Updated: March 13, 2026, 10:05 PM IST
| Mumbai
کافی تنازعات اور بحث و مباحثے کے بعد فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ اب او ٹی ٹی پر ریلیز ہو چکی ہے لیکن جس فلم کو لے کر پہلے بہت بحث ہوئی تھی، وہی فلم ڈجیٹل پلیٹ فارم پر ناظرین کی توقعات پر پوری طرح کھری نہیں اتری۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ کہانی میں دم ہونے کے باوجود فلم کا ’ٹریٹمنٹ‘ کمزور محسوس ہوتا ہے۔
فلم تاج اسٹوری۔ تصویر:آئی این این
کافی عرصے سے تنازعات اور بحث میں گھری فلم ’’دی تاج اسٹوری‘‘ آخرکار او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہو گئی ہے۔ تھیٹر ریلیز کے دوران جس فلم کے تعلق سے سوشل میڈیا سے لے کر سیاسی حلقوں تک بحث ہو رہی تھی، وہی فلم جب ڈجیٹل پلیٹ فارم پر پہنچی تو ناظرین کے ردعمل توقع سے کافی سرد نظر آئے۔ کئی لوگوں نے اسے دیکھنے کے بعد مایوسی ظاہر کی اور کہا کہ فلم جس بڑے مسئلے اور بحث کو اجاگر کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، وہ اسکرین پر اتنی مضبوطی سے سامنے نہیں آ سکی۔
فلم کی کہانی
’’دی تاج اسٹوری‘‘کی کہانی تاریخی بحث سے جڑے اس متنازع دعوے کے گرد گھومتی ہے، جس میں کہا جاتا ہے کہ تاج محل پہلے ایک ہندو مندر تیجو محلایہ تھا۔ اسی تھیوری کو بنیاد بنا کر فلم میں کورٹ روم ڈراما اور تاریخ سے جڑی دلائل دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حساس موضوع کی وجہ سے فلم شروع سے ہی تنازعات میں رہی اور کئی لوگوں نے اسے تاریخ کی غلط تشریح بتا کر تنقید کی۔ یہ فلم امیزون پرائم پر دستیاب ہے۔
فلم کا پلاٹ کمزور
فلم میں تجربہ کار اداکارپریش راول مرکزی کردار میں نظر آتے ہیں اور ان کی اداکاری کو کئی ناظرین نے سراہا بھی ہے۔ تاہم، نقادوں کا کہنا ہے کہ مضبوط اداکار ہونے کے باوجود فلم کی اسکرپٹ اور ٹریٹمنٹ اتنا اثر نہیں چھوڑ پائے۔ کئی نقادوں نے مانا کہ کہانی میں دم ہونے کے باوجود فلم کمزور ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کمی کے طور پر سامنے آیا۔ او ٹی ٹی پر ریلیز کے بعد سوشل میڈیا پر فلم کو لے کر ملے جلے ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:میسی بمقابلہ یامل : فائنلسیما پر غیر یقینی کے سائے، ارجنٹائن کا برنابیو میں کھیلنے سے انکار
فلم بکھری ہوئی لگتی ہے
کچھ ناظرین کا ماننا ہے کہ فلم ایک دلچسپ معاملات اٹھاتی ہے اور الگ نظریہ پیش کرتی ہے، لیکن بڑی تعداد میں لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم بہت لمبی اور بکھری ہوئی لگتی ہے، جس سے اسے آخر تک دیکھنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ ناظرین نے یہ بھی کہا کہ فلم میں کئی ایسے مناظر اور سب پلاٹ ہیں جو کہانی کو مضبوط کرنے کے بجائے اسے کمزور کر دیتے ہیں۔ فلم کے ٹریلر اور پوسٹر کو لے کر بھی پہلے کافی تنازع ہوا تھا، جب ایک پوسٹر میں تاج محل کے اوپر شیو لِنگ کا نشان دکھائے جانے پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:کیا ’’دُھرندھر۲‘‘ میں ارجن رامپال بھی اکشے کھنہ کی طرح مشہور ہوں گے؟
امید پر پوری نہیں اتری
بعد میں میکرز کو وضاحت دینی پڑی کہ فلم کسی مذہبی دعوے کو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتی، بلکہ صرف ایک خیال اور بحث کو کہانی کے طور پر پیش کرتی ہے۔ جس فلم نے ریلیز سے پہلے خوب سرخیاں بٹوری تھیں، وہی او ٹی ٹی پر آنے کے بعد ناظرین کی توقعات پر پوری طرح کھری نہیں اتری۔ تنازعات اور بحثوں کے باوجود’’دی تاج اسٹوری‘‘ ناظرین کو اتنا متاثر نہیں کر سکی، جتنا کہ اس کے نام کے گرد پہلے سے ہو رہا تھا۔