مستند شعراء سے گفتگو میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس کا کتنا فائدہ ہے اور کیا یہ روایتی اصلاح کی جگہ لے سکتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 4:37 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai
مستند شعراء سے گفتگو میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس کا کتنا فائدہ ہے اور کیا یہ روایتی اصلاح کی جگہ لے سکتا ہے۔
شعروں کی آن لائن اصلاح کا نیا ادبی رجحان اردو ادب کے لئے خوش آئند پیش رفت کہا جاسکتاہے۔ اس کے ذریعے شاعر اپنے کلام کو ماہرین عروض، اساتذۂ سخن اور صاحبِ ذوق اہلِ ادب تک آسانی سے پہنچا سکتا ہے۔ پہلے کسی استاد یا صاحبِ علم شاعر تک رسائی کیلئے ذاتی ملاقات، سفر اور خطوط یا پھر طویل انتظار درکار ہوتا تھالیکن اب انٹرنیٹ نے یہ فاصلہ تقریباً ختم کر دیا ہے۔ شاعر اپنے شعر کی بحر، وزن، قافیہ، ردیف، زبان اور اسلوب سے متعلق رہنمائی گھر بیٹھے حاصل کر سکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نئے لکھنے والوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور فنی غلطیوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے جبکہ تجربہ کار شعراء مختلف آراء سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ شعروں کی آن لائن اصلاح ان لوگوں کیلئے بہت اہم سہولت ہے جنہیں اپنے علاقے میں کسی مستند استاد یا شاعر تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ یوں آن لائن اصلاح نے ادبی رہنمائی کے دائرے کو وسیع کیا ہے اور نئے لکھنے والوں کے لئے امکانات پیدا کئے ہیں۔ البتہ آن لائن اصلاح میں بھی استاد کے ذوق، تجربے اور ادبی بصیرت کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ ٹیکنالوجی سہولت فراہم کر سکتی ہےمگر شعر کی روح، کیفیت اور تخلیقی انفرادیت کو سمجھنے کے لئے انسانی ادبی شعور بہرحال ضروری ہے۔ہم نے اسی رجحان کے بارے میں چند شعراء سے گفتگو کی جو آن لائن اصلاح دیتے ہیں یا اس پرنظر رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:خالد شاہین: بچوں کے ڈراموں کا ایک روشن چہرہ
عالمی شہرت یافتہ شاعر اور ماہر عروض عبید اعظم اعظمی جن کے کئی شاگرد ہیں ، کہتے ہیںکہ آن لائن اصلاحِ سخن تیز رفتار زمانے کی ایک ضرورت ضرور ہےلیکن ذاتی طور پر میں اسے زیادہ تشفی بخش طریقہ نہیں سمجھتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حتی الامکان اس سے گریز کرتا ہوں۔ میرے نزدیک شعر کی اصلاح محض لفظوں کی درستی کا نام نہیں، اس کے پیچھے شاعر کا خیال، اس کا احساس، اس کی کیفیت اور وہ بات بھی ہوتی ہے جو وہ کہنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ سامنے بیٹھے ہوئے شاعر سے گفتگو کرکے سمجھنا کہیں زیادہ آسان ہوتا ہے۔ عبیداعظم اعظمی کے مطابق اسی لئے میری کوشش ہوتی ہے کہ ممبئی یا اس کے آس پاس رہنے والے شعراء کا کلام، جہاں ممکن ہو، انہیں سامنے بٹھا کر اصلاح کیا جائے۔ میں انہیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ یہاں غلطی ہے، بلکہ یہ بھی سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ غلطی کیوں ہے، اس کی نوعیت کیا ہے اور اسے درست کرنے کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے۔ میں خواہ مخواہ کی اصلاح کا بھی قائل نہیں ہوں۔ اگر زبان میں کوئی بالکل واضح غلطی نہ ہو، یا مصرع بحر سے خارج نہ ہو رہا ہو، تو محض اپنی پسند کے مطابق شعر کو بدل دینا مناسب نہیں لگتا۔ شاعر کی اپنی آواز اور اس کے اظہار کی اپنی شناخت ہوتی ہے، استاد کا کام اسے مٹانا نہیں، سنوارنا ہے۔ عبید اعظم کہتے ہیں کہ آن لائن اصلاح کے ذریعے بحر و وزن یا زبان و بیان کی خامیوں کو بڑی حد تک دور کیا جاسکتا ہے لیکن طالب علم کی مکمل تربیت ایک مختلف نوعیت کا کام ہے۔ اصلاحِ سخن صرف غلطی پکڑنے کا نام نہیں، اصل مقصد شاعر کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں وہ اپنی غلطی خود پکڑ سکے۔ البتہ جو طلبہ ہندوستان کے دوسرے حصوں میں مقیم ہیں یا بیرونِ ملک رہتے ہیں، ان کیلئے آن لائن اصلاح ناگزیر ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ان کے کلام پر آن لائن کام کرنا پڑتا ہے، اگرچہ اس طریقے کی اپنی محدودیتیں بھی ہیں۔ واضح رہے کہ عبید اعظم یہ کام بغیر کسی مالی منفعت کے کرتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک اصلاحِ سخن محض ایک خدمت نہیں، ایک ادبی ذمہ داری بھی ہے۔
ناگپور کے معروف شاعر شمشاد شادؔ جو خود آن لائن اصلاح دیتے ہیں اور اس کیلئے وہاٹس ایپ پر ایک باقاعدہ گروپ ’’مرکز ادب ‘‘ چلارہے ہیں ، نے بتایا کہ وہ ۲۰۱۶ء سےیہ گروپ چلارہے ہیں جس میںابتدائی طور پر ۵۰؍ سے ۶۰؍ ممبران تھے۔ اب ۱۵؍ سے ۲۰؍ ممبران ہیں۔ یہ تمام نوآموز شعراء ہیں۔ ان کے شعروں پر ہم اصلاح دیتے ہیں۔ گروپ میں شعروں پر گفتگو بھی ہوتی ہے اورحتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ شعراء کو تمام رموز سے واقف کرایا جائے۔ اس کے بعد وہ کتنا سیکھتے ہیں اور کتنا سمجھتے ہیں یہ ان کی اپنی صلاحیت پر منحصر ہے۔شمشاد شاد صاحب نے بتایا کہ وہ یہ کام بغیر کسی مالی منفعت کے کررہے ہیں اور محض شعر و شاعری کے شوق میں کررہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ شعروںپر اصلاح بہت صبر آزما کام ہے لیکن وہ نوجوان شعراء کے ذوق کو جلا بخشنے کیلئے یہ ضروری ہے۔ اس گروپ سےکئی شعراء نے استفادہ کیا ہے جن میں مظہر قریشی ،ثاقب قمری ، شارق خلیل آبادی اور نعمان رضا کے نام قابل ذکر ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نئے پرانے چراغ: مہاراشٹر کی اُردو محفلوں کو نئی روشنی کی ضرورت
معروف شاعر اور مدیر اردو چینل پروفیسر قمر صدیقی نے بتایا کہ شعروں پر آن لائن اصلاح کا نظام نیا ہے لیکن یہ پختہ ہوتا جارہا ہے۔ اس میں نوآموز اور دور دراز کے شہروں میں رہنے والے شاعروں کو کافی سہولت بھی مل جاتی ہے کیوں کہ ماضی کی طرح خط و کتابت کے بجائےوہاٹس ایپ پر یہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ فوری طور پر اصلاح مل جاتی ہے اور اکثر شعر میں کمی و بیشی کے تعلق سے مشورہ بھی مل جاتا ہے جس کا بلاشبہ نئے شعراء کو فائدہ پہنچتا ہے۔ حالانکہ آن لائن اصلاح سے واقعی کتنا فائدہ ہوتا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن موجودہ دور کے لحاظ سے یہ کافی تیزی سے بڑھتا ہوا رحجان ہے۔ قمر صدیقی کے مطابق صرف آن لائن اصلاح ہی نہیں بلکہ غزلوں کے لئے بھی آن لائن کلاس چلائی جارہی ہے۔ خود ممبئی یونیورسٹی میں اس کی ڈیمانڈ آرہی ہے کہ غزلوں کی آن لائن کلاس شروع کی جائے جس پر ہم غور کررہے ہیں۔
شمشاد شادؔ کے گروپ سے ہی استفادہ کرنے والےمظہر قریشی کے مطابق مرکز ادب گروپ میں شامل ہوکر انہیں کافی فائدہ ہوا کیوں کہ انہوں نے شاعری ہی کول انڈیا لمیٹیڈ سے سبکدوشی کےبعد شروع کی تھی۔وہاں شمشاد شاد صاحب نے کافی مدد کی۔ اب مظہر قریشی خود اپنا گروپ چلارہے ہیں جس میں وہ نئے شعراء کی اصلاحِ سخن کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شعر کی اصلاح بہت دقت طلب کام ہے لیکن جس نےاس کے رموز جان لئے وہ پھر اس عمل سے دور نہیںرہ سکتا۔