Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا

Updated: April 18, 2026, 2:10 PM IST | New Delhi

ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سفارتی مؤقف اپنایا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستانی سفیر ہریش پی نے کہا کہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا ہندوستان کی قومی توانائی کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے اور اس تنازع میں ہندوستانی ملاحوں کی ’’قیمتی جانیں‘‘ بھی ضائع ہو چکی ہیں۔

Indian Ambassador to the United Nations General Assembly Harish P. Photo: X
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستانی سفیر ہریش پی۔ تصویر: ایکس

ہندوستان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کو ’’ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے سفارتی مؤقف اپنایا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستانی سفیر ہریش پی نے کہا کہ تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا ہندوستان کی قومی توانائی کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے اور اس تنازع میں ہندوستانی ملاحوں کی ’’قیمتی جانیں‘‘ بھی ضائع ہو چکی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کا تعلق ہندوستان کی توانائی اور معاشی سلامتی سے ہے۔ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا یہ اہم راستہ اگر طویل عرصے تک رکاوٹ کا شکار رہا تو ہندوستان کی اندرونی قیمتوں میں استحکام اور صنعتی پیداوار کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
بعد ازاںسفیر ہریش نے شہری بحری جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی اصولوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا، بے گناہعملے کے ارکان کو خطرے میں ڈالنا، یا آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری اور تجارتی گزرگاہ میں رکاوٹ ڈالنا ’’ناقابلِ قبول‘‘ہے۔ہندوستان نے علاقائی استحکام کے لیے تین نکاتی منصوبہ بھی پیش کیا، کشیدگی میں کمی ,خودمختاری کا احترام , سفارت کاری اور مذاکرات۔ 
تاہم انہوں نے کہا کہ۲۸؍ فروری۲۰۲۶ء سے شروع ہونے والے اس تنازع میں ہندوستان تمام فریقوں سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دینے کی اپیل کرتا رہا ہے۔ انہوں نے تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر بھی زور دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK