جاسوسی ادب کے بے تاج بادشاہ ابن صفی کی برسی کی مناسبت سے زیر نظر کالموں میں اُن کے چار ناولوں کے پلاٹ، ان میں موجود فکرپاروں، شکر اور نمک پاروں کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو اُن کے ادب کا کچھ اندازہ ہو۔
EPAPER
Updated: July 26, 2026, 9:59 PM IST | Inquilab Desk | Mumbai
جاسوسی ادب کے بے تاج بادشاہ ابن صفی کی برسی کی مناسبت سے زیر نظر کالموں میں اُن کے چار ناولوں کے پلاٹ، ان میں موجود فکرپاروں، شکر اور نمک پاروں کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو اُن کے ادب کا کچھ اندازہ ہو۔
اسرار احمد ناروی، جو ابن صفی کے نام سے لکھتے رہے اور اسی نام سے شہرت رکھتے ہیں، اُردو میں جاسوسی ادب کے بے تاج بادشاہ تھے۔ اُس دور میں جب وہ لکھ رہے تھے اور ایک سے بڑھ کر ایک ناول اہل اُردو کی خدمت میں پیش کررہے تھے تب پڑھنے والے بے صبری سے اُن کے نئے ناول کا انتظار کرتے تھے۔ اُن کے مداح آج بھی ہیں۔ ان میں کئی ایسے ہیں جن کے پاس اُن کے تمام ناول موجود ہیں۔ نقادان فن نے جاسوسی ناول نگاری کو کبھی اہمیت نہیں دی مگر یہ قرض عام قارئین نے ادا کیا اور ابن صفی کو غیر معمولی شہرت عطا کی۔
ناول: ایڈلاوا
جرم کی نوعیت: رازوں کی چوری، اسلحہ کی اسمگلنگ، پلوٹونیم اور یورینیم کی چوری اور خریداری۔
مستقل کردار: عمران، جیمسن، صفدر، جوزف اور جولیا۔
فکرپارے
… آپ جانتے ہیں کہ ساری دنیا میں منشیات کا استعمال کس طرح بڑھ رہا ہے اور نشے بھی کیسے کیسے سلادینے والے۔ ایسے نہیں کہ خون کو جوش میں لائیں، ذہن کو بیدار کریں بلکہ ذہن اور جسم دونوں کو مفلوج کرکے رکھ دیں، بہرحال یہ وبا نوجوانوں میں زیادہ پھیلی ہے۔ ان میں طلبہ زیادہ تعداد میں ملیں گے۔
… میں تمہیں تنگ نظر نہیں کہوں گا کیونکہ میرا بھی اسی پر ایمان ہے کہ یہ ساری دنیا کے خلاف صہیونی سازش ہے۔ یہودی خود کو بقیہ نسلوں سے برتر سمجھتے ہیں اور ساری دنیا پر اپنا قبضہ چاہتے ہیں۔ منشیات سے قبل انہوں نے جنسیت کی وبا پھیلائی تھی۔ فرائڈ کو پڑھا ہے تم نے…؟
شکرپارے
کیا آپ نے شادی سے انکار کردیا تھا؟ پھر بے چاری اس طرح کیوں رو رہی تھی؟
تم میری عدم موجودگی میں اسے مثنوی زہر عشق کا ترجمہ سنا رہے ہوگے بدبخت۔
میرؔ سے میراجیؔ تک سب پڑھا دیا ہے۔
نمک پارے
تاریخی عمارات کے بارے میں وہ کوئی اچھی رائے نہیں رکھتا۔ اس کی دانست میں ہر دور کی تاریخی عمارات آدمی پر آدمی کے جبر کی کہانیاں سناتی ہیں۔ یعنی کوئی ایک فرد اتنا دولتمند تھا کہ اس نے ہزاروں کیڑوں مکوڑوں سے دو وقت کی روٹی کے حصول کی خاطر بہت وزنی وزنی پتھر اٹھوائے ہوں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: لفظ محض چند آوازوں اور لکیروں کا نام نہیں جو مٹ جانے کے بعد پھر پیدا کئے جاسکیں
ناول: زمین کے بادل
جرم کی نوعیت: زیرولینڈ کی تلاش اور تاریک وادی کا سفر
مستقل کردار: کرنل فریدی، کیپٹن حمید، قاسم، عمران، صفدر، ایکس ٹو۔
فکرپارے:
… مشرق ہم سے کمتر نہیں ہے بلکہ اسے آگے بڑھنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ صدیوں سے سفید فام قومیں اسے اپنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہی ہیں اور انہوں نے اسے ابھرنے نہیں دیا لیکن اب وہ آہستہ آہستہ بیدار ہورہا ہے۔
… مقدرات نہیں ٹلتے اور جب ستارے گردش میں آتے ہیں تو اونچے سے اونچا آدمی بھی مینڈکوں کے سے انداز میں سوچنے لگتا ہے۔
شکرپارے
بڑی پرفضا جگہ ہے۔ ان خشک پہاڑوں کے درمیان وہ چھوٹا سا ٹکڑا ایسا ہی ہے جیسے وہاں صدیوں پہلے کسی جادوگر نے قیام کیا ہو۔ بس جادو کی بنسری بجائی اور چاروں طرف سبزہ اگ آگیا، پھول کھل گئے اور پتھریلی زمین سے میٹھے پانی کا چشمہ ابل پڑا۔
نمک پارے
اور پھر اس نےغرانا شروع کردیا۔ بالکل ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے دو کتے ایک دوسرے پر غرا رہے ہوں۔ کمال ہے، کیلی نے محیرانہ انداز میں کہا ’’یہ بالکل آپ کی مادری زبان معلوم ہوتی ہے۔ ‘‘
lدنیا کی ہر عورت میری ماں ہے۔ عمران نے ٹھنڈی سانس لی۔
میں نے چائے کے سلسلے میں ایک بالکل ہی نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جس سے تندرستی بھی بڑی شاندار رہتی ہے… پتی چبائی، شکر پھانکی اور اوپر سے ایک جگ گرم پانی پی لیا اور پھر ایک بوتل دودھ چڑھا کر تین چار قلابازیاں کھائیں۔ چائے معدے میں تیار ہے۔ نہ چائے دانی کا جھگڑا نہ پیالیوں کی الجھن۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: جب پہلی بار ہم نے اُردو ڈرامہ دیکھا
ناول: ڈیڑھ متوالے
جرم کی نوعیت: جنگ باز ملک کے لئے جاسوسی، مسلح انقلاب کی تیاریاں، غیرملکی بے آواز سیارے کی تصاویر کی غیرملکی ایجنٹوں کے ذریعے تلاش
مستقل کردار: عمران، صفدر۔
فکرپارے
… اگر بھوکے ہونے کا مطلب بھکاری ہونا ہے تو ہم سب رات کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرح سوتے ہیں اور صبح بھکاری اٹھتے ہیں۔
…اگر وہ کمینہ ہے تو ہم بھی کیوں اپنی سطح سے گرجائیں۔ آدمیت بڑی چیز ہے ڈارلنگ۔ اگر یہ ضائع ہوئی تو پھر آدمی کو کنگال ہی سمجھو۔
شکرپارے
چپاتیوں کا مطلب ہوتا ہے یوں … عمران نے انگلی سے خلا میں دائرہ بناتے ہوئے کہا، یعنی کہ گول، پتلی پتلی، جب بنائی جاتی ہیں تو چوڑیاں مسلسل کھنکتی رہتی ہیں …
نمک پارے
lبریوو، صفدر جنگ عمران کا ہاتھ اوپر اٹھاتا ہوا غرایا : امے تم مستری ہو؟
جی ہاں، اور آدمیوں کی مرمت کا اسپیشلسٹ۔ عمران نے جواب دیا۔
کچھ دیر خاموشی رہی، پھر دفعتاً صفدر جنگ بولا: لیکن تم میری سکریٹری سے عشق کرنے کی کوشش نہیں کرو گے، سمجھے جوان آدمی!
ان سے عشق کروں گا؟ عمران نے حقارت آمیز لہجے میں کہا، ابھی ان کی عمر ہی کیا ہے۔ ارے جناب ستر ستر سال کی بوڑھیاں پیچھے لگی رہتی ہیں مگر میں کسی کو لفٹ نہیں دیتا۔ ویسے مجھے اپنی بکری کے علاوہ کسی اور سے عشق نہیں ہوا کیونکہ وہ صبح شام ڈیڑھ سیر دوھ دیتی ہے، الحمدللہ۔
یہ عورتیں میری سمجھ میں آج تک نہ آسکیں، دن بھر بچوں کے کان کھینچتی ہیں کہ فضول خرچی اور چٹور پن سے باز آجائیں لیکن خود سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر ٹھیلے والے سے آلو چھولے خریدتی اور کھاتی ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: فٹ بال کوچ کے نام
ناول: پاگلوں کی انجمن
جرم کی نوعیت: نظریاتی جنگ، مخصوص نظریے کی تشہیر
مستقل کردار: عمران، کیپٹن فیاض، بلیک زیرو، صدیقی، نعمانی، جولیا، سلیمان۔
فکرپارے
… ارے ارے، ایڈیٹ۔ تم پاگل بننے آئے ہو۔ قہقہے لگاؤ… آنسو تو اس دنیا کی چیز ہیں جہاں انسانیت اور رحمدلی کا پرچار کیا جاتا ہے۔
… تو کیا واقعی مجھے سقراط سمجھتی ہو لیکن میں زہر کا پیالہ نہیں پی سکتا۔ علاج بالمثل کا قائل ہوں۔ کمینگی کا مقابلہ کمینگی سے…
…نواب شمسو کہتے ہی، یہ دور تضادات کا دور ہے۔ ایک طرف آدمی چاند پر پہنچ رہا ہے اور دوسری طرف اپنے خول سے باہر نہیں نکل سکتا۔
شکرپارے
مرگھلی لڑکی نے اس کے لئے ایک بوسہ بھی ہوا میں اڑایا تھا جسے عمران نے اپنی ناک کی نوک پر ریسیو کرنے کا مظاہرہ کیا۔ یہ اپنی جگہ ایک ندرت تھی۔ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے کہ ایسا اس نے کیونکر کیا تھا۔
نمک پارے
اکثر پڑھے لکھے لوگ شیخ صاحب سے کہتے، لونڈا تمہارا قابل ضرور ہے مگر اسے قابو میں رکھو۔ ارے وہ تو میر و غالب کے منہ آنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی مصحفی کے گریبان پر ہاتھ ڈالتا ہے کبھی حالی کا مفلر گھسیٹ لیتا ہے۔ یہ بات شیخ صاحب کے پلے نہ پڑتیں پھر بھی اخلاقاً کہتے، جی میں اسے سمجھا دوں گا۔ ان لوگوں سے کہئے گا بچہ سمجھ کر معاف کردیں۔
تمہارے سر پر موت منڈلارہی ہے، جولیا نے کہا۔
اور ساتھ ہی جتا بھی رہی ہے۔ عمران نے جواب د یا۔
(ماخوذ از: ’’فنگر پرنٹس‘‘ ابن صفی کی قلمی جولانیاں
مصنف :ادریس شاہجہاں پوری)