• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مجھے نسل پرستی کا ’’ہزار بار‘‘ سامنا کرنا پڑا: ہسپانوی فٹبالر الامین جمال

Updated: September 21, 2026, 10:02 PM IST | Barcelona

بارسلونا کے فارورڈ الامین جمال نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اپنے فٹبال کریئر کے دوران تقریباً ’’ہزار بار‘‘ نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب ایسے واقعات انہیں اپنی کارکردگی متاثر کرنے نہیں دیتے۔ بارسلونا اور اسپین کے نوجوان اسٹار کا کہنا ہے کہ نسل پرستانہ رویے کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور فٹبال میں کھلاڑیوں کی شناخت یا مذہب کی بنیاد پر توہین ناقابلِ قبول ہے۔

Lamine Yamal. Photo: X
الامین جمال۔ تصویر: ایکس

بارسلونا کے فارورڈ الامین جمال نے کہا ہے کہ انہیں نسل پرستی کا ’’ہزار بار‘‘ سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر نسل پرستانہ تبصرے یا رویے اختیار کرتے ہیں، لیکن انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ ان کا عمل نسل پرستانہ ہے۔ ۱۹؍ سالہ اسپینش انٹرنیشنل کھلاڑی کو تیزی سے شہرت حاصل کرنے کے دوران متعدد مرتبہ نسلی تعصب اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ارجنٹائنا کے سابق انٹرنیشنل کھلاڑی خورخے والدانو نے ہسپانوی براڈکاسٹر مووی اسٹار کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جب جمال سے پوچھا کہ کیا انہیں ذاتی طور پر نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو انہوں نے جواب دیا: ’’ہزار بار۔ ‘‘ جمال نے کہا، ’’لوگ بالواسطہ طور پر آپ کے ساتھ نسل پرستانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، لیکن شاید انہیں خود اس کا احساس نہیں ہوتا۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’بہت سے تبصرے اور نظریں ایسی ہوتی ہیں جو نسل پرستانہ ہوتی ہیں، لیکن سامنے والے کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے بنگلہ دیش کو روند کر فائنل میں قدم رکھا

جمال کا کہنا تھا کہ انہیں صرف سیاہ فام کہے جانے پر اعتراض نہیں، بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ بات کس نیت سے کہی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کوئی مجھے نسل پرستانہ گالی دے تو بھی مجھے اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ میں سیاہ فام ہوں، میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش نہیں کروں گا کہ میرا رنگ کچھ اور ہے۔ ‘‘ تاہم ان کے مطابق کسی تبصرے کے پیچھے موجود نیت اہمیت رکھتی ہے۔ بارسلونا اور ریال میڈرڈ کے درمیان سینٹیاگو برنابیو میں کھیلے گئے ایک میچ کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے، جہاں انہیں نسلی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا تھا، جمال نے کہا کہ وہ اس طرح کے رویے کو اپنی کارکردگی پر اثرانداز نہیں ہونے دینا چاہتے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کوئی یہ بات مجھے اس نیت سے کہتا ہے کہ مجھے تکلیف پہنچے یا میری توہین ہو، تو یہ غلط ہے۔ ‘‘ تاہم انہوں نے واضح کیا، ’’لیکن میں میچ کے دوران، جب لوگوں نے مجھے کھیلتے دیکھنے کیلئے ٹکٹ خریدے ہوں، اس بات پر غصہ نہیں ہونے والا کہ کسی شخص نے میری توہین کی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اجیت آگرکر کا اپنی مدت کار میں توسیع نہ کرانے کا فیصلہ

جمال نے کہا کہ اب وہ اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایسے واقعات انہیں زیادہ متاثر نہیں کرتے، تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نسل پرستی کو قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ایسا نہیں ہے کہ آپ اس صورتحال کو قبول کر لیتے ہیں، کیونکہ جو چیز غلط ہے اسے کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا، لیکن اب یہ مجھے پریشان نہیں کرتی۔ ‘‘اکتوبر۲۰۲۴ءکی سامنے آنے والی ویڈیو میں بظاہر جمال، بارسلونا کے ساتھی کھلاڑی رافینیا اور انسو فاتی کو سینٹیاگو برنابیو میں ریال میڈرڈ کے خلاف میچ کے دوران نسلی بدسلوکی کا نشانہ بنتے دیکھا گیا تھا۔ اسپین کے آبزرویٹری آن ریسزم اینڈ زینوفوبیا نے مارچ میں جاری کردہ ایک بلیٹن میں کہا تھا کہ۲۰۲۵ءکی آخری سہ ماہی کے دوران اسپین میں آن لائن نسل پرستانہ بدسلوکی کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے افراد میں یامال اور ریال میڈرڈ کے فارورڈ وینیسیئس جونیئر شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیوس کپ: جنوبی کوریا نے دونوں سنگلز جیت لئے، ہندوستان کو مشکلات کا سامنا

اسپینش فٹبال میں حالیہ برسوں کے دوران نسل پرستانہ بدسلوکی کے کئی نمایاں واقعات کے بعد لا لیگا نے اسٹیڈیمز میں نسلی تعصب پر مبنی بدسلوکی کے خلاف اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ الامین جمال اسپین کے شہر بارسلونا کے علاقے اسپلوگس دے یوبریگات میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مونیر نصراؤئی کا تعلق مراکش سے ہے، جبکہ والدہ شیلا ایبانا کا تعلق استوائی گنی سے ہے۔ ان کا مکمل سرکاری نام الامین جمال نصراؤئی ایبانا ہے، تاہم بارسلونا اور اسپین کی جانب سے کھیلتے ہوئے وہ عام طور پر الامین جمال کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جمال نے بارسلونا کی معروف لا ماسیا اکیڈمی سے تربیت حاصل کی۔ ۲۰۲۳ء۔ ۲۴ء کے سیزن میں انہوں نے کلب کی پہلی ٹیم میں جگہ بنائی اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے عالمی فٹبال کے نمایاں نوجوان کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے: فٹنس مسائل کے سبب شبھ من کو بہترین ٹیم نہ مل پانا بدقسمتی

اگلے سیزن میں انہوں نے بارسلونا کی ڈومیسٹک ٹریبل کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ کلب نے لا لیگا، کوپا ڈیل رے اور سپرکوپا دے اسپانیا کے ٹائٹل جیتے۔ جمال کی رفتار، ڈرِبلنگ اور پاسنگ کی صلاحیتوں کا موازنہ لیونل میسی اور نیمار جیسے کھلاڑیوں سے کیا جاتا ہے، جنہوں نے ان کے کھیل پر اثر ڈالا ہے۔ جمال کو اپنے مراکشی اور استوائی گنی کے خاندانی پس منظر، سیاہ فام شناخت اور مسلم مذہب کی وجہ سے بھی بارہا نسل پرستانہ اور اسلاموفوبک بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ الامین جمال فلسطین کے ساتھ بھی عوامی سطح پر اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں۔ مئی۲۰۲۶ء میں بارسلونا کی لا لیگا ٹائٹل کی تقریبات کے دوران انہیں ٹیم کی اوپن ٹاپ بس پر فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس پر فلسطین کے حامی حلقوں کی جانب سے انہیں سراہا گیا، جبکہ اسرائیلی حکام کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔

یہ بھی پڑھئے: آنجہانی ژوتا کے نام پر نعرے، رونالڈو نے مداحوں پر تاحیات پابندی کا مطالبہ کیا

اپریل۲۰۲۶ءمیں یامال نے بارسلونا کے قریب آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں اسپین اور مصر کے درمیان دوستانہ میچ کے دوران اسلاموفوبک اور زینو فوبک نعروں کی مذمت بھی کی تھی۔ بغیر کسی گول کے ختم ہونے والے اس میچ میں اسپین کے کچھ شائقین ’’جو نہیں کودتا وہ مسلمان ہے‘‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ یامال نے انسٹاگرام پر لکھا، ’’میں مسلمان ہوں، الحمدللہ۔ ‘‘ انہوں نے اس نعرے کو ’’بے عزتی پر مبنی اور ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ نعرہ براہِ راست ان کے خلاف نہیں بلکہ مخالف ٹیم کو نشانہ بنا کر لگایا گیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ فٹبال میں مذہب کو مذاق کا ذریعہ بنانا ’’صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا کرنے والے جاہل اور نسل پرست افراد ہیں۔ ‘‘ جمال نے زور دیا کہ فٹبال کا مقصد کھیل سے لطف اندوز ہونا اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہونا چاہئے، نہ کہ لوگوں کو ’’وہ کون ہیں یا کیا عقیدہ رکھتے ہیں ‘‘ کی بنیاد پر بے عزت کرنا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK