Inquilab Logo Happiest Places to Work

نذر محمد سعید امیدی عراق کے نئے صدر منتخب

Updated: April 12, 2026, 5:09 PM IST | Baghdad

عراق میں نذر محمد سعید امیدی صدر منتخب ہوگئے، وہ طویل عرصے سے صدارتی مشیر رہے، اس کے علاوہ سابق وزیر ماحولیات رہے، اور اپنا کیریئر آئینی بحرانوں اور سیاسی تعطل کو حل کرتے ہوئے بنایا۔

Nizar Amidi, Iraq’s new president. Photo: X
عراق کے نئے صدر نذر محمد سعید امیدی ۔ تصویر: ایکس

تقریباً دو دہائیوں تک، نذر محمد سعید امیدی عراق کے صدارتی محل کے پردے کے پیچھے کام کرتے رہے، آئینی تعطل، سیاسی بحرانوں اور بغداد اور شمالی عراق میں کردستان کے علاقے کے درمیان نازک توازن کو سنبھالنے میں مدد کرتے رہے۔ سنیچر کو، یہ طویل عرصے سے مشیر اور سابق وزیر ماحولیات  عراقی ریاست کے سربراہ بن گئے، جب انہوں نے پارلیمان کا اعتماد جیت کر عراق کا نیا صدر بننے میں کامیابی حاصل کی۔امیدی، جو پہلے سے کردستان محب وطن یونین کے امیدوار تھے، نے پارلیمانی ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں۲۲۷؍ ووٹ حاصل کیے، حریف مثنا امین کو شکست دی جو صرف۱۵؍ ووٹ لے سکے۔ان کا عروج ایک ایسے سیاسی کیریئر کا تاج ہے جو عوامی خطابت سے زیادہ خاموش اتفاق رائے سازی پر استوار ہے۔
واضح رہے کہ صدارتی محل سے صدارت تک برسوں امیدی عراق کے کلیدی آئینی مشیروں میں سے ایک رہے، انہوں نے۲۰۰۵ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان صدور جلال طالبانی، فؤاد معصوم اور برہم صالح کے ساتھ کام کیا۔بغداد کے پیلس آف پیس کے اندر، انہوں نے پردے کے پیچھے مسائل حل کرنے والے کے طور پر شہرت حاصل کی، وہ صدارتی احکامات کا مسودہ تیار کرنے، آئینی بحرانوں سے نمٹنے اور عراق کی حریف سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے بنانے میں ماہر تھے۔اس عہدے نے انہیں عراق کے سب سے حساس مسائل میں سے ایک کے انتظام کا نایاب تجربہ بھی دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مذاکرات کامیاب ہو، نہ ہو ہرمز کو کھلوا کر رہیں گے‘‘

۶؍ فروری۱۹۶۸؍ کو صوبہ دہوک کے قصبے عمادیہ میں پیدا ہونے والے امیدی نے موصل یونیورسٹی سے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، اس سے پہلے کہ انہوں نے ایک سیاسی کیریئر شروع کیا جو بغداد اور کردستان کے علاقے میں پھیلا ہوا تھا۔ان کی زندگی اور کیریئر سلیمانیہ اور بغداد کے درمیان گزری، جس نے انہیں وہ شکل دی جسے بہت سے عراقی سیاست دان ایک بین العلاقائی شخصیت قرار دیتے ہیں۔عربی اور کرد میں روانی رکھنے والے اور چار بچوں کے والد، امیدی کو اکثر ایک سیاسی ترجمان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو عراق کے مختلفمراکزِ اقتدار سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔طالبانی کے سیاسی وارث امیدی نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز۱۹۹۳ء سے۲۰۰۳ء تک کردستان محب وطن یونین کے سیکریٹری جنرل کے دفتر میں کیا۔بعد میں وہ پارٹی کی صفوں میں ترقی کرتے ہوئے اس کے سیاسی بیورو کے رکن بن گئے اور۲۰۲۴ء میں اس کا بغداد دفتر سنبھالا۔انہیں بڑے پیمانے پر سابق صدر جلال طالبانی کے طرزِ عمل کا سیاسی وارث سمجھا جاتا ہے، جن کا عراق کے نسلی اور فرقہ وارانہ تنوع پر زور انہیں ان چند کرد رہنماؤں میں سے ایک بناتا تھا جو ملک کے پورے سیاسی منظر نامےمیں وسیع پیمانے پر قبول کیے گئے۔یہ شبیہ امیدی کے لیے اس وقت کارگر ثابت ہوئی جب عراق کا بکھرا ہوا سیاسی نظام ایک بار پھر سمجھوتے کی تلاش میں ہے۔وزیر ماحولیات  کے طور پر  انہوں نے اس عہدے کا استعمال ماحولیاتی مسائل کو قومی سلامتی کی سطح تک بلند کرنے کے لیے کیا، خاص طور پر پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے تعلق سے۔انہوں نے بڑے بین الاقوامی فورم میں عراق کی نمائندگی کی اور عراق کے پانی کے حقوق کا دفاع کرنے والی سب سے نمایاں آوازوں میں سے ایک بن کر ابھرے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کیخلاف برلن اور میلان میں ہزاروں افراد کا احتجاج

پارلیمان نے انہیں اس وقت منتخب کیا جب گزشتہ دو اجلاس عراق کی دو بڑی کرد جماعتوں کردستان محب وطن یونین اور کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان اس عہدے پر اختلافات کی وجہ سے ملتوی کر دیے گئے تھے۔واضح رہے کہ عراق کے اقتدار کی شراکت داری کے نظام کے تحت، صدارت ایک کرد سیاست دان کے لیے مخصوص ہے، جبکہ وزیر اعظم شیعہ عرب اور پارلیمان کا اسپیکر سنی عرب ہوتا ہے۔عراقی آئین کے مطابق صدر کو اپنے انتخاب کے۱۵؍ دنوں کے اندر پارلیمانی بلاک کے سب سے بڑے امیدوار کو حکومت بنانے کا کام سونپنا ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK