Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان: انسانی بحران شدید، ۱۰؍ لاکھ بے گھر، ہزاروں بچے متاثر

Updated: March 29, 2026, 4:06 PM IST | Beirut

لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں انسانی بحران سنگین شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں ۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یونیسیف کے مطابق صرف تین ہفتوں میں ۷ء۳؍ لاکھ سے زیادہ بچے بے گھر ہوئے، جبکہ سیکڑوں ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔

Men, women and children are seen in a makeshift shelter in Lebanon. Photo: INN
لبنان کے ایک عارضی پناہ گاہ میں مردوں، خواتین اور بچوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

لبنان میں جاری اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں ایک بڑا انسانی بحران جنم لے چکا ہے، جہاں بیروت کے جنوبی مضافات سمیت کئی علاقوں سے بے گھر ہونے والے خاندان پارکوں، اسکولوں اور اسٹیڈیمز میں قائم عارضی کیمپوں میں انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق ۲؍  مارچ کے بعد سے اب تک ۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم ۱۰۹۴؍ افراد ہلاک اور ۳۱۱۹؍ زخمی ہوئے ہیں۔ بیروت کے جنوبی علاقے، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں، مسلسل اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں، جس کے باعث بڑے پیمانے پر آبادی کو اپنے گھروں سے نکلنا پڑا۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق لبنان کے اندر ۱۰؍  لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ ۳۰؍ ہزار سے زیادہ افراد شام منتقل ہو چکے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ پناہ گاہوں میں بھیڑ، پانی اور صحت کی سہولیات کی کمی، اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ ادھر یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں روزانہ اوسطاً ۱۹؍ ہزار بچے اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے، جس کے نتیجے میں ۳؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار سے زائد بچے بے گھر ہو چکے ہیں۔ لبنان میں ایجنسی کے نمائندے مارکولیگی کورسی نے کہا، ’’یہ ایسا ہے جیسے ہر ۲۴؍ گھنٹے میں بچوں سے بھری سیکڑوں بسیں نقل مکانی کر رہی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جلد ازجلد یوکرین جنگ بندی کرانے کیلئے پرعزم: امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ

انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ اچانک اور افراتفری پر مبنی بڑے پیمانے کی نقل مکانی خاندانوں کو توڑ رہی ہے اور پوری کمیونٹیز کو ختم کر رہی ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق اس وقت ایک لاکھ ۳۵؍ ہزار سے زائد افراد ۶۶۰؍ سے زیادہ مقامات پر پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں سے اکثر مقامات گنجان اور غیر محفوظ ہیں۔ ۴۳۵؍ سے زائد اسکولوں کو پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ایک لاکھ ۱۵؍ ہزار سے زیادہ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ یونیسیف کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں کم از کم ۱۲۱؍ بچے ہلاک اور ۳۹۵؍ زخمی ہو چکے ہیں۔ کورسی نے خبردار کیا کہ ’’مسلسل بمباری اور نقل مکانی بچوں میں شدید نفسیاتی صدمے کو جنم دے رہی ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی حملہ میں دو صحافیوں کی موت

یہ بحران ۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی وسیع علاقائی کشیدگی کا حصہ ہے، جس کے بعد ۳؍ مارچ کو لبنان میں زمینی کارروائیاں بھی تیز ہو گئیں۔ دوسری جانب ترکی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھنے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ انقرہ نے خبردار کیا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر کی تباہی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر فوری جنگ بندی اور عالمی امداد میں اضافہ نہ کیا گیا تو لبنان میں یہ بحران ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں اور عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK