilab Logo

بچپن کی یادیں

Updated: July 08, 2024, 4:35 PM IST | Shakeel Ijaz | Akola

بچہ اپنی دلچسپیاں اپنی فطرت میں لے کر ہی پیدا ہوتا ہے۔ تین چار برس کا تھا۔ مجھے یاد ہے ابا جان نے ایک کیلنڈر دیوار پر لٹکایا جس میں ایک رنگین تصویر تھی، ۲؍ہرے رنگ کے طوطے بیٹھے ہوئے ہیں اور زمین پر بیٹھی ایک بلی ان کو دیکھ رہی ہے۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

بچہ اپنی دلچسپیاں اپنی فطرت میں لے کر ہی پیدا ہوتا ہے۔ تین چار برس کا تھا۔ مجھے یاد ہے ابا جان نے ایک کیلنڈر دیوار پر لٹکایا جس میں ایک رنگین تصویر تھی، ۲؍ہرے رنگ کے طوطے بیٹھے ہوئے ہیں اور زمین پر بیٹھی ایک بلی ان کو دیکھ رہی ہے۔ یہ کسی آرٹسٹ کی بنائی ہوئی تصویر تھی یعنی فوٹوگراف نہیں تھا۔ اس زمانے میں کیلنڈروں پر زیادہ تر ہاتھ کی فنکاری ہوتی تھی۔ میں دن میں کئی بار اس کیلنڈر کے سامنے رک جاتا اور اس کو دیر تک دیکھتا رہتا تھا۔ اس وقت مجھے پنسل، کاغذ اور ڈرائنگ کچھ معلوم نہ تھا لیکن تصویروں کو دیکھ کر محظوظ ہونا میری فطرت میں شامل تھا۔ 
 دوسری جماعت میں تھا کہ ایک روز بہت بڑی سفید وین جس پر’ سرخ پلس‘ کا نشان بنا تھا، اسکول آئی اور بچوں کو ٹیکے د ئیے جانے لگے۔ ٹیکے کی چبھن اور درد سے بچے رونے لگے، بھاگنے لگے، پکڑ پکڑ کر ٹیکے لگائے گئے، اس کے بعد چھٹی دے دی گئی۔ تب سے اس وین کو شہر میں کہیں بھی دیکھ کر ہی ڈرنے لگا۔ اگلے سال پھر یہی وین اسکول میں داخل ہوئی تو اسے دیکھتے ہی ہم لوگ رونے لگے تھے حالانکہ وہ اس وقت ٹیکے دینے نہیں آئی تھی۔ 
 تیسری جماعت میں تھا تو ہمارے استاد نے ایک نظم مجھے یاد کرائی، پھر ہارمونیم اور طبلے کے ساتھ اسے گانے کی مشق کرائی گئی۔ یوم جمہوریہ پر اکولہ میونسپل کمیٹی کی سیاہ پتھروں والی عظیم الشان اور خوب اونچی عمارت کے بہت اونچے دروازے میں ڈائس بنا تھا۔ نظم سنانے کے لئے میرا نام پکارا گیا۔ بہت سارے لوگوں کو سامنے دیکھ کر جی گھبرا گیا، سر تال اور تال میل سب بے ہوش ہو گئے۔ جس طرح بن پڑا، میں نے نظم پڑھنی شروع کی۔ میری نظم کی رفتار دیکھ کر ہارمونیم اور طبلے کی آوازیں میری آواز کے ساتھ بھاگنے لگیں۔ نظم ختم ہوئی تو تالیوں کی آوازیں آ رہی تھیں لیکن ہارمونیم اور طبلہ ماسٹر دونوں پسینہ پونچھتے ہوئے مجھے گھور کر دیکھ رہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:تبصرہ نگاری ایک طرح کی گواہی ہے

چوتھی جماعت میں کامیاب ہوئے تو پانچویں میں داخلے کے لئے اسکول تبدیل کرنی پڑی۔ اب ہاتھ پیروں اور دماغ میں اتنی طاقت محسوس ہونے لگی تھی کہ والدین سے کسی چیز کیلئے ضد اور ہڑتال کرسکیں۔ نیا اسکول، نئے لوگ، نئے ماحول سے تعارف ہوا۔ تب جولائی کا مہینہ تھا، موسلادھار بارشیں تھیں۔ اسکول کے راستے میں جگہ جگہ گھاس اور تروٹے کے پودوں کی خوشبو تھی۔ کچھ بچوں کو خوبصورت رنگ برنگی برساتیوں میں دیکھ کر میرا بھی جی للچایا۔ ایک ایسا لباس جسے پہن کر چھتری کے بغیر گھوم پھر رہے ہیں اور بھیگتے بھی نہیں۔ ابا جان سے برساتی کی فرمائش کی، مالی حالت اچھی نہیں تھی۔ کہنے لگے ابھی تو بارش شروع ہوئی ہے، ذرا ٹھہرو۔ پھر ایک روز بہت ضد کر کے میں نے کہا’’اسکول کے بہت سارے بچے برساتی میں گھومتے ہیں، مجھے بھی چاہیے۔ ‘‘ وہ کہنے لگے، ’’تمہارے اسکول کے بچے دُم لگا کر گھومیں گے تو تم بھی دُم لگا کر گھومو گے؟‘‘ مجھے اتنے غمگین موقع پر بھی ان کے جملے پر ہنسی آگئی۔ تھوڑے دن بعد پھر ضد کی تو کہنے لگے’’اب تو بارش کا موسم ہی ختم ہونے کو ہے، اگلے سال دلا دیں گے۔ ‘‘
 پھرسردیوں کے موسم میں بچوں کو اور خصوصاً لڑکیوں کو رنگ برنگی سویٹروں میں دیکھ کر گھر میں سویٹر مانگا تو تقریباً ایسا ہی جواب ملا لیکن ابا جان روز شام میں یہ ضرور پوچھتے تھے کہ آج کیا پڑھائی ہوئی، بتاؤ۔ پڑھائی کے ساتھ اسکول میں ہونے والی کلچرل سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ 
  ۱۹۶۵ء میں شہر میں ’’افریقن سفاری‘‘ اور’’ہٹاری‘‘ نام کی انگریزی فلمیں لگیں تو اساتذہ کی نگرانی میں اسکول کے بچوں کو تھیٹر لے جا کر فلمیں دکھائی گئیں۔ فلم دیکھنے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اساتذہ کے کہنے پر فلم دیکھنا کارِ ثواب محسوس ہوا، ورنہ ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ فلم دیکھنا گناہ ہے۔ 
 مڈل اسکول اور ہائی اسکول میں پڑھائی کے دوران مختلف اسکولوں کے میدانوں میں کبھی خان عبدالغفار خان اور کبھی سنت ونوبا بھاوے وغیرہ کی تقریریں سننے ہم کو لے جایا گیا لیکن ہم تو صرف دیکھتے تھے کہ وہ کچھ کہہ رہے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ بس یہ سمجھ میں آتا تھا کہ ہم بچے گرفتار کر کے یہاں لائے گئے ہیں اور کوئی فرار نہ ہو سکے، اسی لئے اساتذہ نے ہم کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK