ابن صفی مرحوم کے اسلوب اور کرداروں کی بازیافت کی ایک کوشش (۱) عمران پر کس نے اور کیوں فائر کیا تھا اور دونوں کہاں غائب ہو گئے؟ فیاض کو اس کی کوئی خبر نہیں تھی اور رحمان صاحب نے اس سے فون پر یہی سوالات پوچھے تھے۔
EPAPER
Updated: July 27, 2025, 12:12 PM IST | Aslam Ghazi | Mumbai
ابن صفی مرحوم کے اسلوب اور کرداروں کی بازیافت کی ایک کوشش (۱) عمران پر کس نے اور کیوں فائر کیا تھا اور دونوں کہاں غائب ہو گئے؟ فیاض کو اس کی کوئی خبر نہیں تھی اور رحمان صاحب نے اس سے فون پر یہی سوالات پوچھے تھے۔
داخلی دروازے کی گھنٹی بجی تو سلیمان باورچی خانے سے باہر نکلا۔ لیکن جوزف ڈرائنگ روم سے دہاڑا ’’ٹم ڈور نئی کھولے گا ‘‘سلیمان نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھور کر پوچھا ’’کیوں نئی کھولے گا؟‘‘
’’باس کا آرڈر اے‘‘کہتے ہوئے جوزف نے دروازے کے پاس پہنچ کر پیپ ہول سے ایک آنکھ لگا دی۔ ساتھ ہی اس کی بانچھیں بھی کھل گئیں۔ اس نے فوراً دروازہ کھول دیا اور ایک طرف ہٹ کر قدرے خم ہو کر ’’ بولا سلام، ویلکم مسی، ہاؤ آر یو؟‘‘
عمران کی چھوٹی بہن ثریا جوزف کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دروازے میں کھڑے کھڑے ہی خشک لہجے میں بولی ’’جوزف! بھائی جان کہاں ہیں؟‘‘
’’ام کو نئی معلوم مسی، کل ایوننگ میں گیا۔ ابی واپس نئی آیا۔‘‘
’’فون آئے تو کہنا امی کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ فوراً گھر آئیں۔‘‘
’’مسی! پلیز کم اِن…‘‘ ثریا جوزف کی پوری بات سنے بنا دروازے سے ہی پلٹ گئی۔
جوزف نے دروازہ بند کیا۔ پلٹا تو سلیمان کو اپنے سامنے کھڑا پایا۔ اس کے چہرے سے ابھی تک غصہ عیاں تھا۔ تنک کر بولا:
’’سن بے کالیے! مجھ پر دھونس نہ جمانا، ہاں! ورنہ کھانے میں جمال گھوٹا ملا کر لوٹا پریڈ نہ کرائی تو میرا نام بھی سلیمان نہیں۔‘‘
’’جمال گوٹا... لوٹا۔۔۔ کیا بولٹا ٹم؟ ام باس کو بولے گا، ٹمارا کھانا نئی مانگٹا، باس ام کو فون کیا ،بولا ڈینجر ہے۔ ڈور اونلی ام کھول سکٹا، جاؤ ٹم کچن میں کھانا بناؤ۔‘‘
’’ابے کالیے، سچ سچ بتا، عمران صاحب کو کیا ہوا؟ یہ چھوٹی بیگم صاحبہ کیوں آئی تھیں؟‘‘
’’ام کیا بٹائے، باس کا مدر ناٹ ویل بولا، باس کو گھر جانا مانگٹا۔‘‘
اتنے میں ڈور بیل پھر بجی۔ جوزف نے جھانکا تو اس بار کیپٹن فیاض دروازے پر تھا۔ اس نے سلیمان کو جانے کا اشارہ کیا۔ سلیمان خاموشی سے ہٹ گیا۔ جوزف نے دروازہ کھولا اور ہاتھ کے اشارے سے فیاض کو سلام کیا۔ جوزف کا چہرہ بالکل سپاٹ اور تاثرات سے خالی تھا۔ وہ اٹینشن کھڑا کیپٹن فیاض کے کندھے کے اوپر سے سامنے والی دیوار کو خاموشی سے گھور رہا تھا۔
’’عمران کہاں ہے؟ ‘‘کیپٹن فیاض نے فلیٹ میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا
’’باس کل ایوننگ گیا۔ ابی ٹک نئی آیا۔‘‘
’’کیوں نہیں آیا؟‘‘
’’ام کیا بٹائے؟ وہ باس اے۔‘‘
’’فون کیا تھا؟‘‘
’’نئی‘‘
’’ثریا کیوں … ‘‘پوچھتے پوچھتے فیاض رک گیا اور’’ عمران آئے تو فون کرنے کہنا ‘‘کہتے ہوئے باہر نکل گیا۔
……………
رحمان صاحب کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر پہلے وہ کیپٹن فیاض سے فون پر بات کر رہے تھے۔ دراصل انہوں نے خود ہی فیاض کو فون کیا تھا۔ وہ عمران کے متعلق جاننا چاہتے تھے۔ لیکن فیاض کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ عمران کہاں تھا۔ دراصل کل شام کو شہر کی ایک بھری پری شاہراہ پر عجیب واردات ہوئی تھی۔ دو طرفہ فائرنگ میں ایک کار کا شیشہ ٹوٹا تھا، ایک شخص زخمی ہوا تھا۔ فٹپاتھ پر پڑا ایک ریوالور بھی ملا تھا جس سے ایک فائر ہوا تھا۔ کار عمران کی تھی لیکن عمران خود غائب تھا۔ جو شخص زخمی ہوا تھا وہ بھی غائب تھا۔ عمران کی کار سے کچھ فاصلے پر فٹپاتھ پر واقع ٹیلیفون بوتھ کے فرش پر جمے خون اور باہر پڑے ریوالور سے فیاض صرف اتنا اندازہ لگا سکا کہ ٹیلیفون بوتھ میں سے کسی نے عمران پر فائر کیا تھا جو اپنی کار میں بیٹھا تھا۔ لیکن کسی تیسرے شخص نے حملہ آور پر بھی فائر کیا تھا جس سے وہ زخمی ہو گیا اور ریوالور اس کے ہاتھ سے گر پڑا۔ لیکن وہ موقعۂ واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ عمران پر کیا گیا فائر چوک گیا جس سے کار کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ عمران زخمی بھی نہیں ہوا کیونکہ اس کی گاڑی میں کہیں بھی خون نہیں پایا گیا۔ جائے واردات پر تلاش کرنے پر دو عدد گولیاں مل گئیں۔ آس پاس پوچھ گچھ کرنے پر کسی نے بھی گولیاں چلنے کی آواز یا دھماکے سننے کا اعتراف نہیں کیا جس سے فیاض اس نتیجے پر پہنچا کہ دونوں طرف سے سائلینسر لگے ہوئے ریوالوروں سے گولیاں چلائی گئی تھیں۔ فیاض کی معلومات کی گاڑی اس سے ایک انچ آگے نہ بڑھی اور وہیں ٹھپ ہو گئی۔ عمران پر کس نے اور کیوں فائر کیا تھا اور دونوں کہاں غائب ہو گئے؟ فیاض کو اس کی کوئی خبر نہیں تھی اور رحمان صاحب نے اس سے فون پر یہی سوالات پوچھے تھے۔ فیاض ہکلانے کے سوا کوئی واضح جواب نہیں دے سکا۔ رحمان صاحب کے یہ پوچھنے پر کہ دونوں کی تلاش کے لئے کیا لائحہ ٔ عمل تیار کیا گیا ہے تو حقیقتاً فیاض کے دونوں ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ وہ آخر اس کا کیا جواب دیتا کہ وہ دونوں کو کہاں اور کیسے تلاش کریگا؟ فیاض اس طرح کے منصوبے عمران کے مشوروں کے بغیر بنا ہی نہیں سکتا تھا۔ اس پر رحمان صاحب بہت طیش میں آگئے اور فیاض اور اس کے ماتحتوں کو سخت سست کہنے لگے اور یہ کہتے ہوئے فون بند کر دیا کہ ان دونوں کو اب میں اپنے ذرائع سے تلاش کروںگا۔ فیاض پسینے میں تر بتر ہو گیا تھا۔ اس کا دل اس کی کنپٹیوں میں دھڑک رہا تھا۔ فون بند ہونے پر اس نے سخت پریشانی کے باوجود اطمینان کی گہری سانس لی۔
یہ جاننے کے باوجود کہ فائرنگ میں عمران کو خراش تک نہیں آئی، اماں کی حالت بے حد خراب تھی۔ اب بھی ثریا اور اس کی عم زاد بہنیں انہیں گھیر کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ اماں کبھی عمران کو کوستیں اور کبھی رحمان صاحب کو ظالم اور بے رحم باپ ہونے کے طعنے دیتیں۔ اچانک باہر سے آوازیں آئیں ’’چھوٹے صاحب آگئے، چھوٹے صاحب آگئے‘‘ ثریا اور اس کی عم زاد بہنیں باہر کی طرف لپکیں۔ کمرے، راہداریاں اور راستے خدام نے جلدی جلدی روشن کردیئے۔
ثریا اور عم زاد بہنیں عمران کو دیکھتے ہی اس کی سمت بڑھیں اور سلام کیا۔ عمران نے بھی انہیں بڑے بوڑھوں کی طرح جیتی رہو جیتی رہو کی دعائیں دیں۔ بہنوں کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ لیکن ثریا نے اپنا سر پیچھے کر لیا تھا۔ اس کے چہرے پر خفگی کے آثار نمایاں تھے۔ البتہ عم زاد بہنیں بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔ وہ سب اماں کے کمرے میں داخل ہوئے۔ اماں عمران کو دیکھتے ہی رو پڑیں اور بولیں تم باپ بیٹا کسی دن مجھے مار ڈالو گے۔ عمران اماں کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا ’’مریں آپ کے دشمن‘‘ اور ثریا اور عم زاد بہنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ابھی تو آپ کو ان سب کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں۔ ‘‘ سب بہنیں ایک ساتھ بول پڑیں ’’نہیں، اماں پہلے آپ کا سہرا دیکھنا چاہتی ہیں۔ ‘‘ اسی وقت انٹرکوم بجا۔ عمران نے ریسیور اٹھاتے ہی سلام علیکم کہا۔ دوسری طرف رحمان صاحب نے کہا ’’فوراً میرے پاس آؤ۔ ‘‘
رحمان صاحب کوٹھی سے الگ بنی اپنی مخصوص قیام گاہ میں بے چینی سے ادھر سے ادھر ٹہل رہے تھے۔ اس قدر پریشانی میں بھی وہ کوشش کر رہے تھے کہ ان کی بے چینی اور اضطراب کسی پر کھلے نہیں۔ وہ کل رات سے کوٹھی کی طرف نہیں گئے کہ مبادا بیگم یا ثریا کا سامنا ہو جائے۔ انہیں بھی چھوٹے صاحب آگئے چھوٹے صاحب آگئے کا شور سنائی دیا۔ ان کی بے چینی یکلخت ختم ہو گئی اور سکون کی ایک ٹھنڈی اور خوشگوار لہر دل سے دماغ تک پھیل گئی۔ لیکن سکون و طمانیت کا یہ لمحہ بہت مختصر تھا۔ دوسرے ہی لمحے میں غصہ ان کے تمام احساسات پر چھا چکا تھا۔ انہوں نے کوٹھی کے انٹرکوم پر کرخت لہجے میں عمران کو اپنے پاس طلب کیا۔ عمران کو دیکھتے ہی رحمان صاحب برس پڑے۔ ’’تم آئے دن قانون سے کھلواڑ کرتے رہتے ہو۔ حملہ آور اور خود کو قانون کے حوالے کر دو۔ ‘‘
’’ڈیڈی! کیا آپ چاہتے تھے کہ میں اس کی گولی کا نشانہ بن جاتا؟‘‘ عمران نے رحمان صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
رحمان صاحب کے چہرے پر سے ایک سایہ سا گزر گیا۔ انہوں نے بہت ضبط سے کام لیتے ہوئے پوچھا ’’حملہ آور پر کس نے فائر کیا تھا اور وہ کہاں غائب ہو گیا؟‘‘
’’ڈیڈی! آپ جانتے ہیں کہ میں کبھی کبھی سلطان صاحب کے محکمہ کے لئے کام کیا کرتا ہوں ‘‘
’’اوہو! تو یہ رابرٹ فلہم والا معاملہ ہے؟‘‘
رحمان صاحب نے عمران کو گھورتے ہوئے استفسار کیا۔
عمران خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔
’’تم پر حملہ کرنے والے کی گرفتاری میرے محکمے کے تحت ضروری ہے‘‘
’’سلطان صاحب سے بات کر لیجئے۔ ‘‘
’’ٹھیک ہے۔ تم مجھے بتائے بنا کہیں مت جانا‘‘
’’کیا فیاض کو مجھ پر مسلط کریں گے آپ؟ ‘‘ عمران کے لہجے میں احتجاج تھا۔
’’نہیں ! ‘‘ رحمان صاحب نے مختصر سا جواب دے کر ہاتھ سے اسے جانے کا اشارہ کیا۔
بیل بجنے پر جوزف نے پیپ ہول میں سے جھانکا تو اس کی بانچھیں کھل گئیں۔ عمران اپنی تمام تر حماقتوں کے ساتھ دروازے پر کھڑا تھا۔ جوزف نے جلدی سے دروازہ کھول کر سلیوٹ کیا اور ایک طرف ہٹ گیا تاکہ عمران اندر آ سکے۔ عمران ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھ گیا، ٹائی کی گرہ ڈھیلی کی، جوتے کھولے، موزے اتارے اور صوفے پر ہی دراز ہو گیا۔ سلیمان کو آواز دی تو جوزف نے اسے اطلاع دی کہ وہ اس کا نیا سوٹ پہن کر آخری شو میں فلم دیکھنے گیا ہے۔ پھر بولا’’ باس، سلیمان جمال گوٹا لوٹا پریڈ وارننگ دیا۔ ام اسکا کھانا نئی مانگٹا۔ ام ہوٹل میں کھاٹا۔ ‘‘
اتنے میں خوابگاہ کے دروازے پر لگا لال بلب روشن ہو گیا جو اندر کے خفیہ فون پر کال آنے کا اشارہ تھا۔ عمران جھپٹ کر کمرے میں داخل ہوا اور ایئر فون کانوں پر چڑھا لیا۔ بلیک زیرو فون پر تھا۔ اس نے بتایا کہ عمران پر گولی چلانے والے کو گرفتار کیا گیا تو اس کے ایک ساتھی کو تعاقب میں دانش منزل آنے اور بآسانی واپس جانے کا موقع دیاگیا تھا۔ وہ پرنسٹن کے چوراہے سے یونیورسٹی جانے والے راستے پر مکان نمبر گیارہ میں داخل ہوا تھا اور ابھی تک وہیں ہے۔ تھوڑی دیر بعد ایک کالی وین میں چار آدمی وہاں آئے تھے۔ وین انہیں چھوڑ کر واپس چلی گئی۔ صفدر اسکے تعاقب میں گیا ہے۔ اس مکان کی نگرانی خاور اور چوہان کر رہے ہیں۔
عمران نے ایئر فون کانوں سے ہٹایا ہی تھا کہ فون کا بزر پھر بجا۔ دوسری طرف بلیک زیرو ہی تھا۔ اس نے صفدر کی رپورٹ پیش کی۔ ’’کالی وین ایک میکنک کے پاس چھوڑ کر ڈرائیور پیدل اقبال آباد سلم ایریا تک گیا۔ وہ ایک مکان میں داخل ہوا ہے۔ ‘‘
عمران نے کہا ’’صفدر اور پوری ٹیم کو مکان نمبر گیارہ پر بلا لو۔ جولیا فٹزواٹر کو بتاؤ کہ وہاں اسکیم نمبر چھ پر عمل کیا جائے۔ میں بھی وہاں پہنچ رہا ہوں۔ تم وہاں آس پاس ہی موجود رہنا۔ جولیا سب کو اسکیم کے مطابق ڈیوٹی دےگی۔ تم میرا سگنل ملتے ہی اندر پہنچ جانا۔ ‘‘
یونیورسٹی روڈ پر مکان نمبر گیارہ کا احاطہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ البتہ اس کی کچھ کھڑکیاں روشن تھیں۔ عمران کمپاؤنڈ کے باہر مین گیٹ کے پاس اندھیرے میں کھڑا تھا۔ اس نے پھولی ہوئی ناک اور گھنی مونچھوں والا ریڈی میڈ میک اپ لگا رکھا تھا۔ چند ہی لمحے گزرے تھے کہ ایک ایمبولینس وہاں آ کر رکی۔ اس میں ڈرائیور کی بغل والی سیٹ پر جولیا فٹزواٹر بیٹھی تھی۔ عمران تیزی سے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھول کر اس میں سوار ہو گیا۔ ایمبولینس کمپاؤنڈ میں داخل ہوئی اور مکان کے پورچ میں جا کر رک گئی۔ پورچ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ عمران نے ایمبولینس سے اتر کر جیب سے پنسل ٹارچ نکالی اور اسے آن کر کے مختلف سمتوں میں مخصوص اشارے کئے۔ اگر اس وقت کوئی دیکھتا تو یہی سمجھتا کہ ٹارچ کی روشنی میں راستہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
عمران نے ریڈی میڈ میک اپ کے علاوہ آنکھوں پر عینک لگا رکھی تھی۔ وہ ڈاکٹروں والے سفید کوٹ میں ملبوس تھا اور گلے میں اسٹیتھو اسکوپ بھی لٹکا رکھا تھا۔ جولیا بھی نرس کے یونیفارم میں تھی۔ ایمبولینس صدیقی ڈرائیو کر رہا تھا۔ وہ ڈرائیونگ سیٹ سے اترا۔ اس کے ہاتھ میں میڈیکل آلات اور دواؤں کا بکس تھا۔
اس نے اطلاعی گھنٹی دبائی۔ تھوڑی دیر بعد اندر آہٹ ہوئی۔ دروازہ کھولنے والا ایک پہلوان نما سیاہ رو شخص تھا جس کے چہرے پر زخموں کے نشانات تھے۔ وہ شکل سے ہی چھٹا ہوا بدمعاش لگتا تھا۔ اس نے بھدی اور جھلائی ہوئی آواز میں پوچھا ’’کون ہو؟ کیا بات ہے؟‘‘
’’ہم لوگ محکمۂ صحت سے آئے ہیں۔ ہمیں شکایت ملی ہے کہ یہاں نئی وبائی بیماری کا ایک مریض ہے۔ ‘‘ صدیقی نے بہت نرمی سے کہا۔
’’ہشت، واپس جاؤ، یہاں کوئی بیمار ویمار نہیں ‘‘پہلوان نما آدمی نے یہ کہتے ہوئے درواز بند کرنا چاہا لیکن صدیقی تیزی سے آگے بڑھ کے دروازے کے بیچ میں کھڑا ہو گیا۔ اب دروازہ بند نہیں ہو سکتا تھا۔ صدیقی نے نرم گفتاری جاری رکھتے ہوئے کہا ’’دیکھئے ہم سرکاری اجازت نامہ ساتھ لائے ہیں۔ اگر مریض ہے تو اسے ہم ساتھ لے جائیں گے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ یہاں کوئی مریض نہیں تو پورے گھر کی تلاشی لئے بنا ہم جائیں گے نہیں۔ ہمارے پاس تلاشی لینے کا اجازت نامہ بھی ہے۔ ‘‘ پہلوان نما شخض نے جھنجھلا کر ایک فحش گالی دی اور ہاتھ بڑھا کر صدیقی کا گریبان پکڑنا چاہا لیکن صدیقی نے پہلو بچا کر اسے دھکا دیا تو وہ اپنی جھونک اور صدیقی کے دھکے کی وجہ سے دیوار سے جا ٹکرایا۔ صدیقی نے کہا: ’’دیکھو ہاتھا پائی مت کرو، تم سرکاری کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہو۔ ‘‘ حملہ ناکام ہونے سے پہلوان نما شخص کے چہرے پر خجالت اور غصے کے ملے جلے اثرات نمایاں تھے لیکن صدیقی کی پھرتی اور ایک مدافعانہ داؤ لگانے سے پہلوان نما شخص چوکنا ہو گیا اور اس نے پھر حملہ نہیں کیا۔ عمران نے انہیں پورا مکان چیک کرنے کی ہدایت دی اور خود تیزی سے اس کمرے میں پہنچا جہاں سے زور زور سے آوازیں آ رہی تھیں۔ اس کی پیچھے ایکس ٹو کے نقاب پوش بھیس میں بلیک زیرو اور فوجی لباس میں اس کی ٹیم کے بقیہ لوگ بھی پہنچ گئے۔ اچانک ایک شعلہ چمکا اور ایک چیخ گونجی۔ سب نے دیکھا کہ کمرے میں موجود ایک غیر ملکی نے اپنا زخمی ہاتھ دوسرے ہاتھ سے دبا رکھا ہے جس میں سےخون ٹپک رہا ہے اور ایک ریوالور اس کے قدموں کے پاس پڑا ہے۔ بلیک زیرو نے ایکس ٹو کی بھرائی ہوئی آواز میں کہا: ’’بریوو صفدر! تم نے تین دن میں دوسری بار عمران کی جان بچائی ہے۔ بائی دی وے، یہ کیس عمران کا ہے لیکن وہ میری ٹیم کی مدد کے بغیر اسے حل نہیں کر سکتا تھا۔ ‘‘
یہ کہتے ہوئے بلیک زیرو نے ایک آفیسر کو اشارہ کیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے زخمی غیر ملکی رابرٹ فلہم اور اس کے چاروں ساتھیوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائیں اور انہیں اپنے ساتھ باہر لے گئے۔ سب صفدر کو تعریفی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ عمران نے بُرے سے لہجے میں کہا ’’صفدر میاں ! تم گولی نہ چلاتے تب بھی میرا سنگ ہی آرٹ مجھے گولیوں سے بچا لیتا۔ تم نے بیچ میں آ کر اچھا نہیں کیا۔ اب ایکس ٹو میری اجرت کم کر دے گا۔ ‘‘
صفدر کے سوا سبھی عمران کو مضحکہ خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
دوسرے دن دانش منزل میں ایکس ٹو کی پوری ٹیم مو جود تھی۔ ڈیجیٹل اسکرین پر ایکس ٹو نقاب پہنے ہوئے ان سے مخاطب تھا ’’میں اپنی ٹیم کی مستعدی سے بہت خوش ہوں ۔ صفدر نے بہت خوبی سے کام کیا ہے۔ آپ لوگوں نے اس کیس کو دو دن میں ہی حل کر دیا۔ رابرٹ فلہم دراصل اس مغربی طاقت کا ایجنٹ ہے جو ساری دنیا کے ممالک کو جبراً اپنی پالیسوں پر عمل کرانا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک میں کووڈ کے ٹیکے لگانے کے بعد جو اموات ہوئی ہیں اس پر ہمارے سائنسداں تحقیقات کر رہے ہیں مگر وہ ملک نہیں چاہتا کہ یہ تحقیقات جاری رہیں ۔ رابرٹ فلہم کو بھیجا گیا تھا کہ وہ اس کام میں رکاوٹ ڈالے مگر اسے آپ لوگوں نے کام کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ ویل ڈن بوائز…