Inquilab Logo Happiest Places to Work

چلے گئے محبِ اُردو نارنگ ساقی، ہم اُن کو روئیں گے، اُن کی کتابیں ہمیں ہنسائیں گی

Updated: June 14, 2026, 12:34 PM IST | Nazir Fatehpuri | Mumbai

کرشن لال نارنگ کا جمعہ، ۵؍ جون کو انتقال ہوا، اُردو زبان و ادب کے شیدائی نارنگ کا امتیازی وصف تھا کہ محفلیں برپا کرتے اور محفلوں کے لطیفے قلمبند کرتے۔

Narang Saqi. Photo: INN
نارنگ ساقی۔ تصویر: آئی این این

نارنگ  ساقی نے ادب میں وہ کام کیا ہے جو کسی اور نے شاید نہیں کیا اور کیا بھی ہوگا تو اس جنگی پیمانے پر نہیں۔ لطیفے گھڑنا اور لطیفے جمع کرنا دو الگ الگ نوعیت کے  کام ہیں۔ لطیفے گھڑنے والوں نے لطیفے گھڑے اور مختلف محفلوں میں چھوڑ دیئے۔  وقتی طور پر اہل محفل ان لطیفوں سے لطف اندوز ہوئے۔ کوئی زیرلب مسکرایا، کسی نے قہقہہ لگایا اور کوئی لوٹ پوٹ ہوگیا۔ ہر حال میں لطیفہ گو کا لطیفہ مفید اور بااثر ثابت ہوا لیکن کبھی کوئی لطیفہ ادب پارہ نہ بن سکا۔ حالانکہ یہ ادباء اور شعراء ہی کے بطن سےپھوٹی ہوئی کرن تھی جس نے وقتی طور پر باذوق سامعین کے دل و دماغ کو منور کرنے کا کام کیا تھا لیکن محفل برخاست ہوتے ہی یہ روشنی بجھ گئی یا بجھا دی گئی۔

ساقی صاحب نے ان لطیفوں کو جمع کیا، مرتب کیا اور بیش قیمت کتاب شائع کرکے قارئین تک پہنچا دی۔ مرحوم شعراء اور ادباء کی پیدائش اور وفات کی تاریخوں اور تصویروں کی شمولیت نے ساقی کے کام کو خاصا اہم اور مفید بنا دیا ہے۔ لوگ تدوین و ترتیب کو آسان سمجھتے ہیں مگر اس کام کی دقت کام کرنے والے ہی کو معلوم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گھڑی کی سوئیوں کی سمت

غور کیا جائے تو لطیفوں میں تخلیقی فن پارے کی طرح فصاحت اور بلاغت بھی ہوتی ہے۔ کبھی کسی لطیفے کے بطن میں پوری کہانی محسوس کی جاسکتی ہے۔ بعض اہل قلم کی رائے میں لطائف کو مزاحیہ اور طنزیہ ادب کے زمرہ میں رکھنا چاہئے۔ طنز و مزاح سے متعلق یوسف ناظم نے کہا تھا کہ ’’طنز و مزاح کو دوسرے درجے کا ادب اس لئے بتایا جاتا ہے کہ ابھی  تک اردو میں پہلے درجہ کا ادب لکھا ہی نہیں گیا۔‘‘ یوسف ناظم کے اس جملے میں بلا کا طنز  ہے اور جملے کی فصاحت سے تو انکار ممکن ہی نہیں۔

نارنگ ساقی کی طبیعت میں مزاح کہاں تک بسا ہوا ہے اس کا مجھے ذاتی تجربہ نہیں ہے۔ میری ان سے بس ایک دن کی ملاقات ہے۔ دلی میں صرف ایک دن میں ان کی رفاقت میں رہا ہوں۔ اس دن شبیر فراز فتحپوری بھی میرے ساتھ تھے۔ ہم دونوں جب ان کے دفتر پہنچے تو انہوں نے بے حد خلوص اور اپنائیت کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ ٹھنڈا مشروب پیش کیا گیا جس سے بڑی راحت کا احساس ہوا۔ یہاں کوئی جام و مینا کا تصور نہیں تھا جس کیلئے ساقی مشہور ہیں۔ ویسے بھی یہ دوپہر کی گھڑی تھی۔ میخانے کے دروازے تو سورج ڈوبنے کے بعد کھلتے ہیں۔ اردو کے معتبر ادیب اور افسانہ نگار نندکشور وکرم نے ہمیں دوپہر کے کھانے پر بلایا تھا اور ہمیں ان کے گھر تک لے جانے کی ذمہ داری ساقی صاحب کو سونپی گئی تھی۔ کچھ دیر بعد ہم ساقی کی اسی کار میں سفر کررہے تھے جس کے لئے مشہور ہے کہ اس میں انواع و اقسام کی شراب کی بوتلیں ہمہ وقت موجود ہوتی ہیں، لیکن ہمیں تو اس کار میں بسلیری کی بوتلوں کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔

یہ سفر ایک گھنٹہ سے زیادہ کا تھا۔ راستے میں وقفے وقفے سے ہماری گفتگو ہوتی رہی جس میں ظاہرہے کہ ادب اور ادیب ہی موضوع تھے۔ اس دوران نہ کوئی لطیفہ ہوا نہ دختر رز کی بات چلی۔ بہرکیف ہم پہنچے اور  نندکشور وکرم کے یہاں ہم نے دو گھنٹے گزارے۔ اس روز اتفاق سے ان کی ملازمہ چھٹی پر تھی۔ وکرم جی اور ان کی اہلیہ محترمہ نے مل کر ہمارے لئے تھال پروسے۔ ان دوران ۸۰؍ سال کے نندکشور واقعی ’’نندکشور‘‘ محسوس ہوئے۔ جوانوں جیسی پھرتی ان میں نظر آرہی تھی۔ ساقی یہاں بھی بہت سنجیدہ رہے۔ مختلف زاویوں سے ہم چاروں نے فوٹو کھنچوائے اور چار بجے وہاں سے لوَٹے۔ پانچ بجے ساقی نے ہمیں اُس  جگہ پہنچایا جہاں سے بستی حضرت نظام الد ین جانا آسان تھا۔یہی ایک دن کی ملاقات تھی جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس کے بعد اُن سے مراسلت جاری رہی۔ فون پر گفتگو بھی ہوتی رہی۔ ممبئی میں ان کے فرزند اپنے کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہیں لہٰذا وہ ممبئی آتے تو اپنے ممبئی قیام کی خبر ضرور دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا بالی ووڈ سے اُردو ختم ہو چکی ہے؟

ساقی کی محفلوں کے  تذکرے پڑھ کر میرے منہ میں کبھی پانی نہیں آیا کہ ہم تو ساقی کی اس شراب کے طلبگار ہیں جو وہ خلوص و محبت کے پیمانوں سے چھلکاتے ہیں۔ محبت کی شراب ساری شرابوں سے زیادہ نشہ آور ہوتی ہے جس میں تلخی کا احساس کبھی نہیں ہوتا، بس شیرینی ہی شیرینی ہوتی ہے۔ساقی کی ادبی خدمات محض لطیفوں تک ہی محدود نہیں۔ انہوں نے ادبی مضامین لکھے ہیں۔ شخصیات پر بھی مضامین لکھے ہیں۔ اور ایک قابل ذکر کام انہوں نے یہ بھی کیا کہ کنور مہندرسنگھ بیدی سحر کی ادبی شخصیت کو نمایاں کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ بے حسوں کی اس دنیا سے چلے جانے کے بعد گھر کے لوگ اپنے فنکاروں کو یاد نہیں رکھتے بلکہ ان کی جمع کردہ کتب، رسائل، اخبارات کے تراشے اور ان کی ڈائریاں ردّی والوں کو دے دیتے ہیں۔ ایسے میں ساقی نے سحر کے ادبی اثاثے کا پوری طرح تحفظ کیا اور اسے شائع کرکے اہل فکر و نظر کی میزوں تک پہنچایا ہے۔ سحر صاحب کے تئیں ان کا خلوص دیکھ کر لگتا تھا کہ ساحر صاحب اب بھی ادبی دنیا میں موجود ہیں۔

مجھے یاد آرہا ہے ۔ لاہور میں مقیم ان کے دوست ، ماہنامہ تخلیق کے مدیر اظہر جاوید کا جس دن انتقال ہوا اسی دن دوپہر انہوں نے مجھے فون کرکے اس اندوہناک سانحے کی خبر دی اور اس کے بعد فون پر ان کی سسکی سنائی دی پھر میں نے انہیں باقاعدہ  روتے ہوئے محسوس کیا۔

محبت  ہو تو ایسی ہو، دوستی ہو تو ایسی ہو اور خلوص ہو تو ایسا ہو۔ آج کوئی بھائی اپنے بھائی کیلئے نہیں روتا، دوست کیلئے آنسو کہاں سے امڈیں گے۔ لیکن میرے کانوں  میں اظہر جاوید کے لئے ساقی کی سسکیاں آج بھی گونجتی ہیں۔ افسوس کہ اب، سسکیوں کے ساتھ وہ رونے والا بھی نہیں رہ گیا۔ ساقی بھی چلے گئے مگریہ ستم ظریفی ہمارے ساتھ رہے گی کہ ہم اُن کو روئیں گے اور اُن کی کتابیں ہمیں ہنسائیں گی۔

یہ بھی پڑھئے: انشائیہ: داخلے جاری ہیں

سرحد پار ساقی کی مقبولیت

نارنگ ساقی  انتہائی پریشانی میں بھی اپنے چہرے پر کوئی عکس نہیں پڑنے دیتے، کوئی جھلکی نہیں آنے دیتے۔ ان کی جملہ طرازی قائم رہتی ہے اور اچھے جملوں پر کھل کر داد بھی دیتے ہیں۔ لوگ تقریبات میں جاتے ہیں تو یا اپنے وزیٹنگ کارڈ تقسیم کرتے  ہیں یا حسیناؤں کے پتے لکھتے ہیں۔ دیکھا ساقی جی بھی کاغذ پر کچھ گھسیٹ رہے ہیں۔ اپنی عادت کے مطابق مَیں وہی کچھ سمجھا یا خیال آیا کہ  وہ حسیناؤں کی پیمائش درج کررہے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا وہ محفل میں بپا ہونے والے لطیفے سنبھال رہے ہیں۔

اظہر جاوید 

جناب کے ایل نارنگ ساقی میرے عزیز ترین دوست ہیں اور انہیں ادب سے ہمیشہ محبت رہی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ کسی زبان کے ادب سے پیار کرنے والا شخص ادیب بھی ہو لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ادیب نہ ہوتے ہوئے بھی ادب کی ایسی خدمت کرتے ہیں جو خود ادیبوں کے مقدر میں نہیں ہوتی۔ یہ لگن، یہ جنون بھی قدرت کی ایسی ہی دین ہے جیسے کسی کو تخلیقی صلاحیتوں سے نواز دیا جاتا ہے۔ چنانچہ میرے دوست ساقیؔ صاحب پر بھی قدرت نے اسی قسم کے انعامات کی بارش کررکھی ہے۔

قتیل شفائی

 اس دکھ بھری دنیا میں بھارت کے ادیب نارنگ ساقی کو فطرت نے ہر وقت مسکراتے رہنے کی عادت سے سرفراز کیا۔ سماجی لحاظ سے وہ مجلسی انسان ہیں، کبھی اکیلے ہوں تو اداس ہو جاتے ہیں ۔ اداسی ختم کرنے کے لئے بھی ان کے پاس ایک نسخہ ہے۔ ویسے تو ہر دوسرا آدمی ان کا دوست ہے اور دوست ان کے اتنے ہیں کہ شمار نہیں کئے جاسکتے۔ سنا ہے کہ مومن  خاں مومنؔ کے اس شعر کو اپنا اسلوب حیات بنا رکھا ہے:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

انور سدید

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK