موسم جب زمین پر اترتے ہیں تو صرف درجۂ حرارت نہیں بدلتا، زبان کا لہجہ، تہذیب کا مزاج اور انسان کے باطن کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے۔ برصغیر میں بارش کا موسم اسی تبدیلی کا سب سے دلآویز استعارہ ہے۔
EPAPER
Updated: July 26, 2026, 9:59 PM IST | Javeria Qazi | Mumbai
موسم جب زمین پر اترتے ہیں تو صرف درجۂ حرارت نہیں بدلتا، زبان کا لہجہ، تہذیب کا مزاج اور انسان کے باطن کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے۔ برصغیر میں بارش کا موسم اسی تبدیلی کا سب سے دلآویز استعارہ ہے۔
ہر موسم اپنے ساتھ صرف ہوا کا ایک جھونکا یا بادلوں کا ایک قافلہ نہیں لاتا، بلکہ صدیوں کی تہذیب، زبان، تاریخ اور انسانی احساسات کو بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے آتا ہے۔ برصغیر میں جب پہلی بارش کی خوشبو مٹی سے اٹھتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ زمین مختلف زبانوں میں ایک ہی دعا دہرا رہی ہے۔ کہیں اسے سَماء کی رحمت کہا جاتا ہے، کہیں شراون کی برکت، کہیں ساون کی مستی، کہیں برکھا رُت کا سنگیت، کہیں میگھ رُت کی نغمگی، کہیں برشگال کی لطافت اور آج کی سائنسی دنیا میں اسے مون سون کہا جاتا ہے۔ نام بدلتے رہتے ہیں، مگر بارش کی روح ایک ہی رہتی ہے۔ برصغیر کی تہذیب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں موسم صرف قدرتی مظاہر نہیں ہوتے بلکہ تہذیبی، لسانی اور ادبی شناختوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ موسم جب زمین پر اترتے ہیں تو صرف درجۂ حرارت نہیں بدلتا، زبان کا لہجہ، تہذیب کا مزاج اور انسان کے باطن کی کیفیت بھی بدل جاتی ہے۔ برصغیر میں بارش کا موسم اسی تبدیلی کا سب سے دلآویز استعارہ ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک ہی موسم کو مختلف تہذیبوں اور زبانوں نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق مختلف نام دیئے ہیں۔ سما، ساون، شراون، برکھا رُت، میگھ رُت اور برشگال۔ یہ سب نام دراصل ایک ہی بارش کے مختلف تہذیبی چہرے ہیں۔
یہ داستان آسمان سے شروع ہوتی ہے۔ عربی زبان میں سَماء صرف آسمان نہیں بلکہ رفعت، رحمت، وسعت اور الوہی فیضان کا استعارہ ہے۔ قرآن مجید کی زبان میں یہی سَماء بارش کو اپنے دامن میں پالتا ہے، بادلوں کو حرکت دیتا ہے اور زندگی کو پیاسی زمین تک پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے ناولوں کے پلاٹ، کردار، کہانی، اور شوخی و شگفتگی سے مسحور کرنے والا اَدیب
برصغیر کی زبانوں میں جب بارش آتی ہے تو وہ ساون، شراون، برکھا رُت، میگھ رُت اور برشگال کے ناموں سے پہچانی جاتی ہےمگر عرب کے صحرا میں یہی منظر سَماء سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ وہاں بارش سے پہلے آسمان کو دیکھا جاتا ہے، کیونکہ صحرا کے باسی جانتے ہیں کہ زندگی پہلے سَماء میں اترتی ہے، پھر زمین پر۔ سَماء صرف سر کے اوپر پھیلا ہوا نیلا گنبد نہیں، بلکہ انسان کے باطن کی وسعت بھی ہے۔ جس دل میں امید باقی ہو، اس کا بھی ایک سَماء ہوتا ہے؛ جس فکر میں پرواز ہو، وہ بھی آسمان سے نسبت رکھتی ہے۔ شاید اسی لیے عربی ادب میں آسمان ہمیشہ عظمت، آزادی، دعا اور تقدیر کی علامت رہا ہے۔ قرآن مجید میں بار بار السَّمَاء کا ذکر انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ صرف زمین پر چلنے والا وجود نہ رہے بلکہ نظر کو بھی بلند کرے۔ بارش بھی آسمان سے اترتی ہے، روشنی بھی، وحی بھی اور رحمت بھی۔ شاعری نے اس لفظ کو اور بھی گہرا رنگ دیا ہے۔ شاعر کے نزدیک سَماء وہ کینوس ہے جس پر بادل خواب لکھتے ہیں، چاند خاموش غزل کہتا ہے، ستارے امید کے چراغ جلاتے ہیں اور بارش محبت کے خط بن کر زمین پر اترتی ہے۔ آسمان جتنا باہر ہے، اتنا ہی انسان کے اندر بھی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بارش بادل سے پہلے سَماء میں پیدا ہوتی ہے، اور دعا زبان سے پہلے دل کے سَماء میں جنم لیتی ہے۔ اسی لیے جب انسان اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے تو دراصل وہ اپنی محدود زمین سے نکل کر لامحدود سَماء سے رشتہ استوار کرتا ہے۔
یہی بارش جب ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھتی ہے تو سنسکرت اسے شراون کے مقدس مہینے سے جوڑ دیتی ہے۔ مندروں کی گھنٹیاں، عبادت، ورت، عقیدت اور روحانی یکسوئی اس موسم کا حصہ بن جاتی ہے۔ وقت کی دھول سے گزرتے ہوئے یہی ’’شراون‘‘ عوامی لہجوں میں ڈھل کر ساون بن جاتا ہے، اور پھر محبت، ہجر، وصال، جھولوں، مہندی، کجری اور دیہی زندگی کا حسین استعارہ بن کر اردو، ہندی، پنجابی اور برج کی شاعری میں ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتا ہے۔
ہندوستانی جمالیات نے اس بارش کو ایک اور نام دیابرکھا رُت۔ یہاں بارش صرف پانی نہیں، رقص کرتی ہوئی فطرت ہے۔ پیپل کے درخت، آم کی ڈالیاں، مور کا رقص، بانسری کی لے اور جھولوں کی پرواز، سب مل کر برکھا رُت کی ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس میں زمین خود ایک نظم معلوم ہوتی ہےاور جب نگاہ بادلوں کی طرف اٹھتی ہے تو یہی موسم میگھ رُت بن جاتا ہے۔ ’’میگھ‘‘ یعنی بادل، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں راگ میگھ اور میگھ ملہار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ روایت کہتی ہے کہ جب ساز پر میگھ ملہار کی تان چھیڑ دی جائے تو بادل بھی ٹھہر کر سننے لگتے ہیں۔
فارسی تہذیب نے اسی موسم کو موسمِ باراں کے نام سے یاد کیا۔ یہاں بارش صرف کھیتوں کو سیراب نہیں کرتی بلکہ دلوں کو بھی شفاف بناتی ہے۔ صوفیا کے نزدیک ہر قطرہ رحمت کا حرف ہے، ہر بادل معرفت کا مسافر اور ہر بارش انسان کے باطن کی تطہیر کا استعارہ۔ پھر جدید سائنس نے اسی موسم کو مونسون کا نام دیا۔ یہ لفظ عربی ’’موسم‘‘ سے یورپی زبانوں تک پہنچا اور آج عالمی موسمیات کی اصطلاح بن چکا ہے۔ سائنس ہمیں ہواؤں کی سمت، سمندری دباؤ اور موسمی گردش کا حساب دیتی ہے، مگر شاعر جانتا ہے کہ بارش کو صرف نقشوں سے نہیں، دل سے بھی پڑھا جاتا ہے۔
برصغیر کی گنگا جمنی تہذیب کا یہی کمال ہے کہ یہاں لفظ جدا ہوتے ہیں مگر احساس مشترک رہتا ہے۔ کسان کیلئے یہ فصل کی نوید ہے، شاعر کیلئے تخیل کی بارش، موسیقار کیلئے راگ کی لَے، صوفی کیلئے رحمت ِ خداوندی اور انسان کیلئے یادوں کا موسم۔ شاید اسی لئے پہلی بارش کے ساتھ مٹی کی خوشبو کسی ایک زبان میں نہیں اٹھتی۔ وہ بیک وقت ساون بھی ہوتی ہے، شراون بھی، برکھا رُت بھی، میگھ رُت بھی اور برشگال بھی۔