Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’زبانوں میں کوئی تفریق نہیں ہے‘‘

Updated: May 18, 2026, 3:35 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

مراٹھی کے مشہور شاعر آنجہانی مادھو پوار زبان کی بنیاد پربھید بھائو کے سخت خلاف تھے، ان کی شاعری اور شخصیت پر ایوب نلا مندو، پردیپ نپھاڑکر اور ڈاکٹر اقبال تمبولی نے روشنی ڈالی۔

Late Madhav Pawar. Photo: INN
آنجہانی مادھو پوار۔ تصویر: آئی این این

اردو اور ہندی شاعری و زبان کے شیدائی مشہور مراٹھی شاعر جنہیں مراٹھی کے ادبی حلقوں میں ’’کوی مادھو پوار‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، کا حال ہی میں شولاپور میں انتقال ہوا۔ مراٹھی ادب میں ان کا قد کافی بلند ہے کیوں کہ انہوں نے نہ صرف مراٹھی شاعری کونئے تجربات سے روشناس کروانے کی کوشش کی بلکہ وہ اردو اور ہندی کے حلقوں میں مراٹھی کے سفیر رہے اور مراٹھی کے حلقوں میں اردو اورہندی کو متعارف کرواتے رہے۔ حالانکہ بچپن سے نوجوانی اور پھر پختہ عمر تک کافی صحت مند اورچاق و چوبند رہے لیکن ۱۰؍ سال قبل انہیں گردے کے عارضے نے ایسا جکڑا کہ پھر وہ روبصحت نہیں رہ سکے بلکہ انہیں ایک سو یا دوسو مرتبہ نہیں بلکہ ۱۷؍ سو مرتبہ سے زائد ڈائیلاسس کا سہارا لینا پڑا۔ اس حال میں بھی وہ زندگی سے بھرپور تھے، شاعری کھل کر کرتے تھے اور اپنے جونیئر شعراء کی بھرپور حوصلہ افزائی ان کا شیوہ تھا۔ بیماری کے دوران بھی ان کے کئی شاگردوں کے مجموعہ کلام کا اجراءان کی موجودگی میں ہوا ۔ 
کوی مادھوپوار کے بارے میں شولاپور کے معروف صحافی اور شاعر ایوب نلامندو نے بتایا کہ ’’۱۹۵۵ء میں مراٹھی کے ہی سینئر شاعر را -نا (راجا رام نارائن)پوار کے گھر پیدا ہونے والے مادھو پوار حالانکہ ۱۱؍ و یں پاس تھے لیکن شاعری کے ذیل میں ان کا ذخیرۂ الفاظ غضب کا تھا۔ ساتھ ہی بہت اچھے مقرر اورگیت کار بھی تھے۔ ‘‘ایوب نلا مندو کے مطابق انہوں نے کچھ دن بینک میں ملازمت کی بعدازاں ڈاکٹر ویشمپائن میڈیکل کالج میں ملازمت کرتے ہوئے ۲۰۱۳ء میں وظیفہ یاب ہوئے۔ ان کے ۲؍ مجموعہ کلام شائع ہوئے ہیں جن میں سے ایک کا نام ’’ شبھ شَکُوناں چے پکشی‘‘ ہے۔ اس مجموعے کی خاص بات یہ رہی کہ اسے ریاستی و قومی سطح کے ۱۷؍ ایوارڈ حاصل ہوئے۔ ایوب نلامندو کے مطابق مادھوپوار نہایت زندہ دل انسان تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ مادھو پوار کے والد جو خود بھی بہترین شاعر اور مراٹھی فلموں کے نغمہ نگار تھے ، کو دیکھ کر مادھو پوار جب شعر کہنے لگے تو ناقدین انہیں طنزیہ طور پر کہتے تھے کہ’’ تمہاری شاعری تو تمہارے والد جیسی ہی لگتی ہے۔ ‘‘ اس پر مادھو پوار کا جواب حاضر جوابی اور ظرافت کا نمونہ ہوتا تھا۔ وہ کہتے ’’اسے بلڈ ریلیشن شاعری کہتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: تخلیقی تحریر کیلئے مصنف کی شخصیت کا تخلیقی ہونا ضروری ہے

مراٹھی کے معروف صحافی، شاعر اور اینکر پردیپ نپھاڑکر نے مادھو پوار کی شاعری اور ان کے ادبی قد کے تعلق سے کہا کہ اس پرآگے بھی گفتگو ہوتی رہے گی لیکن یہ حقیقت ہے کہ مراٹھی شاعری نے اپنا ایک قیمتی ہیرا کھودیا ہے۔ پردیپ نپھاڑکر کے مطابق مادھو پوار جتنے اچھے شاعر تھے اتنے ہی اچھے انسان بھی تھے۔ نئے شعراء کی حوصلہ افزائی، نوجوانوں کو مراٹھی ادب کی طرف راغب کرنے کی کوشش اور نئے شاعروں کے لئے پروگراموں کا انعقاد ان کی کوششوں سے ہی ہوتا تھا۔ پردیپ نپھاڑکر کے مطابق کچھ ماہ قبل جب ہم نے پونے میں کچھ نوجوان شاعروں سے سینئر شعراء کا کلام پڑھوایا تھا تو اس میں ہم نے ان کے چھوٹے بیٹے سے ان کا کلام پڑھوایا تھا۔ اس کوشش پر وہ بہت خوش ہوئے تھے اور کہا تھا کہ نئے لوگوں کو اسی طرح سے مراٹھی ادب کے قریب لایا جاسکتا ہے۔ نپھاڑکر صاحب کے مطابق مادھو پوار اردو شاعری کا بہت اچھا ذوق رکھتے تھے۔ انہیں کئی شعر یاد تھے اور اکثر اسٹیج پر یا ادبی گفتگو میں وہ یہ اشعار دہراتے تھے۔ اگر کوئی اعتراض کرتا کہ آپ مراٹھی میں اردو کیوں لارہے ہیں تو کہتے زبانوں کے درمیان کوئی بھیدبھائو نہیں ہے۔ ہر زبان اپنی ہے اور اس کی شاعری بھی ہماری اپنی وراثت ہے جسے سنبھالنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 
سوشل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اقبال تمبولی نے مادھو پوار کے تعلق سے یہ واقعہ بتایا کہ چھ ماہ قبل شولاپور کی تیلگو لائبریری میں منعقدہ ایک کثیر لسانی مشاعرہ میں انہوں نے بطور صدر شرکت کی تھی۔ وہ ۲؍ گھنٹے کا ڈائیلاسس کرواکر سیدھا مشاعرہ گاہ پہنچے تھے اور سرجھکائے اپنی کمزوری کو چھپاتے ہوئے اسٹیج پر تمام شاعروں کا کلام سنتے رہے اوربالکل دھیمی آواز میں داد بھی دیتے رہے۔ صدارتی خطبے میں بھی انہوں نے کافی اہم باتیں کی تھیں۔ اقبال تمبولی نے بھی بتایا کہ مادھو پوار کو کئی اشعار ازبر تھے اور ان کا استعمال وہ مراٹھی ادب کی محفلوں میں ریفرنس کے طور پرکرتے اور کہتے ’’اردو شاعری کی بات ہی کچھ اور ہے!‘‘ مادھو پوار نے دو زبانوں کو اور دو زبانوں کے جاننے والوں کو جوڑنے کا کام مرتے دم تک کیا اور اسی لئے وہ یاد رکھے جائیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK