Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں بڑی سڑک کو ہائی وے یا شاہراہ نہیں، بزرگ راہ کہتے ہیں

Updated: April 12, 2026, 3:18 PM IST | Harun Rashid Aleeg | Mumbai

ایران میں گلی یا اسٹریٹ کو خیابان کہتے ہیں۔ تہران میں خیابانِ اقبال بھی نظر آتا ہے اور خیابانِ غالب بھی۔ ایک جگہ ہم نے خیابانِ گاندھی کا بورڈ بھی دیکھا۔ معلوم ہوا کہ خیابانِ منڈیلا بھی ہے۔

The creator of the Shahnameh, Hakim Abul Qasim Ferdowsi, is still held in great esteem in Iran today. Photo: INN
’’شاہنامہ‘‘ کے خالق حکیم ابو القاسم فردوسی آج بھی ایران میں اتنے ہی عظیم المرتبت ہیں۔ تصویر: آئی این این

ایران میں گلی یا اسٹریٹ کو خیابان کہتے ہیں۔ تہران میں خیابانِ اقبال بھی نظر آتا ہے اور خیابانِ غالب بھی۔ ایک جگہ ہم نے خیابانِ گاندھی کا بورڈ بھی دیکھا۔ معلوم ہوا کہ خیابانِ منڈیلا بھی ہے۔ ہم نے سوچا کہ بڑے راستے یا ہائی وے وغیرہ کو شاہراہ کہا جاتا ہوگا۔ لفظ خوبصورت ہے اور فارسی کا بھی ہے۔ کار میں بیٹھے شیشے کے پیچھے سے جھانکتے رہے کہ کسی شاہراہ سے ملاقات ہوجائے لیکن دیدار کو ترس گئے۔ ملاقات ہوئی تو ’بزرگ راہ‘ سے۔ حکومت کے پیامی نے جو ہمارے ساتھ تھا ، راز کھولا کہ صاحب ہمارے یہاں تو شاہراہ کو بزرگ راہ ہی کہا جاتا ہے، ’شاہ‘ کو بھول جائیے۔ جہاں بزرگی ہو وہاں شاہی کا کیا کام۔ ’دیس نکالا‘ کی یہ بھی ایک صورت ہے۔ یہ نام بدلنے کا چلن کچھ ہندوستان ہی میں عام نہیں ایران بھی پہنچا ہوا ہے اور دھوم مچا رہا ہے۔ تہران کی سب سے خوبصورت سڑک ولی ٔ عصر خیابان کہلاتی ہے۔ اسے سڑک کہتے ہوئے لگتا ہے کہ ہم اس کا حق مار رہے ہوں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو بیس پچیس کلو میٹر لمبی ہے۔ چلتی ہے تو رکنے کا نام نہیں لیتی۔ تہران کو دو لخت کرتی ہے اور ڈھلان سے اٹھ کر سامنے پہاڑ پر چڑھ جاتی ہے۔ اس کے دونوں طرف ٹھنڈے پانی کا چشمہ بہتا ہے۔ ایک اس پانی کی ٹھنڈک ہے اور پھر اس راستے کے دونوں طرف ہزاروں چنار کے درخت ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ ولی عصر خیابان، خیابان نہیں رہ جاتا، پھولوں اور پتیوں کا گھر بن جاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں ایران میں پھولوں کی دکان کو کیا کہتے ہیں؟ سنئے اور سر دھنئے، ’شگوفہ سرا۔‘ جی ہاں۔ یہ ۲۴؍ کلومیٹر کا راستہ شگوفہ سرا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تخلیقی عمل میں ذَوق کو مرکزی اور وسیع اہمیت حاصل ہے

اہل ایران کے لئے لفظ ’شاہ‘ سے نجات پانا اتنا سہل نہیں۔ ’شاہراہ‘ میں سے ’شاہ‘ کو تو انہوں نے جلاوطن کردیا اور ’بزرگ راہ‘ سے خوش اور مطمئن ہوگئے لیکن ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں بے بسی دیدنی ہوجاتی ہے۔ لفظ ’شاہ‘ سے گلوخلاصی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ یہ ٹیڑھی کھیر ’فردوسی‘ کے ’شاہنامہ‘ کی ہے اس لئے شاہنامہ آج بھی شاہنامہ ہے اور جہاں تک فردوسی کی بات ہے وہ تو ایران پر راج کررہا ہے۔ ایران میں فردوسی کی مقبولیت اور پزیرائی کا گراف اوپر ہی اوپر اٹھ رہا ہے۔ لگتا ہے یہ گراف کوہ البرز کی چوٹی کو چھو لے گا۔ فردوسی ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، نمائش گاہوں اور دیوان خانوں میں ہر جگہ آپ کو نظر آئے گا، اپنے ہاتھوں میں ۶۰؍ہزار اشعار والا شاہنامہ پکڑے ہوئے۔ سلطان محمود غزنوی کی وعدہ خلافی اور غفلت شعاری کی بناء پر وہ ۶۰؍ ہزار اشرفیوں سے تو محروم رہ گیا تھا لیکن آج صورت ِ حال یہ ہے کہ اس کی یادگاروں پر ، اس کے شاہنامے پر اہل ایران ۶۰؍ ارب بلکہ ۶۰؍ کھرب اشرفیاں نچھاور کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK