Inquilab Logo Happiest Places to Work

تخلیقی تحریر کیلئے مصنف کی شخصیت کا تخلیقی ہونا ضروری ہے

Updated: August 02, 2026, 3:08 PM IST | Khalilur Rehman Azmi | Mumbai

اسٹائل یا اسلوب کا تعلق دراصل تخلیقی تحریر سے ہے۔ ادب، فن یا تخلیق ابلاغ ِمحض یا صنعت گری دونوں سےالگ ایک چیز ہے۔ ہماری پرانی کتابوں میں تخلیقی نثر یا اسلوب کے متعلق کوئی ایسا اصول نہیں ملتا جس سے اسلوب اور صاحب ِاسلوب کی شخصیت کے اندرونی ربط کو تلاش کرکے اس طرز کے حدود متعین کئے جاسکیں۔

A reader who wants to read and knows how to read may not be able to discuss creative prose and non-creative prose, but he or she will definitely be able to distinguish between them. Photo: INN
جو قاری پڑھنا چاہتا ہے اور پڑھنا جانتا ہے وہ تخلیقی نثر اور غیر تخلیقی نثر پر بھلے ہی گفتگو نہ کرپائے مگر اس میں تمیز ضرور کرلیتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اُردو شاعری اور اس کی مختلف اصناف پر تنقید یا محاکمہ جتنا آسان ہے اردو نثر اور نثر نگارو ں کا مطالعہ اور تجزیہ اتنا ہی دشوار ہے۔ یوں تو اردو نثر پچھلے سو سال کے عرصہ میں بہت سی ارتقائی منزلیں طے کرچکی ہے مگر نثری تحریروں اور ان کے مصنفوں کی ادبیت اور ان کا معیار متعین کرنے میں خاصی دقتیں ہیں۔ زمانۂ حال کے ایک ذہین نقاد کو یہ شکایت ہے کہ اب اردو میں مختلف موضوعات پر جو کتابیں شائع ہورہی ہیں ان کی نثر اپنی ساخت اور اسلوب کے اعتبار سے اردو کی پہلی کتاب والی نثر ہے۔ دوسری طرف بعض لکھنے والے ایسے بھی ہیں جنہیں یہ دعویٰ ہے کہ وہ فلسفہ، تاریخ، تحقیق یا تنقید جیسے موضوعات پر بیگماتی زبان یا محاوراتی اسلوب میں لکھ سکتے ہیں یا ایسا پیرایۂ بیان اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ علمی اور سائنسی موضوعات بھی انشائے لطیف کے پیمانے میں ڈھل جائیں۔ بات یہ ہے کہ ابھی ہمارے یہاں ادبی اور غیرادبی نثر کی کوئی حدبندی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ہمارے ذہن میں یہ بات واضح ہے کہ طرز یا اسلوب کسے کہتے ہیں اور یہ کہ آیا ہر نثر لکھنے والے کے لئے کیا یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب ِ طرز یا صاحب اسلوب نثر نگار ہو۔ 
میرا خیال ہے کہ اسٹائل یا اسلوب کا تعلق دراصل تخلیقی تحریر سے ہے۔ تخلیقی تحریر کے لئے مصنف کی شخصیت کا تخلیقی ہونا ضروری ہے۔ ادب، فن یا تخلیق ابلاغ محض یا صنعت گری دونوں سےالگ ایک چیز ہے۔ ہماری پرانی کتابوں میں تخلیقی نثر یا اسلوب کے متعلق کوئی ایسا اصول نہیں ملتا جس سے اسلوب اور صاحب ِاسلوب کی شخصیت کے اندرونی ربط کو تلاش کرکے اس طرز کے حدود متعین کئے جاسکیں۔ کچھ لوگوں نے نثر کو نثر مرصع، نثر مقفیٰ، نثر مسجع اور نثر عاری میں تقسیم کیا۔ بحرالفصاحت کے مؤلف نے سلیس سادہ، سلیس رنگین، دقیق سادہ، دقیق رنگین قسم کی اصطلاحات کی مدد سے ان کی گروہ بندی کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا خیال ہے اس قسم کی گروہ بندی سے ہمارے یہاں یہ تصور رائج ہوگیا کہ ادبیت کوئی ایسی چیز ہے جو تحریر پر اوپر سے عائد کی جاتی ہے۔ چنانچہ ایک چھوٹے سے رقعے یا دعوت نامے سے لے کر نوطرز مرصع اور فسانہ ٔ عجائب جیسی داستانیں بیان کرنے یا روضۂ تاج گنج کی تعریف میں مضمون لکھنے کے لئے ان صنعتوں پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی جن کے متعلق یہ خیال تھا کہ یہ تحریریں ادبیت پیدا کرنے کی ضامن ہیں۔ 
جس طرح شاعری کی اصناف کے اوپری ڈھانچے کو برتنے والا یعنی ردیف و قافیہ اور عروض کے جملہ شرائط کو پورا کرنے والا حقیقی شاعر نہیں بن جاتا بلکہ شاعری محض کلامِ موزوں سے آگے کی چیز ہے، اسی طرح نثر کے کسی پیرایے کو اوپری طور سے برت کر ادبی نثر کی تخلیق نہیں کی جاسکتی۔ فن کسی علم، اطلاع یا واقعہ کو بیان کرنے سے آگے کی چیز ہے۔ یہ بیان اگر اوپر سے رنگین بنادیا جائے یا اس پر کچھ مرصع کاری کر دی جائے تو تحریر پر ادبی ہونے کا دھوکا ہوتا ہے مگر دراصل وہ ادبی یا تخلیقی ہوتی نہیں ہے۔ فن یا تخلیقی تحریر لکھنے والے کے تجربے، علم، خیالات، اس کی داخلی شخصیت اور اس کے لطیف احساسات کے امتزاج اور کیمیاوی عمل سے وجود میں آتی ہے۔ خارجی علم تجربے اور مصنف کی داخلی شخصیت کا یہ امتزاج جتنابھرپور اور مکمل ہوگا فنی تخلیق اتنی ہی پختہ اور کامیاب ہوگی۔ اچھے فنکار کے یہاں بھی یہ امتزاج ہمیشہ نہیں ہوتا، اسی اعتبار سے اس کی تحریر کے مدارج قائم کئے جاسکتے ہیں اور ان میں بلند و پست اور ادبیت اور غیر ادبیت کی حدیں قائم کی جاسکتی ہیں۔ 
غیرادبی یا غیرتخلیقی نثر لکھنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور نہ کسی زبان کی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا سارا نثری سرمایہ، ادبی نثر پر مشتمل ہو اور اس کے نثر نگار ادیب یا صاحب ِ طرز نثرنگار ہوں۔ علمی اور سائنسی نثر کی اہمیت اور افادیت خود اپنی جگہ پر ہے بلکہ اس کے بغیر کوئی زبان وقیع نہیں کہلائی جاسکتی۔ ہر زبان میں ہزاروں کتابیں تاریخ، فلسفہ، نفسیات، معاشیات، سماجیات، سائنس، طب، فن تعمیر اور دوسرے علوم سے متعلق لکھی جاتی ہیں۔ ان کے لکھنے والوں کو اس بات کی فکر بھی نہیں ہوتی کہ ان کتابوں کو ادبیات کے دائرے میں لایا جائے یا ان کے لکھنے والوں کو ادب کی تاریخ میں بحیثیت ادیب کے جگہ ملے، اس کے باوجود ان کے مصنف عزت اور احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ 
سرسید جن کو اردو نثر کا معمار کہنا بالکل صحیح ہے، یہ چاہتے تھے کہ ہم اپنی نثر کو خالص ادبیات کے دائرے سے نکال کر وسعت دیں اور علمی، کاروباری اور عمومی نثر کی افادیت کو بھی عام کریں۔ خود ان کے یہاں دونوں طرح کی نثر کے نمونے مل جاتے ہیں۔ خالص ادبی اور تخلیقی بھی اور خالص علمی اور سائنسی بھی۔ مولوی چراغ علی، محسن الملک، وقارالملک، ذکاء اللہ، سید علی بلگرامی، عبدالرزاق کانپوری اور اس کے لکھنے والوں کی میری نظر میں بڑی وقعت ہے کہ انہوں نے اس علمی نثر کے فروغ میں بیش از بیش حصہ لیا مگر بیسویں صدی میں نثری ادب کے تنقیدی اصول وضع نہ ہونے سے بعض غلط فہمیاں رائج ہوگئی ہیں جن کے نتیجے میں ایک طرح کی غیرفطری نثر سے ہمیں اکثر سابقہ پڑتا ہے۔ 
یہ غیرفطری نثر اس وقت وجود میں آتی ہے جب تخلیقی شخصیت رکھنے والا کسی علم، اطلاع یا کسی اور مواد کو خارجی طور پر حاصل کرکے اسے اپنی شخصیت اور اپنے تخلیقی تجربے سے ہم آہنگ کئے بغیر محض ادبی نثر لکھنے کے لالچ میں اوپر سے رنگ آمیزی کرتا ہے اور محاورات، تشبیہات و استعارات یا تراکیب کی دکان سجاتا ہے، نثر میں شاعرانہ ٹکڑے جوڑتا اور رعایت لفظی کے پینترے دکھاتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس طرح کا لکھنے والا اپنے آپ کو صاحب طرز ادیب سمجھتا ہے اور اپنی نثر کے مقابلے میں حالی، پریم چند یا عبدالحق کی تحریروں پر ترحم کی نظر ڈالتا ہے۔ 
میرے خیال میں نثر کی ادبیت کا تعلق نہ تو سادگی سے ہے اور نہ رنگینی سے کیونکہ یہ ادبیت کسی میکانیکی عمل یا صنعت گری سے نہیں بلکہ تخلیقی عمل سے وجود میں آتی ہے۔  غیرتخلیقی ذہن خواہ سادہ پیرایہ اختیار کرے یا رنگینی کا جامہ پہنے، ہر حال میں غیرتخلیقی چیز ہی اس سے برآمد ہوگی۔ شخصیت اگر تخلیقی ہے تو میرامن، غالب، حالی اور پریم چند بھی اسی طرح ادبی نثرنگار ہیں جس طرح سرشار، محمد حسین آزاد، ابوالکلام اور اس طرح کے لکھنے والے۔ 
جس طرح ایک غیرتخلیقی اور جعلی شاعر کو ہم متشاعر کہتے ہیں، اسی طرح اس نوع کے نثرنگاروں کے لئے میں کسی اصطلاح کے وضع کرنے کی فکر میں ہوں۔ میرے نزدیک علمی، سائنسی، کاروباری اور عمومی نثر لکھنے والوں کی بڑی اہمیت ہے اور میں ہر زبان کیلئے اخبارنویسوں اور مترجموں کو بھی ضروری اور مفید خیال کرتا ہوں لیکن ادبی نثر کے بھیس میں غیرفطری اور پرتصنع نثر اور جعلی اسلوب رائج کرنے والوں کو نثر کے حق میں ایک مستقل خطرہ سمجھتا ہوں۔ 
(مآخذ: مضامینِ نو)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK