Inquilab Logo Happiest Places to Work

مولوی صاحب علی گڑھ کے ذہین طلباء میں ممتاز اورساتھیوں نیز اساتذہ میں مقبول تھے

Updated: August 16, 2026, 2:21 PM IST | Rasheed Ahmad Siddiqui | Mumbai

مولوی صاحب ۱۸۸۸ء میں علی گڑھ کے طالب علم ہوئے اور ۱۸۹۶ء میں یہیں سے بی اے کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غدر کے بعد سرسید ہندی مسلمانوں کی معاشی، ذہنی و تہذیبی آبادکاری کے منصوبے کو کامیاب بنانے میں اپنے عقیدے اور عمل کو پوری توانائی و تابناکی کے ساتھ علی گڑھ تحریک اور علی گڑھ کے عظیم ادارے کے وسیلے سے اس عہد کی نوع بہ نوع دشواریوں اور نزاکتوں سےنبردآزما تھے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

بابائے اردو (عبدالحق) نے ۱۶؍اگست ۱۹۶۱ء کو کراچی میں ۹۱؍ سال کی عمر پا کر رحلت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی بے لوث و بے نظیر خدمات کو ہماری موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لئے اچھے اور بڑے مقصد کے حصول میں امید وار امنگ کا لازوال سرچشمہ بنائے۔ 
 موت سے کسی کو مفر نہیں لیکن جو لوگ اعلیٰ مقصد کی تائید و حصول میں تادم آخر کام کرتے رہتے ہیں وہ کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ پائیں، ان کی وفات قبل از وقت اور تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔ پہلی صورت طبعی اور ارضی ہے، دوسری اخلاقی اور ماورائی۔ تقدیر الٰہی نے صرف نوع انساں کو مؤخرالذکر اقدار کے تحفظ و ترفع کے لئے انتخاب کیا ہے۔ مولوی صاحب کی زندگی اور وفات دونوں میں اس کی تعبیر ملے گی۔ 
 مولوی صاحب ۱۸۸۸ء میں علی گڑھ کے طالب علم ہوئے اور ۱۸۹۶ء میں یہیں سے بی اے کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب غدر کے بعد سرسید ہندی مسلمانوں کی معاشی، ذہنی و تہذیبی آبادکاری کے منصوبے کو کامیاب بنانے میں اپنے عقیدے اور عمل کو پوری توانائی و تابناکی کے ساتھ علی گڑھ تحریک اور علی گڑھ کے عظیم ادارے کے وسیلے سے اس عہد کی نوع بہ نوع دشواریوں اور نزاکتوں سےنبردآزما تھے۔ اس تحریک اور ادارے کو مستحکم و مؤثر بنانے اور فروغ دینے میں دور اور نزدیک کے عام و خاص مسلم، ہندو، سکھ، یورپین نیز مدرسۃ العلوم کے اساتذہ اور طلباء جس میں ہر ملت و مسلک کے پیروشامل تھے، یکساں طور پر خلوص کے ساتھ سرسید کے شریک کار تھے۔ حالات کے یکسر منقلب ہوجانے کے باوجودادارے کا یہ امتیاز آج تک باقی ہے۔ اس وسیع پیمانے پر اتنی مدت تک ہندوستان کے شاید ہی کسی اور ادارے کو اتنی بے لوث و ہمہ جہت تائید ملی ہو اور جس نے اس فراخدلی اور جرأت سے اپنی ذمہ داری پوری کی ہو۔ 
عنفوان شباب کی بے پایاں اور بسا اوقات تند صلاحیتوں کی تربیت و تہذیب اور ان کو صحیح راستے پر لانے اور رکھنے کیلئے بڑے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ مولوی صاحب بڑے خوش قسمت تھے کہ ان پر سرسید کا سایہ اور سہارا اور ان کے نادرۂ روزگار رفقائے کرام کی صحبتیں نصیب ہوئیں۔ ان کو سرسید سے بڑا رہنما، مدرسۃ العلوم سے بہتر ادارہ اور علی گڑھ تحریک سے زیادہ مفید مقتضائے وقت اور جامع پروگرام اور کہاں مل سکتا تھا۔ ان کی غیرمعمولی ذہنی استعداد، ثابت قدمی اور کام کرنے کی لگن کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ علی گڑھ میں اتنی معقول اور مؤثر نظری و عملی رہبری نہ میسر آتی تو کیا معلوم وہ کدھر نکل جاتے اور جتنے کارہائے عظیم جتنی طویل مدت تک انہوں نے جس خوبی سے انجام دیئے وہ دے بھی سکتے یا نہیں ! یہ اس لئے کہنا پڑا کہ آج کل بیشتر ذی استعداد اور ہونہار نوجوانوں کو مناسب و معقول رہبری اور ماحول نہ ملنے سے بے راہ روی نے دنیا کو جس انتشار، مایوسی اور بیزاری سے دوچار کررکھا ہے وہ ہمارے سامنے ہے جس کو دور کرنے میں ہماری بہترین مساعی اب تک ناکام رہی ہیں۔ خدا نہ کرے یہ سرکشی و گمراہی اپنا تاوان لئے بغیر نہ رہے جیسا کہ تاریخ بتاتی چلی آرہی ہے جس کے آثار روزبروز نمایاں ہورہے ہیں۔ 
سرسید نےعلی گڑھ سے ایک نئے افق کا ظہور، ایک نئی زندگی کے افتتاح اور ایک نئے چیلنج کے قبول کرنے کا اعلان کیا۔ چنانچہ وہ، ان کے رفقاء اور ان کے بعد آنے والوں نے زندگی اور زمانے کے ہر نئے تقاضے سے نبرد آزما ہونے اور ’’گزشتہ سے پیوستہ‘‘ اور آئندہ سے ہمدوش و ہمعنان کی روایت قائم کی۔ جس طرح اچھا استعارہ ہم کو بے اختیار غالب اور اقبال کے یہاں دستیاب ہوتا ہے اسی طرح نیا مقصد، نئی منزل اور نئے حوصلے کی نشاندہی علی گڑھ میں اور علی گڑھ سے ملتی ہے!
 مولوی صاحب علی گڑھ کے غیرمعمولی ذہین طلباء میں بھی ممتاز اور اپنے ساتھیوں اور اساتذہ دونوں میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ وہ اپنے دور کے برخود غلط یا سرپھرے طلباء میں سے نہ تھے۔ اُس زمانے میں کالج کے نظم و نسق پر اعتراض یا احتجاج کرنا اتنا آسان، تفریحی یا سودمند مشغلہ نہ تھا جتنا کہ اب ہے۔ لیکن مولوی صاحب جس بات کو نامناسب سمجھتے اس پر اختلاف کا اظہار ضرور کرتے تھے۔ ان کی اس صفت پر سرسید اعتماد کرتے اور مولوی صاحب نے برملا و صاف گوئی ہی نہیں، اچھا کام کرنے کی دھن، خطرہ و خسارہ اور طعن اغیار کو خاطر میں نہ لانے کا سبق بھی سرسید ہی کی ذات ِ گرامی سے سیکھا تھا۔ ایک جگہ فرماتے ہیں ’’سرسید کی بڑی تمنا تھی کہ مدرسۃ العلوم کے طلباء ہمت، جرأت اور شریفانہ اخلاق سے متصف ہوں اور جب کسی طالبعلم سے اخلاقی جرأت یا خودداری کا فعل صادر ہوتا تو بہت خوش ہوتے۔ ‘‘ انہوں نے طبیعت کی اس افتاد کو نہ صرف بحیثیت طالبعلم کالج کے انگریز ممبران اسٹاف کے مقابلے میں برقرار رکھا بلکہ حیدرآباد (دکن) کی فضا میں بھی ترک نہیں کیا جہاں مدتوں ’’وظیفہ خوار‘‘ کی حیثیت سے وہ مطلق العنان حکمراں، اسی طرح کے امرائے دولت اور ان دونوں سے زیادہ طاقتور و خطرناک جماعت انگریز حکام کے قریب رہے۔ ایسے عہد میں مولوی صاحب کا نہ کبھی ’’شاہ کو دعا دینا‘‘ نہ ریاست کے اعیان و اکابر کا ثنا خواں ہونا، معمولی بات نہیں ہے۔ 
مولوی صاحب کو شروع سے آخر تک وقت کی گرانمایاں شخصیتوں کی صحبت و رفاقت نصیب رہی۔ مدرسۃ العلوم میں سرسید، محمود، شبلی، حالی، محسن الملک، وقارالملک، پروفیسر بک، پروفیسر ماریسن، پروفیسر آرنلڈ، حیدرآباد میں افسراملک، سید علی بلگرامی، نواب عمادالملک، مہارجہ کشن پرشاد، عزیز مرزا، علی حیدر طباطبائی، عنایت اللہ، ظفر علی خاں، وحید الدین سلیم، سر اکبر حیدری، سر راس مسعود، ان کے علاوہ خواجہ غلام الثقلین، ڈاکٹر اقبال، سر تیج بہادر سپرو، پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی، عبدالرحمٰن (سندھی) وغیرہ یہ ایسی ہستیاں تھیں جنہوں نے ہماری قدیم اعلیٰ روایات و اقدار کو جدید دور کے اہم تقاضوں سے روشناس کرانے اور سازگار بنانے میں بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ 
تعلیم ختم کرنے کے بعد تلاش ملازمت میں مولوی صاحب کو بمبئی جانا پڑا جہاں وہ براہ راست محسن الملک کی غیرمعمولی شخصیت کے زیر آثر آئے جن کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں ’’ان میں پارس پتھر کی خاصیت تھی کہ کوئی ہو کہیں کا ہو ان سے چھوا نہیں اور کندن کا ہوا نہیں۔ ‘‘
یہاں کرنل افسرالملک بہادر کی نظر انتخاب مولوی صاحب پر پڑی جن کو وہ حیدرآباد دکن اپنے ہمراہ لائے اور مدرسہ آصفیہ کا صدر مقرر کردیا۔ ۱۸۹۸ء میں یہیں سے مولوی صاحب نے رسالہ ’’افسر‘‘ کا اجراء کیا۔ اسی وقت سے اردو اور مولوی صاحب نے ایک دوسرے کی تقدیر پہچانی اور اپنائی۔ مولوی صاحب نے عمر کا بیشتر غالباً بہترین زمانہ حیدرآباد میں اردو کی عملی، تعلیمی و تصنیفی سرگرمیوں میں گزارا۔ انجمن ترقی اردو کو جو آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا ایک معطل و مضمحل جزو تھی، ۱۹۱۲ء میں علی گڑھ سے دکن کی سرزمین پر لائے اور آنریری سکریٹری کی حیثیت سے یکہ و تنہا اس کو ترقی دی کہ وہ اردو کی بے شمار اعلیٰ صلاحیتوں کا آئینہ، ان کو بروئے کار لانے کا وسیلہ اور اردو کی حفاظت وحمایت کا معتبر کل ہند محاذ بن گئی۔ 
قدیم اردو کا گہوارہ ہونے کی حیثیت سے دکن کو جو اہمیت حاصل ہے وہ مسلّم ہے لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ دکن کی اس اہمیت کو ترقی دینے اور فعال بنانے میں مولوی صاحب کی پیش کردہ قرارداد کا بہت بڑا دخل ہے۔ انہوں نے دکن کو اپنی گوناگوں علمی سرگرمیوں کا مرکز نہ بنایا ہوتا تو نہ صرف یہ کہ اردو کی تاریخ و تحقیقات کا کام اتنا ترقی نہ کرتا بلکہ دکن کو شاید وہ بے مثل فضیلت بھی نصیب نہ ہوتی جو عثمانیہ یونیورسٹی اور سرشتۂ ترجمہ و تالیف کے طفیل اسے حاصل ہوئی یعنی دکن میں دیسی زبان (اردو) کی ایک ایسی یونیورسٹی قائم ہوئی جو اپنی مختصر مدت میں ہندوستان کی معیاری انگریزی اور سرکاری یونیورسٹیوں کی ہم پلہ ہوگئی جس کی تصدیق کرنے والوں میں سررادھا کرشنن اور شری راج گوپال آچاریہ بھی ہیں۔ اردو کی اس رہنمائی سے ہندوستان کی تمام علاقائی زبانوں کی تقدیر روشن ہوگئی۔ 
 (’گنج ہائے گراں مایہ‘ میں شامل طویل مضمون سے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK