مشہور مزاح نگار پطرس بخاری، جن کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں، نے ۱۹۴۵ء میں پی ای این کے سالانہ اجلاس منعقدہ جے پور میں یہ مقالہ پڑھا تھا۔ اس میں انہوں نے اردو ادب کے جدید دور یعنی اقبال کے فوراً بعد کے زمانہ سے بحث کی اور اپنے مخصوص چبھتے ہوئے انداز میں اس پر رائے زنی کی تھی۔ دیکھئے اس کی افادیت اب بھی کم نہیں ہوئی)
ادب میں نئی نسل کی دلچسپی ضروری ہے کیونکہ اکثریت ماضی سے دور ہوتی جارہی ہے۔ تصویر: آئی این این
جب اقبال اپنے اسلاف سے عالمِ بالا میں جا کر ملے تو دور نزدیک کے زمانوں سے کئی ایک دوست ان کے گرد اکٹھے ہوئے۔ غالبؔ اور میرؔ، حالیؔ، شبلیؔ اور گرامیؔ حتیٰ کہ نظیریؔ، رومیؔ اور حافظؔ بھی۔ چنانچہ گفتگو روانی سے ہونے لگی۔ کچھ لمحے گومگو کی حالت میں بھی گزرے مثلاً خودی کے مسئلے پر ایک عالمانہ بحث رومیؔ اور اقبالؔ کی تنہاکلامی کے دوران چھڑ گئی تو غالبؔ کےخراٹے بھی سنائی دیئے مگر مجموعی طور پر یہ صحبت بے حد سازگار رہی۔ جانے پہچانے اقتباسات، کتابوں سے یا حافظے سے بآواز بلند پڑھے گئے اور شب و روز کی بے زباں لہروں پر حکمت اور ظرافت کا ملاپ ہوتا رہا۔ بہت سے قضیئے سامنے آئے اور ان میں سے کئی ایک حل نہ ہوسکے اس کے باوجود فہم و بصیرت کے تازہ اور فرحت بخش نقش و نگار دریافت ہوئے۔ اقبالؔ قدماء میں سے نہ تھے پھر بھی قدماء کے لئے اجنبی نہ تھے، بس ذرا نئے نئے اور بھرپور سے لگتے تھے۔
آج کا نوجوان اردو ادیب، اگر اس کو سفر پر وقت سے پہلے روانہ ہونا پڑے، اس محفل میں کیسا لگے گا؟ مجھے یقین ہے کہ اس کا استقبال مروت اور شفقت سے کیا جائے گا مگر یہ خوف بھی ہے کہ وہ ذرا کھویا کھویا سا لگے گا۔ قدماء سے اظہار خیال اس کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ نیا مسافر، اپنے اور اُن پیشروؤں کے درمیان ایک بڑی خلیج پائے گا جسے پاٹنے کے لئے اس کو کتب خانہ ٔ فردوس میں طویل نشستوں کا پروگرام بنانا پڑے گا۔ وہ حالات کی مجبوری سے اپنے اجداد کا جائز ورثہ وصول نہیں کرسکا۔ الا ماشاء اللہ۔ راشد اور فیض، فراق اور فرحت اللہ بیگ، جوش اور حفیظ، ماضی کے ساتھ ان سب کے مراسم اچھے ہیں اگرچہ انہوں نے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ، اپنے آپ کو حال یا مستقبل کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے، مگر وہ پیہم کم ہوتی ہوئی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں اور سلف کی ایسی یادگار ہیں جو نجانے کب پیدا ہو۔ ہمارے لکھنے والوں کی اکثریت اپنے آپ روایت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ مولوی نذیر احمد جو آج سے پچاس برس پہلے کے ناول نگار تھے، انبیاء اور شعراء کو نقل کرتے، مگر بات یہ ہے کہ مصنف اور اس کے کردار دونوں میں حوالہ دینے کی اہلیت تھی، دونوں نے ادب کی ایک مشترک دولت ورثے میں پائی تھی جو اس دور کے ذہن میں صاف ترتیب کے ساتھ موجود تھی۔
آج کے اردو ناول نگار میں اور اس کے ہیروؤں میں کوئی بات مشترک ہے تو یہ ہے کہ دونوں کوئی قول نقل نہیں کرسکتے، یہ نہیں۔ وہ بلا نوش قسم کا قاری ہے مگر ولایتی ناشروں کی چھاپی ہوئی ’’بہار کی فہرستیں ‘‘، ’’خزاں کی فہرستیں ‘‘ اور سمندر پار کے ایڈیشن کچھ ایسے تسلسل کے ساتھ چلے آتے ہیں کہ نہ چننے اور چھاٹنے کی فرصت رہ جاتی ہے نہ کسی چیز کو دوبارہ پڑھنے کی۔ ہمارے دور کا نصاب بھی الجھا ہوا ہے اور پیچھے مڑ کے دیکھنے کی تو تحریک ہی پیدا نہیں ہوتی۔ ہمارے زمانے کے اردو ادیب کا مستقبل ہو تو ہو، ماضی کوئی نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جب پہلی بار ہم نے اُردو ڈرامہ دیکھا
اس قطع تعلق کی وجوہات گوناگوں اور پیچیدہ ہیں۔ اوپری نظر سے دیکھیں تو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہمارے ادیب نے جس نظام تعلیم کے تحت نشوونما پائی ہےیہ سب اسی کا قصور ہے۔ پرانے مسلمات غائب ہوچکے ہیں اور اس کے ساتھ انبیاء و شعراء بھی۔ مگر یہ خیال پوری طرح صحیح نہیں۔ بنیادی وجوہ اس سے کہیں زیادہ گہری ہیں۔ دنیا بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اور لکھنے والا بھی نئی نسل کی طرح اس بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کو محسوس کرتا ہے۔ اس نصف صدی میں بہت سے اور پشتے ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں ۔ روایتی اقدار جو معاشرے کو بقا اور استحکام بخشتی تھیں اسی وقت تک کارآمد تھیں جب تک معاشرہ کا ناک نقشہ درست تھا۔ ناک نقشہ پھیل پھیل کر یوں متزلزل ہوگیا ہے جیسے پانی کی سطح پر تیل کے لہریئے۔ قدیم معاشرے سے اس کا کوئی ربط نہیں کیونکہ وہ قدیم معاشرہ باقی نہیں رہا، وہ اپنے آپ کو ایک نئے اور ہر لحظہ بدلتے ہوئے معاشرے میں گھرا ہوا دیکھتا ہے جس سے مربوط ہونا اس کے لئے لازم ہے۔ اگر وہ بالکل ہی کٹ کے رہ جانا نہیں چاہتا تو پوری طرح اس کا شعور نہیں رکھتا۔ مگر یہ بات اس کو معلوم ہوچکی ہے کہ پچھلی نسل نے اس کو کچھ نہیں دیا۔ نئی دنیا میں کوئی مناسب مقام اس کو حاصل کرنا ہے۔ ماضی کی کئی چیزیں اس کو ایسا کرنےسے روکتی ہیں اور وہ ماضی مردہ باد کا نعرہ لگاتا ہے۔ اس کیلئے نئی پود کا سب سے بڑا تقاضا بغاوت ہے، رسم و رواج کے خلاف، قوت اور اختیار کے خلاف، والدین کے خلاف۔ وہ ہر اس چیز سے جو اسے ماضی کی یاد دلائے، دُور بھاگتا ہے۔
اردو ادیب کو اپنے ماضی سے قطع تعلق کرکے کم سے کم ایک بڑی قربانی دینی تو پڑی ہے۔ وہ بیک جنبش قلم الفاظ و تلمیحات اور حکایات کے ذخیرے سے جو فنکار مصنف کو نازک اور کارآمد ترین آلات ِ اظہار بخشتا ہے، محروم ہوگیا ہے۔ لفظ محض چند آوازوں اور لکیروں کا نام نہیں جو مٹ جانے کے بعد پھر پیدا کئے جاسکیں۔ ان میں ہمارے پیشروؤں کی جذباتی وارداتیں اور نفسیاتی مشاہدات مضمر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک انسانی تجربے کے طیف میں ایک خط کا حکم رکھتا ہے۔ اگر طیف کا ایک خط گم ہوجائے تو ہم اس کی جگہ دوسرا خط نہیں کھینچ سکتے، اسی پہلے خط کو دریافت کرنا پڑے گا۔ آج کے لکھنے والے کو اسی وجہ سے نئی چیزوں کو نئے نام دینے ہیں۔ اسے ان چیزوں کو جو پہلے معلوم و محسوس تھیں ، پھر سے جاننا اور پہچاننا ہے۔ ماضی سے دستبردار ہوکر اس نے اپنی تخلیقی شخصیت پہ ایک بوجھ ڈال دیا ہے جس سے اس کی فنی مشکلات دوچند ہوگئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کو بیک وقت نازک اور اکھڑ، واضح اور دھندلا، گومگو میں گرفتار اور ہزار معنوں میں مضطرب دیکھتے ہیں۔ لفظ جن سے اس نے پہلوتہی برتی تھی اب اس سے پہلو چراتے ہیں۔
مشہور برطانوی ماہر لسانیات سر ڈینی سن ردس نے، جو اس بات سے واقف تھے کہ زندہ زبانوں میں تلمیحات اور حوالوں کا ایک ذخیرہ مخفی ہوتا ہے جسے تعلیم یافتہ افراد اپنا کر اپنی تحریر و تقریر میں رنگ اور زور پیدا کرتے ہیں، ایک کتاب کی صورت میں انگریزی زبان کے پس منظر کا نقشہ کھینچا تھا۔ ادبی حوالوں کے زیرعنوان انہوں نے بائبل کے مستند ترجمے، شیکسپئر اور بچوں کے گیتوں کا تذکرہ کیا تھا اور ’’انگریزی‘‘ روایت کے تحت قومی تہوار، معروف شخصیتوں کے القاب و خطابات اور مشہور اشتہارات گنائے تھے حتیٰ کہ ایک جز ’’گھسے پٹے جملے‘‘ پر بھی لکھا تھا۔ آج سے پچاس برس پہلے اسی انداز سے اردو کا نقشہ کتنی آسانی سے بیان ہوسکتا تھا ! اور آج یہ کام کتنا مشکل ہے!
اردو ادیب کو یہی مشکل درپیش نہیں۔ وہ دو زبانیں پڑھتا اور بولتا ہے اور جب یہ دو زبانیں اردو اور انگریزی کا سا وسیع اختلاف رکھتی ہوں تو یہ خوبی کتنی بڑی خرابی بن جاتی ہے۔ علماء اور ماہرین تعلیم، تاریخ اور تجربے کی مدد سے کئی ایک ناقابل تردید دلائل پیش کرکے ارشاد کرینگے کہ دو زبانوں کی مہارت بہت بڑی نعمت ہے، بین الاقوامیت کے قائل یہ کہیں گے کہ ہر بیرونی زبان دوگونہ رحمت ہے، اس ملک کیلئے جس کی وہ زبان اور اس کیلئے جس نے اسے اختیار کیا۔ اُن کا ارشاد بجا ہے کیونکہ ہر نئی زبان ذہن میں ایک نیا دریچہ کھولتی ہے اور کون ہے جو روشنی پسند نہیں کرتا۔
( طویل مقالہ ’’ہمارے زمانے کا ادیب‘‘ کا ایک حصہ)