Updated: September 19, 2026, 10:09 PM IST
| New Delhi
دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی نے چار میں سے تین عہدوں پرجیت حاصل کی ہے، جبکہ ایک آزاد امیدوار کی تاریخ ساز فتح ہوئی ہے،نتیجے کے باضابطہ طور پر اعلان سے پہلے دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت یونیورسٹی انتظامیہ نے جیتنے والے امیدواروں اور ان کے حامیوں کو کیمپس کے اندر یا باہرجشن کی ریلیاں نکالنے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔
نائب صدر کے عہدے پر کامیاب آزاد امیدوار اور این ایس یو آئی کے سابق رکن دیپانشو شوکین۔ تصویر: ایکس
دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (DUSU) انتخابات کے نتائج ۲۰؍ راؤنڈس کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد جاری کر دئیے گئے ہیں۔ آرایس ایس کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) نے چار میں سے تین مرکزی عہدوں یعنی صدر، سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری پر جیت حاصل کی ہے۔اے بی وی پی کے یش دباس نے ۲۴؍ ہزار ۵۷۶ ؍ ووٹ حاصل کر کے صدارتی عہدہ جیت لیا ہے، جبکہ انہوں نے این ایس یو آئی کے وجے شنکر مینا کو شکست دی جنہوں نے ۲۲؍ ہزار ۵۲۳؍ ووٹ حاصل کئے۔ اس کے علاوہ رِیا چھاوڑی نے ۲۱؍ ہزار ۶۵۰؍ ووٹ لے کر سکریٹری کا عہدہ اپنے نام کیااور لکشیا راج سنگھ ۱۶؍ ہزار ۶۱۵ ؍ ووٹ حاصل کر کے جوائنٹ سکریٹری منتخب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: قبائلی اسکول ٹھیک کرو مہم کے تحت ابھیجیت دِپکے تاڈگاؤں اسکول پہنچے
دوسری طرف نائب صدر کے عہدے پر آزاد امیدوار اور این ایس یو آئی کے سابق رکن دیپانشو شوکین نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ۳۰؍ ہزار ۶۱۵؍ ووٹ لے کر شاندار جیت حاصل کی ہے۔ اس دوڑ میں اے بی وی پی کے ایشو موریا ۱۶ ؍ ہزار۹۱۰؍ ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہےجبکہ کانگریس کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے ویر چاترت صرف ۴؍ ہزار ۳۱۳؍ ووٹ ہی حاصل کر سکے۔
واضح رہے کہ نتیجے کے باضابطہ طور پر اعلان سے پہلے دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت یونیورسٹی انتظامیہ نے جیتنے والے امیدواروں اور ان کے حامیوں کو کیمپس کے اندر یا باہرجشن کی ریلیاں نکالنے سے سختی سے منع کر دیا تھا۔ بعد ازاں انتخابات میں کامیابی کے بعد نو منتخب صدر یش دباس نے اپنے دورِ کار میں کئے جانے والے کاموں کے منصوبوںکے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کیلئے ہاسٹل کی سہولیات فراہم کرنا ان کی سب سے پہلی ترجیح ہوگی۔ اس کے علاوہ انہوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے این ایس یو آئی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کا بھی جواب دیا۔ جبکہ نائب صدر منتخب ہونے والے دیپانشو شوکین نے آج کی جین زی نسل کے طلبہ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نوجوان نسل پہلے سے زیادہ بیدار اور باشعور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کے طلبہ بہت اچھے سے حالات کو سمجھتے ہیں ، انہیں آسانی سے بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ مزید برآں شوکین نے عزم ظاہر کیا کہ وہ طلباء کیلئےپوری ایمانداری کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ستیا نکیتن واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حادثے میں جان گنوانے والوں کیلئے انصاف کی جنگ جاری رکھیں گے۔ دیپانشو شوکین نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک متاثرہ افراد کو انصاف نہیں مل جاتاوہ جوتے نہیں پہنیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر کے نام پر اپوزیشن کے ووٹ ختم کئے جارہے‘‘
علاوہ ازیں نو منتخب سکریٹری رِیا چھاوڑی نے کہا کہ ان کے دورِ کار میں طالبات اور خواتین کی سیکیورٹی سب سے اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے نوجوان طلباء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی امید نہ ہاریں اور اپنے مقاصد کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے رہیں۔رِیا چھاوڑی نے اپنے ماضی کے انتخابی تجربے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے الیکشن میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور بالآخرڈی یو طلبہ یونین انتخابات۲۰۲۶ء میں سکریٹری کا اہم عہدہ جیت لیا۔