ذیل کا مضمون دراصل تقریر ہے جو بابائے اُردو نے اب سے کم و بیش ۹۰؍ سال پہلے کی تھی۔ آپ کو محسوس ہوگا کہ اتنا عرصہ گزر نے کے باوجود اہل اُردو کا رویہ بالکل نہیں بدلا۔
EPAPER
Updated: October 04, 2026, 2:36 PM IST | Abdul Haq | Mumbai
ذیل کا مضمون دراصل تقریر ہے جو بابائے اُردو نے اب سے کم و بیش ۹۰؍ سال پہلے کی تھی۔ آپ کو محسوس ہوگا کہ اتنا عرصہ گزر نے کے باوجود اہل اُردو کا رویہ بالکل نہیں بدلا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ نیا زمانہ ہے، حالات بھی بہت کچھ بدل گئے ہیں اور نئے خیالات کی رو بڑھتی چلی آرہی ہے، اس لئے نئے الفاظ کا آنا ناگزیر ہے۔ ہم اسے تسلیم کرتے ہیں کہ ایک زندہ زبان کے لئے لازم ہے کہ اس میں نئے الفاظ کا اضافہ ہوتا رہے ورنہ وہ ایک روز مردہ ہو جائےگی۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ لغات میں ثقیل، بھدے اور بے ڈھنگے الفاظ چن چن کر بھر دیئے جائیں۔ ہر زبان کی ایک فطرت اورساخت ہوتی ہے اور جب تک لفظ اس کے سانچے میں نہیں ڈھلتا، قابل قبول نہیں ہوتا۔ ابھی حال میں آپ کے صوبے کے وزیر تعلیم کی ایک تقریر سرکاری طور پر چھپ کر آئی تھی، اسے دیکھ کر یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ انسانوں کی زبان ہے بلکہ یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ شایدراکشسوں کی بولی ہے۔ یہ زبان کا بنانا نہیں، بگاڑنا ہے۔ یہ جو بار بار کہا جاتا ہے کہ آسان لکھو، یہ ذرا تفصیل طلب ہے۔ ہر زبان میں آسان لکھنے والے بھی ہوتے ہیں اور مشکل لکھنے والے بھی۔ ایک تو اپنا اپنا طرز بیان ہوتا ہے اور دوسرے مضمون کی نوعیت۔ طرز بیان کے معاملے میں کسی کو مجبور نہیں کر سکتے۔ مضمون کی نوعیت کا مسئلہ اور بھی ٹیڑھا ہے۔ سائنس، فلسفہ، شعر وغیرہ ایسی چیزیں ہیں کہ ان میں اشکال آ ہی جاتا ہے۔ البتہ بچوں، لڑکوں لڑکیوں اور عام لوگوں کیلئےجو کتابیں لکھی جائیں، وہ ضرور آسان اور سلیس زبان میں ہونی چاہئیں۔ اس بارے میں لوگ الفاظ پر زور دیتے ہیں کہ غیرمانوس اور ثقیل لفظ نہ ہوں۔ اشکال غیرمانوس لفظوں سے اتنانہیں پیدا ہوتا جتنا پیچیدہ اور مُغلَق (دقیق، مشکل) بیان سے۔ اس سے زیادہ زور اس بات پر دینا چاہئے کہ بیان سادہ اور سہل ہو۔ رہا لفظ، تو اس کا پرکھنے والا ادیب ہی ہو سکتا ہے۔ وہ ہر لفظ کی نبض پہچانتا ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ کون سا لفظ کہاں آنا چاہئے۔ اس میں موقع اور محل کو پہچاننا بڑی بات ہے۔ یہ انشاپردازی کا بڑا گُرہے۔ لفظ میں ایک جادو ہوتا ہے جو بے محل استعمال سے پھیکا پڑ جاتا ہے اور اچھا خاصا لفظ بےجان اور بےاثر ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری آواز زیادہ سے زیادہ اشخاص تک پہنچے تو ہمیں ایسی زبان میں لکھنا یا بولنا چاہئے جسے زیادہ سے زیادہ اشخاص سمجھ سکیں۔ اور اگر ساتھ ہی آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کی تحریر و تقریر میں اثر اور دل کشی بھی ہو تو اس کے لئے بڑی محنت، مشق اور مطالعہ کی ضرورت ہے ورنہ نری سادہ زبان زیادہ کارآمد نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: شعروں کی آن لائن اِصلاح کا نیا رُجحان کتناکارگر؟
میں اس موقع پر دو ایسی غلط فہمیوں کوبھی رفع کرنا چاہتا ہوں جو ہم لوگوں میں عام طور پر پائی جاتی ہیں۔ ہم اردو دانوں کو بڑا غرہ ہے کہ اردو زبان میں آگے بڑھنے اور پھیلنے کی فطری صلاحیت موجود ہے۔ وہ گزشتہ زمانہ میں بغیر کسی خاص کوشش کے خودبخود پھیلتی چلی گئی اور اسی طرح آئندہ بھی پھیلتی اور ترقی کرتی چلی جائےگی۔ اس میں مطلق شبہ نہیں کہ اردو میں یہ فطری صلاحیت موجود ہے لیکن اگر فطرت کو انسانی سعی کی مدد نہ ملے تو فطری صلاحیت بھی ٹھٹھر کررہ جاتی ہے اور اکثر اوقات ایسی چیزیں خود رَو پودوں کی طرح پامال ہوکر رہ جاتی ہیں۔ اس لئے فطری صلاحیت کو ابھارنے اور ترقی دینے کے لئے آپ کی کوشش پیہم اور متواتر جاری رہنی چاہئے۔ دوسراایک یہ خیال بارہا سننے میں آیا ہے کہ زبان قدرتی چیز ہے اور بنانے سے نہیں بنتی۔ اس دھوکے میں نہ رہئے گا۔ انسانی کوشش بڑی بدبلاہے۔ یہ ہر مشکل پر غالب آ سکتی ہے۔ اگر وہ لوگ جو نئی سنسکرت آمیز ہندی کے حامی ہیں، عزم واستقلال سے کوشش کرتے رہے تو یاد رکھئے کہ وہی زبان جسے آپ حقارت سے دیکھتے ہیں اور جس پر ہنستے ہیں، ایک روز کامیاب ہوکر رہےگی۔
حضرات! علی گڑھ نے اردو زبان کی بڑی خدمت کی ہے۔ سرسید احمد خاں اور ان کے اثر سے ان کے رفقاء نے اسے ادبی اور علمی رتبے تک پہنچانے اور مقبول بنانے میں نہایت قابل قدر کام کیا ہے۔ سرسید کا یہ بہت بڑا احسان ہے۔ اب آپ اس کے وارث ہیں۔ یہ زبان ایک بڑی دولت ہے جو اسلاف ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔ انہوں نے اس کیلئے بڑی بڑی جانفشانیاں اور قربانیاں کی ہیں اور اپنے خون جگر سے اسے سینچا ہے۔ اب یہ ہم تک پہنچی ہے اور بےمشقت اور مفت ہم تک پہنچی ہے۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور ہمارایہ فرض ہونا چاہئے کہ ہم موجودہ حالات کی رو سے اسے اور ترقی دیں اور اس دولت میں اضافہ کریں تاکہ جب یہ آئندہ نسلوں تک پہنچے تو آپ کو اسی شکرگزاری سے یاد کریں جیسے اب ہم اپنے اسلاف کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ آئندہ نسلوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اگر آپ نے اپنے فرض میں کوتاہی کی تو میرے کہنے کی ضرورت نہیں، آپ خود سمجھ جائیے کہ وہ آپ کو کن الفاظ سے یاد کریں گی اور آپ کے حق میں کیا کہیں گے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہماری طبیعتیں ہنگامہ پسند واقع ہوئی ہیں۔ ہم جلسے، مشاعرے، کانفرنسیں بڑی شان سے کرتے ہیں، تجویزیں بھی بڑی آب و تاب سے پیش کرتے ہیں، بحثیں بھی بڑے جوش و خروش سے ہوتی ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو نہ معلوم وہ جوش و خروش کیوں ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ مجھے علی گڑھ کے طالب علموں سے یہ توقع ہے کہ وہ دھوم دھام کم اور کام زیادہ کریں گے اور اس یونیورسٹی کے بانی کی نظیر کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں گے اور جس خلوص، استقلال اور تندہی سے اس نے اس زبان کے رتبے کو بڑھایا، آپ بھی اسی طرح اس کے بنانے، بڑھانے اور سنوارنے میں کوشش کریں گے کیونکہ اس کی سلامتی میں ہماری سلامتی اور اس کے بگاڑ میں ہمارا بگاڑ ہے، یہ ہمہ وقت ذہن میں رہنا چاہئے۔
(مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں دسمبر ۳۸ء میں کی گئی ایک تقریر)