• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروفیسرغلام قدوس فہمی آسمانِ اقبالیات کا تابندہ ستارہ تھے

Updated: February 22, 2026, 10:41 AM IST | Dr Mushtaq Ahmed | Mumbai

اردو ادب، بالخصوص اقبالیات کی روایت میں کچھ اہلِ علم ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے نہ شہرت کی خواہش کی اور نہ علمی دنیا میں خود کو مشتہر کرنے کی کوشش کی، مگر ان کاادبی وعلمی کارنامہ اپنی فکری گہرائی، تنقیدی سنجیدگی اور تحقیقی دیانت کے سبب دیرپا اثرات چھوڑ گیا۔ ایسی ہی شخصیات میں ایک نام پروفیسر غلام قدوس فہمی کا ہے جن کا حال ہی میں انتقال ہوا۔ ان کے اقبالیاتی ادب کا ایک جائزہ ملاحظہ کیجئے:

Professor Ghulam Quddus Fahmi. Arrival: October 1, 1944. Departure: February 3, 2026. Photo: INN
پروفیسر غلام قدوس فہمی۔ آمد: یکم اکتوبر ۱۹۴۴ء۔ رخصت: ۳؍فروری ۲۰۲۶ء۔ تصویر: آئی این این

پروفیسر غلام قدوس فہمی کا علمی سفر ایسے عہد میں شروع ہوا جب اقبالیات پر یا تو عقیدت آمیز خطابت کا غلبہ تھا یا پھر اقبال کو محض مغربی فلسفے کا ایک عکس بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ فہمی صاحب نے ان دونوں انتہاؤں سے گریز کرتے ہوئے اقبال کے فکری نظام کو اسلامی روایت، قرآنی شعور اور جدید فکری سوالات کے باہمی ربط کے حوالے سے سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کا بنیادی مقدمہ یہ تھا کہ اقبال کو نہ تو صرف شاعر کے طور پر پڑھا جانا چاہئے نہ ہی محض فلسفی کے طور پر، بلکہ وہ ایک تہذیبی مفکر ہیں جن کا کلام ایک فکری نظام کی تشکیل کرتا ہے۔ بقول غلام قدوس فہمی:
’’اقبال فن کو زندگی کا آلہ کار مانتے ہیں جس کا مقصد زندگی کی حرکت کو تیز کرنا اور انسانی مقاصد کے تابع رکھنا ہے۔ یہ مقصدیت ِشعر خود تخلیقی عمل کا تقاضا ہے۔ فن میں قدر خواہ حسن کی ہو یا اخلاق کی، کائنات کے قانون حرکت وتغیر سے متعین ہوتی ہے۔ قدر نہ خالص مادی ہے نہ خالص روحانی۔ اقبال روح اور مادہ کی معنویت کے منکر ہیں ۔ ان کا تصورِ کائنات وحدتی ہے، روح اور مادے میں جدلیاتی ربط ہے، یہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں جو جامد اور مطلق نہیں ۔ حقیقت عدم ہے نہ ہستی بلکہ نمود فن کا سر چشمہ خارجی ہے مگر فنکار کی انفرادی استعداد اس کی اقدار کی تخلیق کرتی ہے۔ فن کو حرکی ہونا چاہئے، اپنے داخلی آہنگ میں بھی اور خارجی تاثر میں بھی۔ اقبالؔ فنکار کی آزادی کا احترام کرتے ہیں اگرچہ وہ ا پنے کسی اونگھتے ہوئے لمحے میں اس پر حکومت کے احتساب کی بھی بات کرتے ہیں مگر ان کا تصورحریت اس میں مانع آتا ہے اور اس خیال کی نفی کرتا ہے ‘‘ ( سر محمد اقبال، ص: ۳۵)۔ پروفیسر فہمی کا تحقیقی منہاج درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے:
(۱) متن کی مرکزیت: اقبال پر گفتگو سے پہلے متن کی باریک قرأت پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اقبال کے اشعار کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا فکری بددیانتی ہے۔ 
(۲) فلسفیانہ احتیاط: وہ اقبال کے تصورات کو مغربی فلسفے کے ساتھ جوڑتے ہوئے غیر ضروری مماثلت سے گریز کرتے ہیں، خصوصاً نطشے، برگساں اور ہیگل کے حوالے سے۔ 
(۳)اسلامی تناظر: فہمی صاحب کے نزدیک اقبال کی فکری اساس قرآن، حدیث اور اسلامی صوفی روایت میں پیوست ہے، جسے نظر انداز کر کے اقبال کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ اقبالیات میں سب سے زیادہ زیر ِ بحث رہنے والا تصور خودی ہے۔ پروفیسر فہمی نے اس تصور کو نہایت متوازن انداز میں واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق خودی، اَنا یا خود غرضی نہیں۔ یہ ضبط نفس اور عبدیت سے نمو پاتی ہے، خودی کی معراج اجتماعیت اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ 
اپنے ایک مقالہ ’’اقبال اور تصورِ خودی‘‘ میں وہ لکھتے ہیں :’’اقبال کی خودی وہ قوت ہے جو انسان کو خدا کا مد مقابل نہیں بلکہ اس کا امین بناتی ہے۔ ‘‘یہ تعبیر انہیں ان ناقدین سے ممتاز کرتی ہے جو خودی کو محض طاقت اور تسلط کے تصور تک محدود کر دیتے ہیں۔ پروفیسر غلام قدوس فہمی کی ایک اہم کتاب ’’تفہیمِ اقبال‘‘ ہے، جس میں انہوں نے اقبال کے فکری نظام کو اسلامی تاریخ، فقہی روایت اور صوفیانہ افکار کے تناظر میں پرکھا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقبال کی جدیدیت، مغرب کی نقالی نہیں بلکہ اسلامی فکر کی اجتہادی روایت کا تسلسل ہے۔ فہمی صاحب کے نزدیک اقبال کا اصل مسئلہ مسلمان کی فکری بازیافت اور تہذیبی خود آگہی ہے۔ 
تصوف کے حوالے سے فہمی صاحب کا موقف نہایت متوازن ہے۔ وہ اقبال کو نہ تو تصوف کا منکر ثابت کرتے ہیں اور نہ ہی روایتی صوفی شاعر۔ ان کے مطابق اقبال، ساکن تصوف کے ناقد ہیں۔ مگر حرکی اور اخلاقی تصوف کے علمبردار ہیں۔ اپنے مضمون ’’اقبال اور تصوف: ایک فکری مطالعہ‘‘ میں وہ لکھتے ہیں : ’’اقبال کا اعتراض تصوف پر نہیں، بلکہ اس تصوف پر ہے جو انسان کو عمل سے کاٹ دے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: وقت کے روزن سے جھانکتا خادمِ اُردو: جاوید عزیزی

پروفیسر غلام قدوس فہمی نے اقبال کو جدید انسان کے روحانی بحران کے تناظر میں بھی دیکھا۔ ان کے نزدیک جدید انسان معنویت کے فقدان کا شکار ہے۔ اقبال اس بحران کا فکری حل پیش کرتے ہیں۔ وہ جدید سرمایہ دارانہ نظام، نوآبادیاتی ذہنیت اور اخلاقی زوال پر اقبال کے ردِ عمل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ بقول پروفیسر فہمی:
’’ارد وشاعری کے جدید دور میں اقبال ایک نابغہ بن کر پیدا ہوئے اور عہدِ آفریں بن کر ابھرے۔ جس طرح حالی ؔ کو اردو شاعری کی نئی صبح کا ابھرتا ہوا سورج کہا جاتاہے اسی طرح اقبال کو اردو شاعری کے نئے دن کے نصف النہار کا آفتاب کہنا چاہئے۔ اقبال بھی عہد آفریں ہیں بالخصوص اس جہت سے کہ اردو شاعری میں ایک نصب العین کے تحت مبسوط اور منظم فلسفیانہ خیالات کا سب سے پہلے اظہار اُنہوں نے کیا، اسی طرح فنی دل آویزیوں میں رنگا رنگی بھی انہوں نے ہی سب سے پہلے پیدا کی۔ ‘‘( سر محمد اقبال، ص: ۳۴)۔ پھر لکھتے ہیں : ’’اپنے دائرۂ اثر کے اعتبار سے ہی نہیں اپنا نورِ بصیرت عام کردینے کے لحاظ سے بھی اقبال نے ایک نئے دور کی تخلیق کی ہے۔ مثبت یا منفی اثرات سے قطع نظر اس دور کی شاعری میں اقبال کی طرح غوروفکر کا تعمق ملتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ فکر ونظر کا دور ہے جب بہت سارے شاعر خواہ وہ اقبال سے متاثر ہوں یا نہ ہوں حیاتِ انسانی کی غرض وغایت پر منکرانہ انداز سے روشنی ڈالتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ‘‘ (ایضاً)
فہمی صاحب بطور استاد بھی غیر معمولی تھے۔ وہ طلبہ کو اقبال کے نام سے مرعوب کرنے کے بجائے سوال اٹھانے کی تربیت دیتے تھے۔ ان کا تدریسی اصول تھااقبال کو سمجھنے کے لئے اختلاف سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ ان کے شاگرد آج مختلف جامعات میں تدریس و تحقیق سے وابستہ ہیں اور ان کے فکری اثرات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی تحریروں کا سب سے نمایاں وصف تنقیدی دیانت ہے۔ وہ اقبال کے بعض اشعار اور تصورات کی تعبیر میں موجود ابہام کی نشان دہی بھی کرتے ہیں، جو ایک سچے محقق کی علامت ہے۔ بقول پروفیسر غلام قدوس فہمی:
’’اقبال کا فن کئی جہتوں سے نئی شاعری کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ روایت اور جدت کے روغن سے اقبال نے جو قندیل روشن کی ہے وہ آج بھی توازن اور اعتدال کی راہ پر چلنے کی خواہش رکھنے والوں کو اپنی طرف پکار پکار کر متوجہ کر رہی ہے۔ غزل ہو یا نظم، اقبال نے شاعری کی ان دونوں صفوں میں شاہکار نمونے پیش کئے ہیں۔ ‘‘
مختصر یہ کہ پروفیسر غلام قدوس فہمی کا شمار ان محققین میں ہوتا ہے جنہوں نے اقبالیات کو خطابت سے نکال کر تحقیق کی سطح پر رکھا، عقیدت کے ساتھ تنقید کا توازن قائم کیااور اقبال کو ایک زندہ فکری روایت کے طور پر پیش کیا۔ پروفیسر غلام قدوس فہمی کی رحلت اردو ادب، خصوصاً اقبالیات کے لئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ان اہلِ علم میں سے تھے جنہوں نے شہرت پسندی سے تا عمر گریز کیا مگر اپنے علمی وفکری انقلابات سے ادبی معاشرے پرگہرا نقش چھوڑا۔ 
افسوس صد افسوس اب پروفیسر فہمی ہمارے درمیان نہیں رہے۔ انہو ں نے علم و ادب اور پیشہ ٔ تدریس کی عظیم الشان خدمت کے بعد تقریباً ۸۲؍سال کی عمر میں رحلت فرمائی۔ اُمید ہے کہ ان کا علمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK