• Sun, 22 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دی بیلڈ آف ریڈنگ جیل‘‘

Updated: February 22, 2026, 10:41 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

آسکر وائلڈ کی طویل نظم (The Ballad of Reading Gaol )کا نثری ترجمہ۔ شاعر نے یہ نظم ۱۸۹۷ء میں جیل سے رہائی کے بعد فرانس میں جلاوطنی کے دوران لکھی تھی جو عبوری تخلص C.3.3.کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ ترجمہ: شہباز خان

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ریڈنگ جیل میں دن سورج کی روشنی سے نہیں سیٹی کی تیز، لمبی اور بے رحم آواز سے شروع ہوتا تھا۔ یہ سیٹی بیداری کا اعلان نہیں بلکہ یاد دہانی تھی کہ ہم زندہ ہیں مگر اپنی مرضی سے نہیں۔ دھات جیسی سرد آواز نیند کو نہیں دل کو چیرتی تھی۔ پھر دروازے کھلنے اور تالے بولنے لگتے، اور ہماری آوازیں بھی ان میں شامل ہو جاتیں۔ کھانسی، سانسیں، زنجیروں کی کھڑکھڑاہٹ، اور وہ آواز جو انسان کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ خود سے نظریں چراتا ہے۔ ہم سب ایک جیسے کپڑوں میں، ایک جیسے بالوں کے ساتھ، اپنی تاریک کوٹھریوں سے نکل آتے۔ قید کا یہ لباس ہمیں ڈھانپنے نہیں، ’’سدھارنے‘‘ کیلئے پہنایا گیا تھا۔ یہاں قیدی کے طور پر ’’انسان‘‘ ہونا ایک اضافی خوبی تھی۔ ہم قطار میں چلتے، آنکھیں جھکی ہوئی، اور نپے تلے قدم کیونکہ جیل میں آزادی نہیں ہوتی، صرف نظم و ضبط ہوتا ہے، اور نظم و ضبط میں انسان کو انسان رہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ 
انہی دنوں ہم نے اُس آدمی کو دیکھا۔ اس کا نام چارلس وولف تھا۔ جیل میں نام مر جاتے ہیں، اس لئے وہ ہمارے لئے صرف ’’وہ آدمی‘‘ تھا۔ اس میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ چہرے پر کوئی نمایاں نشان نہ چال میں غرور۔ درمیانی عمر، کندھے جھکے ہوئے، آنکھوں میں وحشت نہ عاجزی لیکن جب وہ چلتا تو یوں لگتا جیسے ہر قدم ذہن نشین کر رہا ہو، جیسے ہر قدم آخری ہو۔ ہم جلد ہی جان گئے کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ وہ بیوی کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ تھا۔ عدالت نے اسے قاتل کہا، قانون نے فیصلہ سنادیا مگر اس کی سزا قید نہیں، وقت تھی۔ وہ وقت جو پھانسی کے پھندے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دن شمار ہو رہے تھے۔ وہ اکثر صحن میں آسمان کی طرف تکتا۔ وہ نہ روتا تھا نہ دوسروں کے سامنے اپنے گناہ یا بے گناہی پر بحث کرتا، اور نہ ہی خدا کو پکارتا تھا۔ وہ بس غیر معمولی شدت کے ساتھ زندہ تھا۔ اور یہی بات ہم سب کو بے چین کرتی تھی۔ کیونکہ ہم جانتے تھے: اگر وہ مرنے والا ہے، تو ہم سب بھی کسی نہ کسی طرح مر ہی رہے ہیں۔ 
رات کو جب چراغ بجھا دیئے جاتے، دروازے بند ہو جاتے، اور ہم اپنی تاریک کوٹھریوں میں لیٹ جاتے، تب ہم اسے سنتے تھے۔ وہ اپنی کوٹھری میں چلتا رہتا، آگے، پیچھے۔ اس کا ہر قدم ہماری سانسوں میں ایک کیل ٹھونک دیتا تھا۔ ہم آپس میں بات نہیں کرتے تھے۔ یہاں الفاظ فضول سمجھے جاتے، اور فضول چیزیں ضبط کر لی جاتی ہیں۔ ہم سب یہاں کچھ سیکھ رہے تھے۔ ہم سیکھ رہے تھے کہ ہر آدمی کسی نہ کسی کو مارتا ہے۔ کوئی نفرت سے، کوئی محبت سے، کوئی لفظوں سے اور کوئی قانون کے نام پر۔ فرق صرف یہ ہے کہ سب کے قتل عدالت میں ثابت نہیں ہوتے۔ ریڈنگ جیل صرف ان سے بھری تھی جن کا گناہ کاغذ پر آچکا تھا۔ 
جیل میں وقت نہیں گزرتا۔ یوں لگتا جیسے جمع ہو رہا ہو۔ ہر دن پچھلے دن کے اوپر رکھ دیا جاتا، جیسے اینٹیں، جیسے وزن۔ اور جس آدمی کو مرنا تھا، اس کیلئے وقت اب کیلنڈر نہیں رہا تھا۔ وہ ایک بھاری وجود بن چکا تھا جو آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ یہاں پھانسی کا ذکر ایسا تھا جیسے کسی مقدس چیز کی بے حرمتی ہو۔ داروغے بھی آہستہ بولنے لگے تھے۔ لیکن وہ آدمی، چارلس، نہیں بدلا۔ وہ اب بھی صحن میں ٹہلتا، اپنے قدم گنتا، اور کبھی کبھی مسکراتا۔ یہ مسکراہٹ سب سے خوفناک لگتی تھی کیونکہ وہ خوشی کی تھی نہ پاگل پن کی، وہ قبولیت کی تھی۔ اور قبولیت موت سے بھی زیادہ بھاری ہوتی ہے۔ 
ایک دن، جب سبھی قیدی قطار میں کھڑے تھے، اس نے دیر تک آسمان دیکھا۔ اس دن یہ غیر معمولی طور پر نیلا تھا، ایسا نیلا جو انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا جیل سے کہیں بڑی ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے مگر ہم سب کی آنکھوں میں تھے۔ وہ رات بھر جاگتا رہا۔ بستر پر بیٹھا رہا، بالکل سیدھا اور خاموش، جیسے کوئی شخص اپنے ہی جنازے میں جاگتا ہو۔ ہم میں سے کچھ اسے نفرت سے دیکھتے تھے کیونکہ وہ قاتل تھا۔ لیکن نفرت زیادہ دیر نہیں ٹھہرتی، خاص طور پر اس وقت جب موت قریب آ جائے۔ رفتہ رفتہ نفرت پگھلنے لگی اور اس کی جگہ کچھ اور آ گیا۔ ہمدردی نہ معافی۔ صرف ایک بھاری سا احساس کہ ہم سب اس انجام میں کسی نہ کسی طرح شریک ہیں کیونکہ جیل قاتل کو نہیں مارتی۔ وہ اسے آہستہ آہستہ سب کے سامنے مرنے دیتی ہے۔ اور جو دیکھتے رہتے ہیں، وہ بھی کچھ نہ کچھ کھو دیتے ہیں۔ پھانسی سے ایک رات پہلے جیل بدل جاتی ہے۔ یہ تبدیلی خاموشی ہوتی ہے۔ دروازے پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس ہوتے ہیں۔ راہداریاں لمبی ہو جاتی ہیں اور ہوا میں ایک عجیب سی احتیاط آ جاتی ہے۔ یہ اس آدمی کی آخری رات تھی۔ اسے تنہا نہیں چھوڑا گیا۔ قانون کو آخری لمحے تک گواہ درکار ہوتا ہے۔ دو پہرے دار اس کی کوٹھری کے باہر بیٹھے رہے۔ اندر وہ آدمی جاگ رہا تھا۔ وہ بستر پر نہیں لیٹا تھا۔ وہ بیٹھا تھا، ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، آنکھیں سامنے، جیسے کوئی شخص اپنے اندر اپنا فیصلہ سن رہا ہو۔ کسی نے اسے مقدس کتاب دی۔ اس نے اسے ہاتھ میں لیا، دیر تک دیکھا، اور پھر واپس کر دیا۔ نفرت سے نہیں، بے ادبی سے نہیں، بس خاموشی سے کیونکہ کچھ سچ کتابوں میں نہیں ملتے۔ کچھ سچ انسان اپنے اندر دفن کر لیتا ہے، اور وہیں مر جاتا ہے۔ 
اس رات نیند کسی کو نہیں آئی۔ سبھی اپنے اندھیرے میں ایک ہی چیز سوچ رہے تھے: صبح ہم میں سے ایک کم ہوگا۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ یہ خیال کسی فتح جیسا نہیں لگا۔ یہ ایک نقصان جیسا تھا، ایسا نقصان جس کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ مرنے سے پہلے انسان کی زندگی اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس آدمی نے کیا دیکھا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم تھا کہ اس رات اس نے مستقبل نہیں دیکھا کیونکہ مستقبل اس سے چھین لیا گیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ترجمے کی ضرورت اور اُردو مرا ٹھی مترجمین

صبح آئی، مگر کسی نئے دن کی طرح نہیں۔ ریڈنگ جیل میں صبح ہمیشہ ایک ترتیب کے ساتھ آتی تھی۔ مگر اس صبح ترتیب میں ایک اضافی سختی تھی۔ سیٹی بجی۔ ہم سب جانتے تھے کہ یہ سیٹی ہمیں صحن میں بلانے کیلئے نہیں تھی۔ یہ ایک اور جگہ کیلئے تھی، ایک اور کام کیلئے۔ راہداریاں صاف تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے دیواروں نے بھی اپنی سانس روک لی ہو۔ ہمیں باہر نہیں نکالا گیا۔ ہمیں دکھانے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ ہمیں صرف سننے کیلئے رکھا گیا تھا۔ اور سننا کبھی کبھی دیکھنے سے زیادہ سفاک ہوتا ہے۔ وہ آدمی اپنی کوٹھری سے نکلا۔ کوئی شور ہوانہ مزاحمت۔ اس نے وہی کپڑے پہنے جو اسے دیئے گئے تھے، نہ عزت کے، نہ ذلت کے، بس کام کے۔ اس کے ہاتھ آزاد تھے لیکن یہ آزادی دیرپا نہیں تھی۔ ہم نے نہیں دیکھا کہ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا یا نہیں، مگر ہمیں یقین تھا کہ اس نے جیل کو الوداع نہیں کہا۔ انسان اپنے جلاد کو الوداع نہیں کہتا۔ قدموں کی آواز آئی۔ ایک نہیں، دو نہیں، کئی۔ یہ آوازیں قانون کی تھیں، نپی تلی، مقرر، بغیر جذبات کے۔ کہتے ہیں کہ آخری لمحے میں انسان چیختا ہے یا دعا مانگتا ہے۔ ہم نے کوئی چیخ نہیں سنی۔ اور اگر کوئی دعا تھی بھی تو ہمارے دلوں میں۔ پھر ایک اور آواز آئی، مختصر اور فیصلہ کن۔ اور اس کے بعد ایک ایسی خاموشی جو پہلے کبھی جیل میں نہیں تھی۔ یہ خاموشی خوف کی تھی نہ سکون کی۔ یہ خاموشی تھی کسی عمل کے مکمل ہو جانے کے بعد چیزوں پر اترنے والی۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف نہیں دیکھا۔ ہم جانتے تھے کہ اگر ہم نے دیکھا، تو شاید ہم اپنے چہرے پہچان نہ سکیں۔ 
کچھ دیر بعد روزمرہ کی آوازیں لوٹ آئیں۔ چابیاں بجیں۔ دروازے کھلے۔ قدم چلنے لگے۔ جیل دوبارہ جیل بن گئی۔ لیکن ہم وہی نہیں رہے کیونکہ ہم نے دیکھ لیا تھا، یا کم از کم سمجھ لیا تھاکہ قانون صرف مجرم کو نہیں مارتا۔ وہ ان سب کو بدل دیتا ہے جو اس کے گواہ بنتے ہیں۔ اور اس دن ریڈنگ جیل میں ایک آدمی کم تھا، مگر انسانیت بھی کچھ کم ہو گئی تھی۔ 
لاش کو جلدی سے لے جایا گیا۔ کسی نے اس کا نام نہیں پکارا۔ کسی نے اس کے چہرے کو آخری بار دیکھنے کی خواہش ظاہر نہیں کی۔ وہ ایک رجسٹر میں درج ہوا، سیاہی میں، صاف ستھری تحریر میں، بغیر کسی لرزش کے۔ پھر اسے زمین کے حوالے کر دیا گیا۔ بغیر پادری کے گیت کے، بغیر صلیب کے سائے کے، بغیر اس سوال کے کہ مرنے والا کون تھا، صرف اس یقین کے ساتھ کہ قانون اپنا کام کر چکا ہے۔ 
ہم سب دوبارہ صحن میں آئے۔ قطاریں بنیں۔ قدم گنے گئے۔ آنکھیں زمین پر۔ مگر اب زمین بھی ہمیں سہارا نہیں دیتی تھی۔ خاموشی اب نظم و ضبط کا حصہ نہیں تھی، یہ شرمندگی تھی۔ ہم میں سے کچھ نے اس آدمی کو نفرت سے یاد کیا۔ کچھ نے ہمدردی سے۔ اور کچھ نے خود کو یاد کیا۔ کیونکہ اب، جبکہ سب ختم ہو چکا تھا، ہم یہ سوال کرنے لگے تھے: اگر وہ قاتل تھا، تو ہم کیا تھے؟ ہم نے کچھ نہیں کیا تھا، اور یہی سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ شام کو چرچ کی گھنٹی بجی۔ پادری نے خطبہ دیا، قانون، انصاف، اور خدا کے منصوبے پر مگر اس کی آواز ہم تک نہیں پہنچی۔ ہم جانتے تھے کہ جو بات پھانسی کے تختے پر کہی جا سکتی تھی، وہ منبر سے نہیں کہی جا سکتی۔ کیونکہ منبر جواب دیتا ہے، اور پھانسی سوال چھوڑ جاتی ہے۔ 
اسی رات مَیں نے خواب دیکھا کہ جیل کی دیواریں پگھل رہی ہیں، اور ان کے نیچے سے انسان نکل رہے ہیں، قاتل، قیدی، پہرے دار، اور جج۔ سب ایک جیسے۔ سب کمزور۔ سب خوفزدہ۔ سب نجات کے محتاج۔ مَیں جاگا اور سمجھ گیا کہ ہم سب نے اس آدمی کو نہیں مارا۔ ہم نے اس کے ساتھ اپنی ایک سچائی بھی دفن کر دی تھی۔ سچائی یہ تھی کہ انسان کو مارنے سے انصاف پورا نہیں ہوتا۔ صرف خاموشی بڑھتی ہے۔ اور خاموشی سب سے بھاری سزا ہے۔ 
ریڈنگ جیل آج بھی کھڑی ہے۔ سیٹیاں آج بھی بجتی ہیں۔ تالے آج بھی بند ہوتے ہیں۔ مگر جو لوگ اس ایک صبح کو یاد رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ رحم قانون سے ہمیشہ بڑا ہوتا ہے۔ اور یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر آدمی کسی نہ کسی کو مارتا ہے، مگر سب کو مرنے کی سزا نہیں دی جاتی۔ 
یہ کہانی جرم کی نہیں تھی۔ یہ کہانی قانون کی بھی نہیں تھی۔ یہ کہانی انسان کی تھی، اور اس خوف کی جو وہ اپنے نام پر دوسروں پر آزمانے لگتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK