ریاستی حکومت کی لاڈلی بہن اسکیم کی طرز پرشہری انتظامیہ کا سوابھیمان اسکیم سے خواتین مزدوروں کو ماہانہ ۱۵۰۰؍ سے ۲۰۰۰؍ ہزار روپے دینے کا منصوبہ، بی ایم سی پر ۷۵؍ سے ۱۰۰؍ کروڑ روپے اضافی بوجھ پڑنے کا امکان۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 11:41 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
ریاستی حکومت کی لاڈلی بہن اسکیم کی طرز پرشہری انتظامیہ کا سوابھیمان اسکیم سے خواتین مزدوروں کو ماہانہ ۱۵۰۰؍ سے ۲۰۰۰؍ ہزار روپے دینے کا منصوبہ، بی ایم سی پر ۷۵؍ سے ۱۰۰؍ کروڑ روپے اضافی بوجھ پڑنے کا امکان۔
ریاستی حکومت کی لاڈلی بہن اسکیم کی طرز پر بی ایم سی نے گھریلو کام کاج کرنے والی ملازمہ اور اس طرح کی دیگر خواتین کی مالی مدد کیلئے ’سوابھیمان ندھی ‘ اسکیم شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت ان خواتین کو ۱۵۰۰؍ سے ۲۰۰۰؍روپے ماہانہ دیئے جائیں گے۔ اس کیلئے ریاستی حکومت سے منظور ی طلب کی گئی ہے ۔ اس سے بی ایم سی پر ماہانہ ۷۵؍ سے ۱۰۰؍ کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
واضح رہےکہ ریاستی حکومت کی لاڈلی بہن اسکیم کے خطوط پر ممبئی میونسپل کارپوریشن نے غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والی ضرورت مند خواتین کیلئے ’سوابھیمان ندھی‘ اسکیم شروع کرنے کا منصوبہ تیارکیا ہے۔ تجویز یہ ہے کہ غیر منظم شعبے میں گھریلو ملازمین، باورچیوں اور دیگر خواتین کارکنوں کو ماہانہ ۱۵۰۰؍ سے ۲۰۰۰؍ ہزارروپے کی مالی امداد فراہم کی جائے۔ ریاستی حکومت نے۲۰۲۴ءمیں مکھیہ منتری لاڈکی بہن یوجنا شروع کی تھی۔ اس اسکیم کے تحت ہر ماہ ۱۵۰۰؍ روپے براہ راست اہل خواتین کے بینک کھاتوں میں جمع کئے جاتے ہیں۔ یہ اسکیم مہنگائی، بڑھتی ہوئی رہائش کے اخراجات اور مالی مشکلات کے تناظر میں خواتین کو مالی مدد فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: دادر بس حادثہ: ڈرائیور کو پوچھ تاچھ کیلئے پولیس اسٹیشن بلایا گیا
سیاسی مبصرین کےمطابق اس اسکیم سے مہایوتی حکومت کو اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شیو سینا (ٹھاکرےگروپ) نے اپنے منشور میں خواتین کو مالی مدد فراہم کرنے کی اسکیم کا ذکر کیا تھا۔ انتخابات کے بعد اپوزیشن لیڈر کشوری پیڈنیکر نے یہ تجویز ہائوس لیڈر گنیش کھنکر کو بھیجی تھی جنہوں نے اس کی تائید کی اور اس تجویز کو منظوری کیلئے ریاستی حکومت کے پاس روانہ کیاہے۔
ای وارڈ کی رئیس ایریا لیول فیڈریشن اور مہیلا بچت کی فعال رکن عائشہ انصاری نے اس اسکیم کے تعلق سے کہا کہ ’’ آج کے مسابقتی دورمیں پسماندہ طبقے کی خواتین کیلئے ۱۰۰۔۲۰۰؍ روپے بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ اگر مزدور طبقے کی خواتین کو بی ایم سی کی جانب سے ۲۰۰۰؍روپے ماہانہ ملتے ہی تو ان کیلئے بڑا مالی سہارا ہو جائے گا۔ بی ایم سی سے درخواست ہے کہ وہ اسکیم ضرور شروع کرے لیکن لاڈلی بہن اسکیم کی طرح کچھ مہینے بعد مختلف جواز پیش کر کے ہزاروں خواتین کو اسکیم سے باہر کرنے کی غلطی ریاستی حکومت کی طرح نہ دہرائے ،ایسا کرنے سے غریب ،مجبور اور لاچار خواتین کو بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔ ہم بی ایم سی کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آٹو رکشا کے اوپر چادر کو پانی سے بھگو کر گرمی کم کرنے کا دیسی انداز
مذکورہ قسم کی خواتین کی بیماری، بڑھاپے یا اچانک مالی بحران کی صورت میں مالی حالت مشکل ہوجاتی ہے۔اس لئے تجویز میں انہیں مالی مدد فراہم کرنے کی ضرورت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسے سوابھیمان ندھی یوجنا کا نام دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی منظوری کے بعد، اہل استفادہ کنندگان کی رجسٹریشن اور تصدیق کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اس کیلئے میونسپل کارپوریشن کے ۲۶؍وارڈوں کے دفاتر کے ذریعے سروے کرایا جائے گا۔ای شرم پورٹل پر رجسٹریشن اہلیت کیلئے ایک اہم شرط ہو سکتی ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں، این جی اوز اور سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے بھی تصدیق کا امکان ہے۔ محکمہ محنت اور گھریلو ملازمین کی انجمنوں کے مطابق ممبئی میں تقریباً پانچ لاکھ خواتین گھریلو ملازم ہیں۔ اگر خواتین میونسپل اسکیم کے تحت رجسٹر ہوتی ہیں تو میونسپل کارپوریشن کو انہیں ماہانہ ۷۵؍ سے ۱۰۰؍کروڑ روپے دینے پڑسکتےہیں۔ اس سے بی ایم سی پر مالی دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔دریں اثناء میونسپل کارپوریشن کو آزادانہ طور پر ایسی براہ راست مالی امداد کی اسکیم شروع کرنے کا اختیار نہیں ہے، اس لئے ریاستی حکومت کی منظوری درکار ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں نے کہا کہ چونکہ میونسپل کارپوریشن پر بڑے پروجیکٹوں کا بوجھ ہے اس لئے حکومت کو اس اسکیم کیلئے فنڈ فراہم کرنا چاہئے۔