Inquilab Logo

لحن داؤدی

Updated: June 23, 2024, 5:36 PM IST | Ali Sardar Jafri | Mumbai

ہومر کی نظم ساز پر گائی گئی، فردوسی کا شاہنامہ محفلوں میں سنایا گیا، کالی داس کی شکنتلا اور شیکسپئر کے ڈرامے اسٹیج کے ذریعے سے لوگوں میں عام ہوئے۔ رومی اور عطار کا کلام، حافظ اور سعدی کی غزلوںنے دلوں میں پہلے گھر کیا ، کاغذ پر بعد میں منتقل کی گئیں۔انیس اور دبیر کے مرثیے شائع ہونے سے پہلے منبر سے سنائے جاتے تھے۔ داغ اور امیر مینائی ہی نہیں اقبال بھی اپنا ابتدائی کلام مشاعروں میں سناتے تھے۔

Rumi. Photo: INN
رومی۔ صویر : آئی این این

شاعری لحن داؤدی ہے۔ 
 زمانہ قبل تاریخ کے دھندلکوں میں انسان نے شعر لکھنے کے بجائے بولنا اور گانا شروع کیا۔ شاعری رقص و نغمہ تھی۔ 
 قدیم ترین آسمانی صحیفوں کی زبان یا تو شاعری ہے یا شاعری کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ صحیفے بھی بولے یا گائے جاتے تھے۔ کاغذ اور قلم کی وساطت کے بغیر ہر لفظ ہونٹوں سے نکل کر کانوں کے ذریعے سے دل و دماغ تک پہنچتا تھا۔ الفاظ اپنی انتہائی فصاحت اور بلاغت کے باوجود سہل ممتنع کا درجہ رکھتے تھے۔ ان الفاظ نے لوگوں کو متاثر پہلے کیا، ان کی تشریحیں اور تفسیریں بعد میں لکھی گئیں۔ قرآن، وید، مہابھارت، ژنداوستھا، انجیل، ہر کتاب پیغمبروں، مہارشیوں اور اوتاروں کے ہونٹوں سے عام انسانوں کے دل پر اتری ہے۔ ان الفاظ کے اعجاز نے پیغمبروں کی پیغمبری تسلیم کرائی، مذاہب کی بنیادیں ڈالیں اور معاشرت کی تنظیم کی۔ 
  ہومر کی نظم ساز پر گائی گئی، فردوسی کا شاہنامہ محفلوں میں سنایا گیا، کالی داس کی شکنتلا اور شیکسپئر کے ڈرامے رومیو جولیٹ، اوتھیلو، میکبتھ، ہیملٹ، مرچنٹ آف وینس، سب اسٹیج کے ذریعے سے لوگوں میں عام ہوئے۔ وہ کاغذ کے مردہ سینے پر سرد حروف بن کر ابھرنے سے پہلے بولے ہوئے الفاظ کی سیال دھار بن کر کانوں میں رس گھولتے رہے ہیں۔ رومی اور عطار کا کلام، حافظ اور سعدی کی غزلیں، مکتب اور ملا کی سند سے بے نیازی کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔ انہوں نے دلوں میں پہلے گھر کیا، کاغذ پر بعد میں منتقل کی گئیں۔ خود ہندی اور اُردو کی روایت بھی یہی رہی ہے۔ کبیر گاؤں گاؤں، قصبے قصبے اپنے پدگاتے پھرتے تھے۔ وہ اَن پڑھ تھے لیکن گانے والوں کے ذریعے سے، صوفیوں کی محفلوں میں وہ فارسی کے بہترین شاعروں اور خاص طور سے عطار اور رومی کے کلام سے آشنا ہوئے۔ میرابائی اور سورداس کے بھجن صدیوں سے ہونٹوں پر رقص کررہے ہیں اور ان پڑھ دیہاتیوں میں نسلاً بعدَ نسلٍ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے ہیں۔ تلسی داس کی رامائن کروڑوں انسانوں تک صرف سننے سنانے سے پہنچی ہے۔ 
  یہ سب اعلیٰ ترین شاعری کی مثالیں ہیں جو کتاب اور کاغذ کی قیدوبند سے آزاد رہی ہیں اور ہوا کے جھونکوں اور اڑتی چڑیوں کی طرح آزادی سے پرواز کرتی رہی ہیں۔ ان کے مصرعے اور ٹکڑے ضرب المثل بن گئے اور بول چال کی زبان میں تبدیل ہوگئے۔ اردو کے اساتذہ صاحب دیوان بننے سے پہلے مشاعروں میں سند حاصل کرتے تھے۔ قصائد، جن کے بعض حصے اعلیٰ شاعری کی اچھی مثال ہیں، کاغذ سے نہیں پڑھے جاتے تھے بلکہ بھرے درباروں میں سنائے جاتے تھے۔ جب شاعر اپنا کلام سنا سنا کر داد اور سند حاصل کرلیتا تھا تب کہیں جا کر دیوان مرتب کرنے کی ہمت کرتا تھا۔ میر اور غالب کے دیوان ان کے شہرے حاصل کرلینے کے بعد لکھے اور چھاپے گئے ہیں۔ ذرائع آمد و رفت کے محدود ہونے کے باوجود ان کے اشعار ایک شہر سے دوسرے شہر میں سفر کرتے رہتے تھے۔ 
  انیس اور دبیر کے مرثیے شائع ہونے سے پہلے منبر سے سنائے جاتے تھے اور ان کے سننے والے عام لوگ تھے۔ داغ اور امیر مینائی ہی نہیں اقبال بھی اپنا ابتدائی کلام مشاعروں میں سناتے تھے۔ وہیں سے ان کی شہرت کی ابتداء ہوئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں شکوہ اور شمع اور شاعر جیسی طویل نظمیں ترنم سے پڑھی گئی ہیں۔ اگر بعد میں انہوں نے اپنا کلام محفلوں میں سنانا ترک کردیا تو گانے والوں نے اسے عام کیا۔ آج بھی اچھے قوالوں کے پاس اقبال، غالب، حافظ، رومی، خسرو، سعدی اور عطار کا بہترین کلام ملے گا۔ 
 ابھی وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے حفیظ جالندھری کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ جیسی درس گاہوں میں ترنم سے شاہنامہ ٔاسلام پڑھتے سنا ہے۔ وہ گھنٹوں اپنا کلام سناتے تھے اور علی گڑھ کے انتہائی سنجیدہ اساتذہ اور دانشور گھنٹوں بیٹھ کر سنتے تھے۔ صرف جگرؔ ہی نہیں بلکہ فراقؔ گورکھپوری نے بھی اپنی شہرت مشاعروں سے حاصل کی۔ 
 دراصل شاعری بنیادی طور سے گانے، سننے اور سنانے کی چیز ہے (ترنم کے ساتھ اور بغیر ترنم کے)۔ جو شاعری اس قابل نہیں ہے اس کا رشتہ عام انسانوں اور زندگی سے کٹ چکا ہے اور وہ اپنے جواز کیلئے یہ دلیل لارہی ہے کہ شاعری دراصل کتاب میں پڑھنے کی چیز ہے، وہ معمہ اور چیستان ہے جسے حل کرنے کے لئے سرکھپانے کی ضرورت ہے۔ چونکہ وہ دلوں میں نہیں اترسکتی اس لئے دلیلوں کے سہارے زندہ رہنا چاہتی ہے۔ 
 دنیا کی عظیم شاعری سہل ممتنع ہے۔ جو شاعری یہ کیفیت حاصل کرلیتی ہے وہ تمام تاریخی، قومی، لسانی سرحدوں کو توڑ دیتی ہے اور بنی آدم کی میراث بن جاتی ہے۔ اس کی شہادت شیکسپئر، حافظ، سعدی، خیام، پشکن، غالب، ٹیگور سب دے سکتے ہیں۔ یہ جھوٹ انحطاطی شاعروں کی طرف سے بولا جارہا ہے کہ مشاعرے اچھی شاعری کے دشمن ہیں اور اس کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان نئے شاعروں کو پہنچ رہا ہے۔ وہ اپنا کلام سنانے سے پہلے چھاپ دیتے ہیں۔ نتیجہ مایوسی اور گمنامی۔ اقبال نے شاعری شروع کرنے کے تقریباً تیس سال بعد، جوش نے بیس سال بعد، مجاز اور فیض نے تقریباً پندرہ سال بعد اور فراق نے بیس پچیس سال بعد اپنا کلام کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس سے پہلے وہ کلام مشاعروں میں سنا جاتا تھا اور رسائل میں پڑھا جاتا تھا لیکن سنا زیادہ جاتا تھا۔ رسائل اور کتابیں پڑھنے والے صرف چند ہزار کی تعداد میں ہیں لیکن ان کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ 
  ہمارے نئے شاعر جن میں بعض بہت اچھے شاعر ہیں، شاعری کی عظمت کے نام پر مشاعروں سے کتراتے ہیں اور ان کو فریب وہ شاعر اور وہ نقاد شاعر دے رہے ہیں جو اپنے کلام کی خرابی کی وجہ سے مشاعروں میں ناکام ہوتے رہتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ بعض اوقات کمتر درجے کی شاعری بھی مشاعروں میں کامیاب ہوجاتی ہے لیکن وہ اعلیٰ درجے کی شاعری کا حق چھیننے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ سامعین کا رویہ بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ وہ کمتر شاعروں کو تفریح کے انداز میں سنتے ہیں اور بہتر شاعروں کو ادب اور احترام کے ساتھ۔ یہی بات کبھی کبھی بازار میں بھی نظر آتی ہے۔ بعض کمتر درجے کی شاعری کی کتابیں زیادہ فروخت ہوتی ہیں اور اعلیٰ درجے کے شاعروں کی کم۔ لیکن یہاں بھی کمتر درجے کی شاعری بہتر شاعری کا حق چھیننے میں ناکام رہتی ہے۔ اچھی شاعری کاغذ پر بھی اچھی ہوتی ہے اور اسٹیج پر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ غالب اور اقبال کا کلام آج بھی گایا جاتا ہے اور ذوق اور مومن کا کلام کم سننے میں آتا ہے۔ 
 اس زمانے میں اردو شاعری ایک نئی صورت ِ حال سے دوچار ہے۔ گزشتہ پچاس سال میں اردو کے ساتھ جو بے انصافی کی گئی ہے اس کی وجہ سے اس زبان کی بساط سکڑ گئی ہے۔ آج کی طاقتور ریاستوں کے عہد میں جو زبان تعلیم اور سرکاری نظم و نسق سے نکال دی جائے گی اس کی بساط یقیناً سمٹتی چلی جائے گی اور اس کے سمجھنے والوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جائے گی۔ یہی اردو کے ساتھ ہوا۔ لیکن چونکہ بول چال میں اب بھی اردو زبان اپنے سارے حسن کے ساتھ حاوی ہے اس لئے فلموں میں بھی یہی زبان ہندی کے نام پر استعمال ہورہی ہے۔ اس نے اردو کو ایک ہندوستان گیر مقبولیت عطا کردی ہے اور اس کے ساتھ مشاعروں کی مقبولیت بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ دراصل عوام کے احتجاج کی ایک شکل ہے۔ یہ خاموش احتجاج اردو شاعری کی مقبولیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ 
 گزشتہ بیس سال میں جب اردو کچلی گئی ہے تو اس زبان کا نام کروڑوں آدمیوں تک صرف فلموں اور مشاعروں کے ذریعے سے پہنچا ہے۔ اس نے اردو کو سامعین کا ایک نیا گروہ دیا ہے جو اردو تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے زبان کو کم سمجھتا ہے لیکن اس کے حسن اور لطافت کا گرویدہ ہے۔ یہ گروہ مشاعروں میں بہت بڑی تعداد میں نظر آتا ہے اور حسب توفیق شعر سے لطف لینے کی کوشش کرتا ہے۔ اس گروہ کے خلاف حقارت کا انداز ایک ایسے احساس برتری کا نتیجہ ہے جس سے اردو زبان اور ادب کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ 
  اردو شعر کے سامعین کا ایک دوسرا گروہ ان حضرات پر مشتمل ہے جو اس اعتبار سے خوش قسمت ہیں کہ انہوں نے اردو کی تعلیم حاصل کی ہے اور اس کی بہترین روایت سے واقف ہیں۔ اس گروہ کا ذوق سنجیدہ ہے پھر بھی صرف کلاسیکی ہے اور اس میں اک ذرا سی فرسودگی بھی آگئی ہے کیونکہ اردو کی عام تعلیم کی کمی کی وجہ سے یہ گروہ خود اپنے اندر سمٹ گیا ہے۔ یہ صرف کلاسیکی تغزل کا دلدادہ ہے اور تغزل کی روایت کے سوا باقی شاعروں کو نظرانداز کرتا ہے۔ ان میں ایسے حضرات بھی ملیں گے جنہوں نے اقبال کے بعد کسی شاعر کو نہیں پڑھا ہے۔ 
  اس ثقہ اور روایتی مزاج کے گروہ کے ردعمل میں ایک تیسرا گروہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ وہ سامع بھی ہے اور شاعر بھی، وہ اردو کی ساری روایت کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنے آپ کو بے انتہا جدید سمجھتا ہے۔ یہ گروہ مغرب کی انحطاطی شاعری کی اندھی تقلید میں مبتلا ہے۔ اس نے مغرب کی صحتمند روایت سے تخلیقی اثر قبول نہیں کیا۔ 
  اور آج کا اردو شاعر ان تین گروہوں کے درمیان حیران و پریشان ہے۔ اس کے سامعین اور قارئین ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں اور یہ تینوں ٹکڑے آپس میں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے۔ 
  ان حالات میں اردو شاعروں کا کام خاصا دشوار ہوگیا ہے لیکن اس دشواری کے باوجود شاعر ہی ہے جو ان تینوں گروہوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرسکتا ہے۔ اور وہ اپنے شعر کے ذریعے سے اگر اُردو کی نئی شعری روایت کے احترام کے ساتھ نئی تکنیک اور جدت کی طرف قدم بڑھائے اور آج کے اجتماعی عرفان کو اپنے ذاتی عقیدے سے ہم آہنگ کرے تو وہ شاعری پیدا ہوسکے گی جو بیک وقت زمانے کی طرح بوڑھی اور جوان ہوگی۔ 
 تازہ کاری وہی قابل قدر ہوتی ہے جس میں صدیوں کی صداقت کی روح ہوتی ہے۔ غالب اور شیکسپئر آج بھی جدید اور تازہ کار ہیں اور آج کے عہد میں عظیم شعراء خواہ وہ دنیا کی کسی زبان میں شعر کہہ رہے ہوں، اپنی تازہ کاری کے ساتھ ساتھ غالب اور شیکسپئر کے ہم عصر ہیں۔ انسانی جذبات اور احساسات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ غصہ غصہ ہے، رشک رشک ہے، محبت محبت ہے لیکن ان کے پس منظر اور وقتی محرکات بدلتے ہیں اور اسی تبدیلی میں شاعری کی تازہ کاری کی داستان پوشیدہ ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK