Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر جانبدارانہ صحافت کی تائید ہے : نیوز کلک ٹیم

Updated: June 17, 2026, 9:32 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ، جس کی تفصیلی رپورٹ مورخہ ۱۲؍ جون کے انقلاب میں شائع کی گئی تھی، آنے کے بعد یہ جاننا اہم ہے کہ اس پر خود ’’نیوز کلک‘‘ کی ٹیم کا کیا کہنا ہے۔

Delhi High Court.Photo:INN
دہلی ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ، جس کی تفصیلی رپورٹ مورخہ ۱۲؍ جون کے انقلاب میں شائع کی گئی تھی، آنے کے بعد یہ جاننا اہم ہے کہ اس پر خود ’’نیوز کلک‘‘ کی ٹیم کا کیا کہنا ہے۔
مگر اس سے پہلے نہایت اختصار کے ساتھ آئیے یہ جان لیتے ہیں کہ نیوز کلک کا کیس کیا تھا: یہ ۲۰۰۹ء میں قائم کیا گیا نیوز پورٹل ہے جس کے خلاف ۱۷؍ اگست ۲۰۲۳ء کو دہشت گردانہ سرگرمیوں، اس نوع کی سرگرمیوں کی مالی مدد اور مجرمانہ سازش کے الزام (منی لانڈرنگ) میں یو اے پی اے کے تحت کیس درج کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ اس نیوز پورٹل نے ۳۸؍ کروڑ روپے کا غیر ملکی سرمایہ حاصل کیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا کہنا تھا کہ جو سرمایہ اس پورٹل کو ملا وہ چینی کمپنیوں کی جانب سے ملا تھا تاکہ پورٹل پر چین کے مفادات کو اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے۔ اس ادارہ نے اپریل ۲۰۱۸ء میں ۹ء۶؍ کروڑ روپے ایف ڈی آئی کے بطور ورلڈ وائد میڈیا ہولڈنگس ایل ایل سی سے حاصل کئے تھے۔ 
یہ بھی کہا گیا تھا کہ ۲۰۱۸ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان نیوز کلک کو ۲۸؍ کروڑ روپے ، دو امریکی کمپنیوں سے ملے تھے۔ اکتوبر ۲۳ء میں اس ادارہ کے بانی پربیر پُرکائستھ اور اُن کے ایک ساتھی (امیت چکرورتی، ایچ آر ہیڈ) کو گرفتار کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں جن ۳۷؍ مردوں اور ۹؍ خواتین سے باز پرس کی گئی اُن میں کئی نامور صحافی شامل تھے مثلاً ابھیسار شرما، پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا، اربندیو چکرورتی، اُرملیش بھاشا سنگھ، سنجے راجورا اور سہیل ہاشمی۔ 
 
 
 
دہلی ہائی کورٹ سے ملنے والی راحت پر نیوز کلک کی ٹیم کا کہنا ہے کہ: ’’دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ ہمارے رُخ کو صحیح ثابت کرتا ہے جو ملک کی آزاد صحافت کی حمایت میں ہے۔ عدالت نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر صاف اور واضح الفاظ میں کہا کہ ای ڈی (انفورسمنٹ ٹائریکٹوریٹ) کی کارروائی نہ صرف بدنیتی پر مبنی تھی بلکہ عرضی گزاروں کی آزاد اور غیر جانبدارانہ صحافت کے خلاف اختیارات کا من مانا حملہ اور ان کا بے جا استعمال تھا۔ مجرمانہ سازش کے محض کھوکھلے دعوؤں کے علاوہ کسی بھی طرح کے قابل اعتراض الزام کا اشارہ تک اس کیس میں نہیں تھا۔ نیوزکلک کی ٹیم نے عدالت کے اس تبصرہ کو بھی نقل کیا کہ دہلی پولیس کی اکنامک آفینس برانچ کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر کو جاری رکھنا قانونی عمل کا غلط استعمال ہوگا۔ 
بقول نیوز کلک ٹیم، جو فیصلہ آیا اُس سے عدالتوں پر ہمارا اعتماد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ ہم اپنے سابق ملازمین اور معاونین، قارئین، وکلاء اور دوستوں نیز بہی خواہوں کے ساتھ ساتھ اُن تمام صحافیوں اور عام شہریوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جو کئی برسوں سے ہمارے ساتھ یگانگت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ نیوز کلک کے خلاف چل رہی دیگر کارروائیاں بھی سلجھ جائینگی اور صحافتی آزادی کی ایک بار پھر توثیق ہوگی۔ نیوز کلک نےاظہار تشکر کا یہ پیغام اپنی ویب سائٹ پر ۱۱؍ جون کو پوسٹ کیا ہے۔ 
 
 
یاد رہے کہ نیوز کلک کیس میں اس کے بانی ایڈیٹر اِن چیف پربیر پُرکائستھ (عمر ۷۳؍ سال) کو ۳؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ کم و بیش ۲۲۵؍ دن (۷؍ ماہ سے زیادہ عرصہ) جیل میں رہے۔ ۱۵؍ مئی ۲۴ء کو سپریم کورٹ نے ’’گرفتاری کو قانون کی نگاہ میں غلط‘‘ قرار دیتے ہوئے اُنہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK