• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماسکو ووٹنگ نظام کو طاقتور مسلسل سائبرحملوں کا نشانہ بنایا گیا: روسی اہلکار

Updated: September 19, 2026, 10:09 PM IST | Mascow

روسی اہلکار کے مطابق روس کے ماسکو الیکٹرانک ووٹنگ نظام کو طاقتور، مسلسل سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا جب ملک کے پارلیمانی انتخابات دوسرے دن میں داخل ہوئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

روسی حکام نےسنیچر کو بتایا کہ روس کے ماسکو میں الیکٹرانک ووٹنگ نظام رات بھر طاقتور سائبر حملوں کی زد میں رہا، جبکہ ملک کے سخت کنٹرول والے پارلیمانی انتخابات دوسرے دن میں داخل ہو گئے۔روس کے مرکزی انتخابی کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے کہا کہ ماسکو ووٹنگ نظام پر حملہ جاری ہے لیکن انہوں نے اس کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ذمہ داروں کی شناخت بتائی۔انہوں نے کہا، ’’یہ حملہ جاری ہے یہ تقریباً بلا تعطل ہو رہا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ کے ریڈیو نے ایڈ شیرن کے گانے ہٹا دیے، آج فلسطین تنازع کے درمیان کنسرٹ

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کے روز یوکرین پر الزام لگایا تھا کہ وہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ یوکرین نے اس الزام کا جواب نہیں دیا لیکن انتخابات کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔انتخابات میں حصہ لینے کے لیے صرف وہ جماعتیں رجسٹرڈ ہوئی ہیں جو پوتن اور کریملن کی فوجی مہم کی حمایت کرتی ہیں۔ روس کے زیر قبضہ مشرقی یوکرین کے علاقوں میں بھی ووٹنگ ہو رہی ہے۔ان چار یوکرینی علاقوں میں بھی ووٹنگ ہو رہی ہے جن پر ماسکو نے جنگ شروع ہونے کے بعد الحاق کا دعویٰ کیا، حالانکہ روس کا ان پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔ کریمیا، بحیرہ اسود کا جزیرہ نما جس پر روس نے۲۰۱۴ء میں الحاق کیا تھا، میں بھی ووٹنگ ہو رہی ہے۔تاہم یورپی یونین نے انتخابات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حریفوں کو ختم کرنے کے لیے جبراستعمال کیا گیا۔ ساتھ ہی کونسل آف یورپ کے ایک ادارے نے بھی ووٹ کو جعلی قرار دیا۔
واضح رہے کہ انتخابات روس کے ایوان زیریں، اسٹیٹ ڈوما، کی تمام۴۵۰؍ نشستیں طے کریں گے۔ ووٹنگ اتوارتک جاری رہنے کا شیڈول ہے۔ بعد ازاں پوتن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے بارے میں بڑے پیمانے پر توقع ہے کہ وہ اپنا غلبہ برقرار رکھے گی، اور کم ہی روسی نتائج میں بڑی تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں۔ تاہم، انتخابات کو جنگ اور حکومت کے لیے عوامی حمایت کی پیمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان سمیت کئی ممالک پر ۱۰۰؍ فیصد ٹیرف والے بل کو ٹرمپ کی منظوری، دستخط کے بعد قانون بن گیا

واضح رہے کہ پوتن ۱۹۹۹ءسے روس پر حکومت کر رہے ہیں، جبکہ یونائیٹڈ رشیا۲۰۰۰ء کی دہائی کے اوائل سے ملک کے سیاسی نظام پر غالب رہی ہے۔ ماسکو کی یوکرین مہم پر تنقید بھی ممنوع قرار دی گئی ہے، جبکہ پوتن کے دور میں ہونے والے انتخابات نے شاذ و نادر ہی بڑی حیرانیاں پیدا کی ہیں۔پوتن نے روسیوں پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں اور ماسکو کے فوجیوں کی حمایت ظاہر کریں اور ان لوگوں کو جواب دیں جو روس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK