سونے کا ۲؍کلو وزنی گدا، زیورات اور طلائی اینٹوںکے غائب ہونے کا بھی دعویٰ، ۵۰؍ افراد سے پوچھ تاچھ۔۔
رام مندر۔ تصویر:آئی این این
ایودھیا کے رام مندر میں کروڑوں کا چندہ چوری ہونےاور اس ضمن میں ۳؍ تحریری شکایتوں کے باوجود منگل کو بھی اس خبر کے لکھے جانے تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی جس پر اکھلیش یادو تنقید کرتےہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ ’’بھگوان کی ایف آئی آر بہت بڑی ہوگی۔‘‘ تحریری شکایتیں دھرم سینا، کانگریس اور کرنی سینا نے دی ہیں۔ اس بیچ سونے کا ۲؍ کلو وزنی گدا، زیورات اور سیکڑوں طلائی اینٹوں کے بھی غائب ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یوگی سرکار نےچندہ چوری کا انکشاف ہونے کے بعد جانچ کیلئے جو ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے وہ منگل کی صبح تقریباً ۱۱؍ بجے دوبارہ مندر احاطہ میں پہنچی۔ ٹیم کے ساتھ ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کپتان بھی تھے۔ جانچ ٹیم چندہ سے وابستہ تقریباً ۵۰؍ ملازمین سے الگ الگ پوچھ تاچھ کر رہی ہے، جن میں ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے کے ڈرائیور اور تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نرپیندر مشرا کے بھتیجے کے نام بھی شامل ہیں۔
ایف آئی آر درج نہ کئے جانے پر تنقیدوں کا جواب دیتےہوئے پولیس نے صفائی پیش کی ہے کہ فی الحال معاملہ کی ایس آئی ٹی جانچ جاری ہے، جانچ مکمل ہونے کے بعد آئندہ کارروائی کی جائے گی۔ ایودھیا کے رہائشی اور دھرم سینا کے صدر سنتوش دوبے نے اپنی شکایت میں ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے، انل کمار مشرا، گوپال رائے اور چمپت رائے کے ڈرائیور رام شنکر یادو عرف ٹنو کو چندہ چوری کا اصل ذمہ دار قرار دیا ہے۔
اس بیچ ایس آئی ٹی نےمنگل کودوسرے روز چندہ باکس کی گنتی اور نگرانی سے وابستہ ۵۰؍سے زائد ملازمین کو الگ الگ بلاکر پوچھ گچھ کی۔ یہ وہ ملازمین ہیں جنہیں ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے چندہ گننے اور اس کی نگرانی کے لئے مامور کیا تھا۔ گزشتہ روز ایس آئی ٹی نے تقریباً ۷؍ گھنٹے تک مندر سے وابستہ ۴۵؍ ملازمین سے الگ الگ پوچھ گچھ کی تھی۔ ذرائع کےمطابق ایس آئی ٹی منگل کی رات مندر احاطہ کا معائنہ بھی کر سکتی ہے۔