Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی: صفائی محکمہ میں فرضی حاضری کا انکشاف

Updated: June 14, 2026, 11:55 AM IST | Bhiwandi

غیر حاضر صفائی ملازمین کو حاضر دکھا کر سرکاری خزانے سے تنخواہیں نکالنے کا الزام، ابتدائی جانچ میں بے ضابطگیوں کے اشارے ملنے پر صحت انسپکٹر سنتوش جادھو معطل۔

File photo. Photo: INN
فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کے محکمۂ صفائی میں حاضری رجسٹر میں مبینہ ہیر پھیر کرکے غیر حاضر صفائی ملازمین کو حاضر ظاہر کرنے اور ان کے نام پر سرکاری خزانے سے تنخواہیں جاری کرنے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ معاملے کی ابتدائی جانچ میں بعض بے ضابطگیوں کے اشارے ملنے کے بعد میونسپل انتظامیہ نے محکمۂ صحت کے انسپکٹر سنتوش جادھو کو معطل کر دیا ہے، جس کے بعد نہ صرف محکمۂ صفائی بلکہ میونسپل انتظامیہ کے نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گرم لہر سے ۳؍ مہینے کے دوران ۲۹۷؍ افراد ہیٹ اسٹروک سے متاثر

اطلاعات کے مطابق بعض صفائی ملازمین کی غیر حاضری ابتدائی طور پر حاضری رجسٹر میں درج کی جاتی تھی لیکن بعد میں مبینہ طور پر ان اندراجات میں تبدیلی کرکے انہیں حاضر ظاہر کیا جاتا تھا- الزام ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں غیر حاضر ملازمین کے نام پر باقاعدگی سے تنخواہیں بھی جاری کی جاتی رہیں، جس سے میونسپل کارپوریشن کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔اس معاملے کو منظر عام پر لانے کا سہرا وارڈ نمبر ۱۴؍ کے کارپوریٹر عبدالرحمن خان عرف صدام کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے حلقے میں واقع ایک صفائی کیبن میں ملازمین کی حاضری اور عملی موجودگی کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہیں شبہ ہوا کہ متعدد ملازمین طویل عرصے سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہو رہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں ان کی باقاعدہ حاضری درج ہے۔ 

ذرائع کے مطابق ابتدائی جانچ کے دوران بعض ریکارڈز میں تضاد اور بے ضابطگیوں کے اشارے ملے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میونسپل انتظامیہ نے داخلی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ جانچ کے دوران یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا واقعی حاضری رجسٹر میں رد و بدل کیا گیا تھا اور اگر ایسا ہوا تو اس میں کون کون ذمہ دار ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صفائی ملازمین کی حاضری کے ریکارڈ میں بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر شہری خدمات پر پڑنا فطری امر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرضی دواساز کمپنیوں کی جانچ کیلئے ریاستی حکومت نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی

معاملے کی ابتدائی جانچ میں بعض بے قاعدگیوں کے اشارے ملنے کے بعد میونسپل کمشنر کی ہدایت پر ڈپٹی میونسپل کمشنر وکرم دراڈے نے محکمۂ صحت کے انسپکٹر سنتوش جادھو کو معطل کر دیا ہے۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا۔اس واقعے کے بعد کئی اہم سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ اگر واقعی غیر حاضر ملازمین کو حاضر دکھا کر تنخواہیں جاری کی گئیں تو یہ سلسلہ کب سے جاری تھا؟ اس سے میونسپل کارپوریشن کو کتنا مالی نقصان پہنچا؟ اور کیا یہ معاملہ صرف ایک صفائی کیبن تک محدود ہے یا محکمۂ صفائی کے دیگر شعبوں میں بھی اسی نوعیت کی بے ضابطگیاں موجود ہیں؟قابلِ ذکر ہے کہ بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن میں ۲؍ ہزار سے زائد صفائی ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔شہریوں، سماجی کارکنوں اور عوامی نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام وارڈز کے حاضری رجسٹروں، تنخواہوں کے ریکارڈ اور ملازمین کی تعیناتی سے متعلق دستاویزات کی جامع جانچ کرائی جائے۔ ساتھ ہی آئندہ ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کیلئے بایومیٹرک حاضری نظام اور ڈیجیٹل نگرانی کے انتظامات کئے جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK