• Thu, 29 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

زبانیں دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر سمو کر اپنا ذخیرۂ الفاظ وسیع کرتی ہیں!

Updated: February 11, 2024, 12:06 PM IST | Maulvi Abdul Haq | Mumbai

مگر اپنی زبان کے الفاظ سے ناآشنائی کے سبب دیگر زبانوں کے الفاظ کا دھڑلے سے استعمال اول درجے کی کاہلی اور اپنی زبان کو نقصان پہنچانے کا شعار ہے۔ اس مضمون میں ایسے ہی چند اہم نکات زیر بحث لائے گئے ہیں۔

Language is unable to accurately convey the depth and nuances of thought and subtle differences, and that is why various efforts are made to convey them. Photo: INN
زبان خیال کی گہرائیوں اور باریکیوں اور نازک فَرقوں کو صحت کے ساتھ ادا کرنے میں قاصر رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اداکرنے کیلئے طرح طرح کے جتن کیے جاتے ہیں۔ تصویر : آئی این این

اُردو پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ مخلوط زبان ہے، یہاں کی خالص زبان نہیں۔ دوغلی ہے۔ اس سے تو کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ ٹھیٹ ہندوستانی زبان ہے اور سوا ہندوستان (اُس وقت کے متحدہ ہندوستان) کے کسی دیگر ملک میں نہیں بولی جاتی۔ اب رہی یہ بات کہ یہ مخلوط ہے تو مخلوط ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ ایک اعتبار سے خوبی ہے۔ 
یوں تو دنیا میں کوئی زبان خالص نہیں۔ ہر زبان نے کسی نہ کسی زمانے میں دوسری زبانوں سے کچھ نہ کچھ لفظ لئے ہیں۔ لیکن جسے ہم مخلوط زبان کہتے ہیں اس کی خاص حیثیت ہوتی ہے۔ مخلوط زبان سے مراد وہ زبان ہے جو دو زبانوں کے آپس میں گھل مل جانے سے ایک نئی صورت اختیار کرلے اور اس کا اطلاق ان دو زبانوں میں سے کسی پر بھی نہ ہو سکے جس سے مل کر وہ بنی ہے۔ اس کی مثال بعینہ ایسی ہے جیسے دو اجزا کیمیائی طور سے اس طرح ترکیب دیئے جائیں کہ وہ اپنی ہیئت، تاثیر اور خاصیت میں ایک نئی چیز بن جائیں۔ اب اس کا اِطلاق ان دو اجزا میں سے کسی پر بھی نہ ہو سکےگا۔ یہی حال اردو کا ہے جو فارسی اور ہندی کے سنجوگ سے بنی لیکن اب ہم اسے نہ تو ہندی کہہ سکتے ہیں اور نہ فارسی، اردو ہی کہیں گے۔ 
اس قسم کی مخلوط یعنی کھچڑی زبانوں کے وجود میں آنے کے کئی سبب بیان کئے گئے ہیں۔ منجملہ ان کے ایک ملک گیری ہے۔ ایک ملک گیری تو یہ ہوئی کہ حملہ آور آیا اور لوٹ کھسوٹ کے چل دیا۔ دوسری قسم ملک گیری کی یہ ہے کہ فاتح نے کسی ملک کو فتح کرکے اس کا الحاق اپنے ملک سے کر لیا یعنی اسے اپنی سلطنت کا صوبہ بنا لیا۔ پہلی صورت میں ظاہر ہے کہ فاتح قوم کا کوئی اثر مفتوح قوم پر نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو نہایت خفیف اور عارضی جو قابل اعتبار نہیں۔ دوسری صورت میں یا تو یہ ہوتاہے کہ فاتح جبراً اپنی زبان اس دیس میں جاری کر دیتا ہے یا اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں زبان کے مخلوط ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔ 
 لیکن ملک گیری کی ایک تیسری قسم بھی ہے، وہ یہ کہ فاتح مفتوح ملک میں آکر بس جاتا اور اس ملک کی قوم سے مل جل کر زندگی بسر کرنے لگتا ہے۔ اس کا اثر دیرپا اور مستقل ہوتا ہے اور اس صورت میں دو قوموں کے ملنے سے ان دونوں کی زبانوں میں بھی ٹکر ہوتی ہے۔ اگر فاتح میں رواداری ہے اور مفتوح سے برابر کا برتاؤ کرتا ہے تو دونوں کے ملنے سے ایک نئی تہذیب اور نئی زبان پیدا ہو جاتی ہے۔ اسے ہم نہ فاتح کی تہذیب اور زبان کہہ سکتے ہیں اور نہ مفتوح کی بلکہ ان میں دونوں کی تہذیبیں اور زبانیں برابر کی شریک ہوتی ہیں اور دونوں قومیں اس کی بانی اور اس کی وارث ہوتی ہیں۔ اگر یہ نہیں تو پھر کسی مخلوط زبان یا تہذیب کے پیدا ہونے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ مثلاً انگریز اس ملک میں ڈیڑھ دو سو برس سے حکمراں ہیں (تب تھے جب یہ مضمون لکھا گیا) اور انگریزی کا رواج بھی ملک بھر میں غیر معمولی طور پر پایا جاتا ہے۔ دفتروں، عدالتوں، اسکولوں، کالجوں، اسمبلیوں، کونسلوں اور تجارت خانوں میں اسی کا رواج ہے، یہاں تک کہ ذریعۂ تعلیم بھی انگریزی ہے اور باوجود یہ کہ وہ گھر گھر پہنچ گئی ہے، اس پر بھی وہ یہاں اپنا گھر نہ کر سکی، اس کا اثر ہماری زبانوں پر ضرور ہوا اور بہت کچھ ہوا لیکن اس نے ہماری کسی زبان سے میل نہ کھایا، اس لیے کہ حکومت کے غرور اور قومی وقار نے انگریزوں کو ہندوستانیوں سے الگ الگ رکھا اور وہ یگانگت اور معاشرتی بے تکلفی جو ہم مذاقی اور ہم آہنگی سے پیدا ہوتی ہے نہ ہونے پائی اور تیل پانی کا ملاپ نہ ہوسکا۔ 
لیکن مسلمانوں کی حالت جدا تھی۔ انہوں نے ہندوستان فتح کیا اور کچھ عرصے کے بعد یہیں بس گئے اور یہیں کے ہو گئے اور جب دلی میں ان کی حکومت کو استقلال ہوا اور اہل ملک میں ربط ضبط بڑھا تو اس کے ساتھ ساتھ فارسی اور مقامی زبان میں بھی ربط ضبط بڑھتا گیا اور جیسا کہ دستور ہے کاروباری اور ملکی اور معاشرتی ضرورت سے مسلمان بول چال میں ہندی لفظ استعمال کرنے کی کوشش کرتے اور ہندو فارسی لفظ۔ ہوتے ہوتے بغیر کسی ارادے اور خیال کے خود بہ خود ایک نئی زبان کا ڈول پڑنا شروع ہو گیا۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا اور کسے معلوم تھاکہ آئندہ یہ دوغلی بولی جسے اہل علم اور اہل فکر حقیر سمجھتے تھے، ایک دن مسند ادب و انشا پر جلوہ گر ہوگی؟
مخلوط زبان میں ہوتا یہ ہے کہ غیر زبان جو کسی قوم کو سیکھنی پڑتی ہے، مخلوط نہیں ہوتی بلکہ اس کی اپنی زبان غیر زبان کے میل سے مخلوط ہو جاتی ہے۔ بعینہ یہی حال مسلمانوں کے آنے کے بعد ہوا۔ فارسی مخلوط نہیں ہوئی بلکہ مقامی زبان فارسی سے مخلوط ہو کر ایک نئی زبان بن گئی۔ 
بات یہ ہے کہ جب کبھی ہم غیر زبان کے سیکھنے یا بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ہماری اپنی زبان کا کوئی لفظ نہ آنے پائے۔ ہماری کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو صحیح اور فصیح زبان بولیں اور اس بات کی سخت احتیاط کرتے ہیں کہ ہماری گفتگو یا تحریرمیں ہماری زبان کے الفاظ یا طرز ادا کا شائبہ نہ پایا جائے۔ غیر زبان کے بولنے یا لکھنے میں ہم جس بات سے اس قدر پرہیز کرتے ہیں اس کا ہم اپنی زبان میں مطلق خیال نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ جب کوئی ہندوستانی، انگریزی بولتا یا لکھتا ہے توتا امکان اپنی گفتگو یا تحریر میں اپنی زبان کا لفظ یا اسلوب آنے نہیں آنے دیتا اور جہاں تک ہو سکتا ہے اہل زبان کی تقلید کرتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انگریزی لب و لہجے کی نقل اتارنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ (شروع شروع میں تو بعض ہندوستانی جنہیں انگریزی بہت چر گئی تھی، اپنی زبان بھی انگریزی لہجے میں بولنے لگے تھے۔ )
برخلاف اس کے اپنی زبان میں بیسیوں انگریزی لفظ بلاتکلف استعمال کر جاتا ہے۔ یا تو اس سے اپنی مشیخت یا علمی فضیلت جتانی مقصود ہوتی ہے یا پھر ناواقفیت اور کاہلی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ ناواقفیت اس لیے کہ اپنی زبان سے پوری طرح واقف نہیں اور کاہلی اس معنی میں کہ اسے اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ اپنی زبان میں ان کے مترادف تلاش کرے۔ اس میں وہ کسی قدر مجبور بھی ہے۔ فاتح قوم کی زبان کے متواتر مطالعے، لکھنے، بولنے اور سننے سے معمولی اور عام ضروریات کے لفظ بھی اس کی زبان پر اس طرح چڑھ جاتے ہیں کہ بلا ارادہ بھی اپنی زبان میں بول جاتاہے۔ چنانچہ تیس چالیس برس پہلے سویلائزیشن، ریفارم، پولیٹکل، سیلف رسپکٹ وغیرہ الفاظ ہماری زبان میں عام ہو گئے تھے۔ 
یہ بھی ایک مسلم اصول ہے کہ غیر زبان کے لفظ جو کسی زبان میں داخل ہو جاتے ہیں یا کسی زبان کو مخلوط کرتے ہیں تو وہ اصلی زبان کی صرف ونحو کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ یہی صورت اس مخلوط زبان اردو میں پیش آئی کہ فارسی کا اثر اسماء و صفات تک رہا۔ البتہ بعض حروف عطف مثلاً اگر، مگر، اگرچہ، لیکن وغیرہ آ گئے۔ اصل صرف و نحو بالکل دیسی زبان کی رہی، اور جب ضرورت پڑی، فارسی، عربی لفظوں کو ہندی قالب میں ڈھال کر اپنا بنالیا۔ مثلاً عربی الفاظ، بَدَل، کفن، دفن، قبول، بحث سے بدلنا، کفنانا، دفنانا، قبولنا، مصدر بنالیے، اسی طرح فارسی سے بخشنا، فرمانا، نوازنا، داغنا وغیرہ بنالیے گئے۔ یہ سب اردو ہوگئے، فارسی عربی نہیں رہے۔ 
 انسانی خیال کی کوئی تھاہ نہیں اور نہ اس کے تنوع اور وسعت کی کوئی حد ہے۔ زبان کیسی ہی وسیع اور بھرپور ہو، خیال کی گہرائیوں اور باریکیوں اور نازک فَرقوں کو صحت کے ساتھ ادا کرنے میں قاصر رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اداکرنے کیلئے طرح طرح کے جتن کیے جاتے ہیں۔ مترادف الفاظ ایسے موقعوں پر بہت کام آتے ہیں۔ مترادف الفاظ سب ہم معنی نہیں ہوتے، ان کے مفہوم اور استعمال میں کچھ نہ کچھ ضرور فرق ہوتا ہے، اس لئے ادائے مطالب میں ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر زبان کی قدر و منزلت ان مقاصد کے پورا کرنے میں ہے جن کے لئے زبان بنی ہے تو ہمیں اس امر کوماننا پڑےگا کہ غیرزبان کے الفاظ داخل ہونے سے ہماری زبان کو بے انتہا فائدہ پہنچاہے۔ عوام کی زبان یعنی کھڑی بولی جس پر اردو کی بنیاد ہے، اس قدر محدود تھی کہ اگر اس میں فارسی عنصر شریک نہ ہوتا تو وہ کبھی علم وادب کے کوچے سے آشنا نہ ہوتی اور اس وقت جو اردو میں اظہار خیال کے نئے نئے ڈھنگ پیدا ہوگئے ہیں، وہ ان سے محروم رہتی۔ (۱۹۴۱ء میں پڑھے گئے ایک مقالہ کا حصہ)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK