• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسے نہ پڑھئے پلیز

Updated: January 05, 2026, 4:23 PM IST | Muhammad Asadullah | Nagpur

براہ کرم آ پ یہ مضمون نہ پڑھئے ! آ پ کے کسی کام کا نہیں ۔ آ پ کی ضیافت طبع کے  لئے اور بھی عمدہ قسم کے پُرمغزمضامین ہیں، آ پ ان سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔ارے ! آ پ پڑھتے چلے جارہے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
براہ کرم آ پ یہ مضمون نہ پڑھئے ! آ پ کے کسی کام کا نہیں ۔ آ پ کی ضیافت طبع کے  لئے اور بھی عمدہ قسم کے پُرمغزمضامین ہیں، آ پ ان سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔ارے ! آ پ پڑھتے چلے جارہے ہیں۔ اسے چھوڑ دیجئے پلیز ، آ گے بڑھ جائیے ۔ اسے نہ پڑھنے سے کوئی نقصان نہیں ہوگااور پڑھ کر بھی کوئی فائدہ نہیں۔ ایسا کام کیوں کیاجائے جس سے تضیعِ اوقات کے سواکچھ حاصل نہ ہو۔ دنیا میں بے شمار ایسی کتابیں، رسالے اور تحریریں ہیں جن کا مطالعہ انسان کے لئے بے حد نفع بخش ہے۔ یقین ما نئے یہ اس قسم کی تحریر ہر گز نہیں ہے، آ پ بلا وجہ اس میں اپنا سر نہ کھپائیں۔
آ پ مانتےکیوں نہیں ؟ایک بار کہہ دیا کہ اسے نہ پڑھیں تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ کیا اس مضمون میں سر خاب کے پَر لگے ہیں جو آ پ پڑھتے چلے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آ ئیے ۔ وہاٹس ایپ میسیج دیکھئے۔ تھوک کے بھائو سے مبارکباد کے پیغامات ، تحسین و آ فرین کے روح افزا جملے ، تعریفی کلمات ، عیادت کے سندیسے ، تعزیتی فقرے ، گھٹیا لطیفے ،نصیحتیں اور اقوالِ زرین   وغیرہ دعوتِ مطالعہ دے رہے ہیں ،وہاں اقبالؔ اور غالب ؔکے نام کے ساتھ پیش کئے گئے وہ گھٹیا ، بے تکے، پٹری سے اترے ہوئے بے وزن اشعار ملاحظہ فرمائیے جو ان عظیم شعراء کو ان کی حیات میں سنائے جاتے تو یقیناً ان کی تاریخ ِ وفات کچھ اور پیچھے سرک جاتی ۔ راستے پر آ ئیے اور رنگوں کی طرح بدلتے ہوئے ان شاہراہوں کے نام پڑھئے، شہروں کے ناموں کے تغیرات سے عبرت حاصل کیجئے ، اشتہارات ،سائن بورڈ ،ہدایات اور دیواروں پر لکھے جملوں کی بے بسی پڑھئے مثلا (اشتہاروں کے درمیان )یہاں اشتہار لگانا منع ہے ،( کوڑے کے ڈھیر پر )یہاںکچرا ڈالنا منع ہے  اور ( ایسی ہی کسی دیوارِقہقہہ پر طنزیہ تیور  کے ساتھ ) دیکھو دیکھو یہاں ایک گدھا .....، وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں آ پ کے ذوقِ مطالعہ کی منتظر ہیں ۔بجلی پانی،وغیرہ کے بل، بنک کاپاس بک، رسوئی گیس کا ریکارڈ بک اور ان سب کو پڑھنے والوں کے ماتھے کی شکنیںوغیرہ ۔ان سب کو پڑھتے پڑھتے تھک جائیں تو لوگوں کے چہرے پڑھئے ،زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے اس کا مطالعہ کیجئے ،غرض پڑھنے پر آ ئیں تو یہاں ہزاروں چیزیں ہیں ۔خدارا اس ایک مضمون کو بخش دیجئے ۔ 
جنابِ من! آ پ کا مسئلہ یہ ہے کہ آ پ صرف پڑھتے ہیں اور پڑھتے ہیں،سنتے کہاں ہیں ،کتابیں اور مضامین آپ سے باتیں کرتی ہیں،کچھ کہنا چاہتی ہیں ،آ پ سے کچھ مانگتی ہیںمگر شاید کان پور میں ہڑتال ہے یا عقل کنواں ( اکل کنواں )میں کر فیو لگا ہوا ہے ،آ پ کو صرف پڑھنے کا ہَو کا ہے ۔ آپ کتابیںپڑھتے ہیں، ان کی بات سنتے کہاں ہیں۔ ہم  ،اتنی دیر سے کہے جارہے ہیں کہ اسے نہ پڑھیے مگر آ پ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔  
اس تحریر میں مضمون جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں، جیسا کہ آ ج کل بیشتر مضامین میں ہوا کرتا ہے اور جو آ پ  اس قدر انہماک کے ساتھ پڑھ رہے ہیں یہ اس قبیل کی چیزوں میں بد ترین مضمون ہے ۔ مذکورہ تحریروں پر اکثر کسی مضمون کا دھوکہ ہوتا ہے ،اس مضمون میں وہ بھی نہیں ہے ۔اُن فالتو مضامین میں آ خر تک ہر سطر پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے گویا آ پ پیاز کے چھلکے اتار رہے ہیں ،کچھ پانے کی امید کسی سراب کی طرح آ پ کو آ گے بڑھنے پر مجبور کرتی رہتی ہے ۔مگر آخر میں پیاز یعنی مضمون کے ختم ہونے پر کچھ بھی ہاتھ نہیں آ تا سوائے ایک ناگوار بوکے جو پیاز چھیلنے کے بعد انگلیوں سے چمٹ جاتی ہے ۔ تاہم لگتا ہے کہ جس چیز کی جستجو تھی وہ تو نہ ملی ،بلکہ کچھ بھی نہ ملا مگر اس بہانے سے آ پ نے دنیا دیکھ لی۔ اپنی ہٹ دھرمی کے سبب،بار بار روکنے کے باوجود جس نگارش کوآ پ مسلسل  پڑھے  چلے جارہے ہیں ،اس سے آ پ کو وہ احساس بھی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ اس میں کچھ ہے ہی نہیں۔ سوائے روک ٹوک کے جو ہمارے اکثر مضامین میں ہوا کرتی ہے،مگر وہاں کچھ تو ہوتا ہے جس سے روکا جاتا ہے تاکہ آ پ اپنے قدم روک لیں اور دنیا کا یا کم از کم آ پ ہی کا بھلا ہو ،یہاںآ پ کو کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئے گی جسے اپنانے سے آ پ کو خبر دار کیاجارہا ہے ،سوائے ایک مضمون کے جس کے مطالعے سے آ پ کو منع کیا جارہا ہے۔  خیر اب ہم کیا کہیں! 
آ پ پڑھتے کیوں ہیں ؟ اس سوال پر کبھی آ پ نے غور کیا ہے ؟ (  بعض لوگ اتنا پڑھتے ہیں کہ ان کے پاس غور کر نے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔یعنی کتابیں انھیں یہ موقع ہی نہیں دیتیں،بس خود سے چمٹائے رکھتی ہیں اور خود کو پڑھوائے چلی جاتی ہیں )
کچھ لوگ یہ کارِ خیر اس لیے انجام دیتے ہیں تاکہ با خبر رہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے ،جب سے اس کے بنانے والے نے ’ہوجا ‘کہہ کر اس پرپھونک ماری ہے یہاں ہر لمحہ کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا ہے۔ کچھ لوگ بامقصد زندگی گزارنے کے عادی ہیں وہ بنئے کا پوت بن گئے ہیں جو بغیر کچھ دیکھے کہیں گرتا بھی نہیں اس قسم کے صاحبان صرف وہ کتابیں پڑھتے ہیں جن کی افادیت اظہر من الشمس ہے مثلاً بینک پاس بک۔ اب دنیا میں ایسے لوگوں کی آ بادی میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے ۔ علم و اد ب ،فلسفہ ،نفسیات وغیرہ کی کتابیں ان کے قیمتی معیار پر پوری نہیں اترتیں ۔ بعض لوگ صرف امتحان کی ان کتابوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں جن کی مدد سے انھیں ڈگر ی حاصل کر نی ہے اس کے بعد وہ ان کتابوں کو کباڑی کے ہاتھوں بیچ دیتے ہیں ۔
عام موضوعات کی کتابیں بھی عام آ دمی کی طرح بے وقعت ہو کر رہ گئی ہیں ۔ انھیں کوئی پوچھتا نہیں ۔ علم تو علم ہے کہیں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔میرے دل میں آ پ کی بڑی عزت ہے کہ آ پ بلا امتیاز کسی بھی قسم کی تحریر پڑھ جاتے ہیں ۔اب کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ ۔تاہم  ان دنوں شائع ہونے والی سیکڑوں کتابوں کی طرح میں آ پ کو دھوکہ نہیں دینا چاہتا۔ ان کتابوں کے مصنفین وہ بازیگر ہیں جو قارئین کو کھلا دھوکہ دیتے ہیں ۔وہ نہ آپ کی اخلاقی یا روحانی تربیت کرتے ہیں ،نہ حفاظت، نہ ہی کسی صنف میں طبع آ زمائی کر کے اس کی آ بیاری کرتے ہیں ، وہ صرف اس لیے لکھتے ہیں کہ انھیں ادبی دنیا میں ادیب اور قلم کار بن کر ابھر نا اور شہرت پانا ہے۔ میراایسا کوئی ارادہ نہیں ہے نہ ہی میں ادب میں کوئی نئی ادبی صنف ایجاد کر کے اس ایجادِ بندہ کے زور پر مشہور ہونا چاہتا ہوں ۔میں تو بس یونہی آ پ کا ظرف،جذبہ فرمانبرداری اور مطالعہ پر عمل درآ مد کی صلاحیت آ زمانے کے لیے اور اپنے صبر کا امتحان لینے کے لیے کاغذ قلم لے کر بیٹھ گیا ہوں ۔ 
ہاں، تو بتائیے آ پ مطالعہ کیوں کرتے ہیں ؟ علم حاصل کرنے کے لیے؟  دنیا ، کائنات ، زندگی، لوگو ں اور چیزوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کیلئے؟ یعنی اپنی معلومات میںاضافہ کر نے کے  لئے ؟ ( تاکہ لوگوں پر رعب ڈالا جاسکے اورانھیں نیچا دکھایا جاسکے ،بعض لو گ تو صرف اتنا ہی اور ویسا ہی پڑھتے ہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہو جائے)  آ پ کے مطالعے کا مقصد خود کو بہتر بنانا ، سنوارنا،اچھا انسان بننا ،دوسروں کو پڑھا کر ان مقاصد کا حاصل کرنا ہے یا بس ٹائم پاس کرنا ؟ آ جکل وقت گزاری کااعلیٰ ترین آ لہ سوشل میڈیا ہے اسی لئے لوگ فیس بک کو عام کتابوں پر ترجیح دیتے ہیں ۔ کتابوں میںعموماً کتابیں ہی ہوا کرتی ہیں۔( اور کبھی کبھی وہ بھی نہیں ہوتیں ) جبکہ فیس بک پری چہرہ اور بے پر کے چہروں سے بھرا پڑا ہے ۔ وہاں یہ مسئلہ بھی نہیں کہ،’ تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں ۔‘اس کے علاوہ بھی وہاں او ر بہت سے مواقع موجود ہیں ۔اس کے بر عکس کتابیں چار دیواری میںبند محض ایک دقیانوسی قسم کی چیز بن کر رہ گئی ہیں ۔ اب کتابوں کے دیوانے بہت کم رہ گئے ہیں اور جو ہیں وہ دیوانے ہی سمجھے جاتے ہیں ۔بعض لوگ کتابیں اور رسائل صرف اس لئے خرید تے ہیں تاکہ انھیںڈرائنگ روم میں سجاکر اپنے شوقِ مطالعہ اور دانشوری کااعلان کیاجائے اور یہاں ایسے فنکار بھی موجود ہیں جو خریدنے اور پڑھنے کی زحمت اٹھائے بغیر بھی یہ ڈھنڈورا پیٹ لیتے ہیں ۔ دیکھئے ،نا ... نا کہنے کے باوجود آ پ یہاں تک چلے آ ئے ۔کیوں پڑھ رہے ہیں آپ ! کیا آ پ بھی دنیا کے ان  بے شمار لوگوں میں سے ہیں جو بے سوچے سمجھے کام کرتے چلے جاتے ہیں ۔کتابیں چھوڑئیے ، وہ بندگانِ خدا تو زندگی بھی ایسے گزارتے ہیں کہ بس جینا ہے ، جی رہے ہیں۔ انھیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا ہے کہ کیا پڑ ھنا ہے اور کیوں ؟ ڈگری ملنے کے بعد پھر کوئی ان کی طرف ایک نگاہِ غلط انداز ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا۔ بلا وجہ کتاب یا رسائل خرید نا اور پھر انھیں سینت سنبھال کر رکھنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ ڈگری مل جائے تو لوگ  (ایک ہی سانس میں ) سب سے پہلے وہ کتابیں اور ٹھنڈی سانس چھوڑتے ہیں۔
 انہیں ٹھکانے لگانے کے بعد وہ نوکری حاصل کر نے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں ۔ دنیا  پڑھے لکھے لوگوں سے بھری پڑی ہے جن میں سے بیشتر اس طرح زندگی گزار رہے ہیں  جیسے ان کے لیے کالا اکشر بھینس برابر ہو۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود انھیں انسانیت ، ادب، تہذیب اور شائستگی سے کوئی لگائو نہیں بلکہ خد ا واسطے کا بیرہے ۔واشنگ مشین سے نکلے ہوئے کپڑے یقیناً صاف ستھرے ہوسکتے ہیں،ہمارے تعلیمی نظام کے اگلے ہوئے افراد کا انسان ہونا ضروری نہیں ہے ۔ غالبؔ نے اسی موقع کے لیے کہا تھا ۔آ دمی کو بھی میسر نہیں انسا ں ہونا ۔آ خر اتنا پڑھ لکھ کر کیا ہوا۔ اسی لیے یہ عرض ہے کہ آ پ جو اس مضمون کو صحیفہ سمجھ کر پڑھنے پر مصر ہیں ، اگر اس سے دستبردار ہوجائیں تو قیامت نہیں آ جائے گی ۔ قیامت سے یاد آ یا کہ آ سمانی کتابوں سے حروف کا اڑجانا بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۔ان دنوں یہ حال ہے زمینی کتابوں میں الفاظ کی بھر مار ہے مگرمعانی مائلِ پر واز ہیں ،لکھنے والے بے پر اڑانے لگے ہیں ۔ یوں بھی ہر تحریر ادبِ عالیہ نہیں ہوتی اور جو آپ کے پیش ِ نظر ہے وہ تو قطعی نہیں ہے ۔ اس لئے براہ ِ کرم اس سے صرفِ نظر کریں ہمارے علم و ادب کا بڑا حصہ اسی لائق ہے اور یہ مضمون بھی اس میں شامل ہے ۔  یہ مضمون اگر آ پ پہلی ہی تنبیہ پر چھوڑ دیتے تو میری خواہش ہوتی کہ آ پ کے گلے میں فر مانبر داری کا ایک خوبصورت سا تمغہ ڈال دوں مگر دنیا میں تمغہ ، انعام ، اعزاز ، معاوضہ وغیرہ  یہ چیزیں ہی سب کچھ نہیں ہیں، اسی لئے مخلصین ان کی تمنا کے بغیر بھی بہت سے ہفت خواںطے کرتے ہیں۔ یہی مہم بذاتِ خود اس مہم جوئی کا حاصل ہوتی ہے ۔ کبھی کشور کشائی ہمیںآ مادہ ِسفر کرتی ہے اور کبھی کوئی سر کشی در در بھٹکاتی ہے ۔کچھ نہ ملنے میں بھی بہت کچھ مل جاتا ہے جو اس سفرکا حاصل ہوا کرتا ہے،کچھ نہیں تو عبرت یا تجربہ ہی سہی ۔ افسوس!  اس شوق مطالعہ سے آ پ کو وہ بھی حاصل نہ ہوا ۔یقین آ گیا؟میں غلط نہ تھا۔ آ خر منع کر نے کے باوجود آ پ نے کمالِ ڈھٹائی کے ساتھ یہ پورا مضمون پڑ ھ ڈالا ۔خیر کیا کریں ،یہ پوری دنیا ہی چھوٹے بچوں کا ایک ایسا گھر ہے جہاں لاکھ روکنے ٹوکنے کے باوجود بچے وہ سب کر گزرتے ہیں جو ان کے جی میں آ تی ہے کہ من مانی کرنے کا لطف ہی کچھ اور ہے ۔کچھ ملے نہ ملے ،دل کو چین تو مل ہی جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK