فن کسی علم، اطلاع یا واقعہ کو بیان کرنے سے آگے کی چیز ہے۔ یہ بیان اگر اوپر سے رنگین بنا دیا جائے یا اس پر کچھ مرصع کاری کر دی جائے تو تحریر پر ادبی ہونے کا دھوکا ہوتا ہے جو ادبی یا تخلیقی نہیں قرار پاتی۔
EPAPER
Updated: May 17, 2026, 5:21 PM IST | Khaleel-Ur-Rehman Azmi | Mumbai
فن کسی علم، اطلاع یا واقعہ کو بیان کرنے سے آگے کی چیز ہے۔ یہ بیان اگر اوپر سے رنگین بنا دیا جائے یا اس پر کچھ مرصع کاری کر دی جائے تو تحریر پر ادبی ہونے کا دھوکا ہوتا ہے جو ادبی یا تخلیقی نہیں قرار پاتی۔
اردو شاعری اور اس کی مختلف اصناف پر تنقید یا محاکمہ جتنا آسان ہے، اردو نثر اور نثر نگاروں کا مطالعہ اور تجزیہ اتنا ہی دشوار ہے۔ یوں تو اردو نثر پچھلے سو سال کے عرصہ میں بہت سی ارتقائی منزلیں طے کرچکی ہے مگر نثری تحریروں اور ان کے مصنفوں کی ادبیت اور ان کا معیار متعین کرنے میں خاصی دقتیں ہیں۔ زمانۂ حال کے ایک ذہین نقاد کو یہ شکایت ہے کہ اب اردو میں مختلف موضوعات پر جو کتابیں شائع ہورہی ہیں ان کی نثر اپنی ساخت اور اسلوب کے اعتبار سے اردو کی پہلی کتاب والی نثر ہے۔ دوسری طرف بعض لکھنے والے ایسے بھی ہیں جنہیں یہ دعویٰ ہے کہ وہ فلسفہ، تاریخ، تحقیق یا تنقید جیسے موضوعات پر بیگماتی زبان یا محاوراتی اسلوب میں لکھ سکتے ہیں یا ایسا پیرایۂ بیان اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیںکہ علمی اور سائنسی موضوعات بھی انشائے لطیف کے پیمانے میں ڈھل جائیں۔ بات یہ ہے کہ ابھی ہمارے یہاں ادبی اور غیرادبی نثر کی کوئی حد بندی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ہمارے ذہن میں یہ بات واضح ہے کہ طرز یا اسلوب کسے کہتے ہیں اوریہ کہ آیا ہر نثر لکھنے والے کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ صاحب ِطرز یا صاحب اسلوب نثر نگار ہو۔
یہ بھی پڑھئے: کیفیؔ ایک باغی شاعر تھے اور ہمیشہ باغی شاعر رہے
میرا خیال یہ ہے کہ اسٹائل یا اسلوب کا تعلق دراصل تخلیقی تحریر سے ہے۔ تخلیقی تحریر کے لئے مصنف کی شخصیت کا تخلیقی ہونا ضروری ہے۔ ادب، فن یا تخلیق ابلاغ محض یا صنعت گری دونوں سے الگ ایک چیز ہے۔ ہماری پرانی کتابوں میں تخلیقی نثر یا اسلوب کے متعلق کوئی ایسا اصول نہیں ملتا جس سے اسلوب اور صاحب ِاسلوب کی شخصیت کے اندرونی ربط کو تلاش کرکے اس طرز کے حدود متعین کئے جاسکیں۔ کچھ لوگوں نے نثر کو نثر مرصع، نثر مقفیٰ، نثر مسجع اور نثر عاری میں تقسیم کیا۔ بحرالفصاحت کے مؤلف نے سلیس سادہ، سلیس رنگین، دقیق سادہ ، دقیق رنگین قسم کی اصطلاحات کی مدد سے ان کی گروہ بندی کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا خیال ہے اس قسم کی گروہ بندی سے ہمارے یہاں یہ تصور رائج ہوگیا کہ ادبیت کوئی ایسی چیز ہے جو تحریر پر اوپر سے عائد کی جاتی ہے۔ چنانچہ ایک چھوٹے سے رقعے یا دعوت نامے سے لے کر نوطرز مرصع اور فسانۂ عجائب جیسی داستانیں بیان کرنے یا روضۂ تاج گنج کی تعریف میں مضمون لکھنے کے لئے ان صنعتوں پر عبور حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی جن کے متعلق یہ خیال تھا کہ یہ تحریریں ادبیت پیدا کرنے کی ضامن ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: باقی سب خیریت ہے
جس طرح شاعری کی اصناف کے اوپری ڈھانچے کو برتنے والا یعنی ردیف و قافیہ اور عروض کی جملہ شرائط کو پورا کرنے والا حقیقی شاعر نہیں بن جاتا بلکہ شاعری محض کلام موزوں سے آگے کی چیز ہے، اسی طرح نثر کے کسی پیرایے کو اوپری طور سے برت کر ادبی نثر کی تخلیق نہیں کی جاسکتی۔ فن کسی علم، اطلاع یا واقعہ کو بیان کرنے سے آگے کی چیز ہے۔ یہ بیان اگر اوپر سے رنگین بنا دیا جائے یا اس پر کچھ مرصع کاری کر دی جائے تو تحریر پر ادبی ہونے کا دھوکا ہوتا ہے مگر دراصل وہ ادبی یا تخلیقی ہوتی نہیں ہے۔ فن یا تخلیقی تحریر لکھنے والے کے تجربے، علم، خیالات، اس کی داخلی شخصیت اور اس کے لطیف احساسات کے امتزاج اور کیمیاوی عمل سے وجود میں آتی ہے۔ خارجی علم تجربے اور مصنف کی داخلی شخصیت کا یہ امتزاج جتنا بھرپور اور مکمل ہوگا فنی تخلیق اتنی ہی پختہ اور کامیاب ہوگی۔ اچھے فنکار کے یہاں بھی یہ امتزاج ہمیشہ نہیں ہوتا، اسی اعتبار سے اس کی تحریر کے مدارج قائم کئے جاسکتے ہیں اور ان میں بلند و پست اور ادبیت اور غیرادبیت کی حدیں قائم کی جاسکتی ہیں۔
غیرادبی یا غیرتخلیقی نثر لکھنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اور نہ کسی زبان کی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ اس کا سارا نثری سرمایہ ادبی نثر پر مشتمل ہو اور اس کے نثر نگار ادیب یا صاحب ِ طرز نثرنگار ہوں۔ علمی اور سائنسی نثر کی اہمیت اور افادیت خود اپنی جگہ پر ہے بلکہ اس کے بغیر کوئی زبان وقیع نہیں کہی جاسکتی۔ ہر زبان میں ہزاروں کتابیں تاریخ، فلسفہ، نفسیات، معاشیات، سماجیات، سائنس، طب، فن تعمیر اور دوسرے علوم سے متعلق لکھی جاتی ہیں۔ ان کے لکھنے والوں کو اس بات کی فکر بھی نہیں ہوتی کہ ان کتابوں کو ادبیات کے دائرے میں لایا جائے یا ان کے لکھنے والوں کو ادب کی تاریخ میں بحیثیت ادیب جگہ ملے ، اس کے باوجود ان کےمصنف عزت اور احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔
سرسید جن کو اردو نثر کا معمار کہنا بالکل صحیح ہے، یہ چاہتے تھے کہ ہم اپنی نثر کو خالص ادبیات کے دائرے سے نکال کر وسعت دیں اور علمی، کاروباری اور عمومی نثر کی افادیت کو بھی عام کریں۔ خود ان کے یہاں دونوں طرح کی نثر کے نمونے مل جاتے ہیں۔ خالص ادبی اور تخلیقی بھی اور خالص علمی اور سائنسی بھی۔ مولوی چراغ علی، محسن الملک، وقارالملک، ذکاء اللہ، سید علی بلگرامی، عبدالرزاق کانپوری اور اس طرح کے لکھنے والوں کی میری نظر میں بڑی وقعت ہے کہ انہوں نے اس علمی نثر کے فروغ میں بیش از بیش حصہ لیا مگر بیسویں صدی میں نثری ادب کے تنقیدی اصول وضع نہ ہونے سے بعض غلط فہمیاں رائج ہوگئی ہیں جن کے نتیجے میں ایک طرح کی غیرفطری نثر سے ہمیں اکثر سابقہ پڑتا ہے۔ یہ غیرفطری نثر اس وقت وجود میں آتی ہے جب غیرتخلیقی شخصیت رکھنے والا کسی علم، اطلاع یا کسی اور مواد کو خارجی طور پر حاصل کرکے اسے اپنی شخصیت اور اپنے تخلیقی تجربے سے ہم آہنگ کئے بغیر محض ادبی نثر لکھنے کے لالچ میں اوپر سے رنگ آمیزی کرتا ہے اور محاورات، تشبیہات واستعارات یا تراکیب کی دکان سجاتا ہے۔ نثر میں شاعرانہ ٹکڑے جوڑتا اور رعایت لفظی کے پینترے دکھاتا ہے۔ لطف یہ ہے کہ اس طرح کا لکھنے والا اپنے آپ کو صاحب طرز ادیب سمجھتا ہے اور اپنی نثر کے مقابلے میں حالی، پریم چند یا عبدالحق کی تحریروں پر ترحم کی نظر ڈالتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: الفاظ کی اپنی انوکھی دُنیا ہے اور ان کی آپ بیتی میں حیرت انگیز موڑ ہیں
میرے خیال میں نثر کی ادبیت کا تعلق نہ تو سادگی سے ہے اور نہ رنگینی سے کیونکہ یہ ادبیت کسی میکانکی عمل یا صنعت گری سے نہیں بلکہ تخلیقی عمل سے وجود میں آتی ہے۔ غیرتخلیقی ذہن خواہ سادہ پیرایہ اختیار کرے یا رنگینی کا جامہ پہنے، ہر حال میں غیرتخلیقی چیز ہی اس سے برآمد ہوگی۔ شخصیت اگر تخلیقی ہے تو میرامن، غالب، حالی اور پریم چند بھی اسی طرح ادبی نثرنگار ہیں جس طرح سرشار، محمد حسین آزاد ، ابوالکلام آزاد اور اسطرح کے لکھنے والے۔
جس طرح ایک غیرتخلیقی اور جعلی شاعر کو ہم متشاعر کہتے ہیں، اسی طرح اس نوع کے نثرنگاروں کے لئے میں کسی اصطلاح کے وضع کرنے کی فکر میں ہوں۔ میرے نزدیک علمی، سائنسی، کاروباری اور عمومی نثر لکھنے والوں کی بڑی اہمیت ہے اور میں ہر زبان کے لئے اخبار نویسوں اور مترجموں کو بھی ضروری اور مفید خیال کرتا ہوں لیکن ادبی نثر کے بھیس میں غیرفطری طور پرتصنع نثر اور جعلی اسلوب رائج کرنے والوں کو نثر کے حق میں ایک مستقل خطرہ سمجھتا ہوں۔