Inquilab Logo Happiest Places to Work

فی الحال جھیلوں میں صرف ۴۰ ؍دن کا پانی بچا ہوا ہے

Updated: June 17, 2026, 9:04 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

پانی بچانے کیلئے بی ایم سی کی احتیاطی تدابیر،سوئمنگ پول اور تعمیراتی پروجیکٹ کیلئے پانی سپلائی بند۔

The BMC Has Completely Closed The Water Supply To The Swimming Pool As A Precautionary Measure.Photo:INN
بی ایم سی نے احتیاطی تدبیر کے طور پرسوئمنگ پول کی پانی سپلائی پوری طرح بند کر دی ہے۔ تصویر:آئی این این
ممبئی کو پینے کا پانی سپلائی کرنے والی جھیلوں میں محض ۴۰؍ دن کا پانی بچا ہے اور اب تک نہ تو مانسون کی ابتدا ہوئی ہے اور نہ ہی فوری طور پر بارش شروع ہونے کے امکانات ہیں اس لئے دستیاب پانی کو طویل مدت تک استعمال کرنے کیلئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے منگل کو احتیاطی تدابیر کا اعلان کیا ہے جن میں سوئمنگ پول اور تعمیراتی پروجیکٹوں کیلئے پانی سپلائی مکمل طور پر بند کرنا شامل ہے۔ 
منگل کو ممبئی کو پینے کا پانی سپلائی کرنے والی ساتوں جھیلوں میں مجموعی طور پر پانی کا ذخیرہ صرف۱۰ء۳۵؍ فیصد تھا۔
بی ایم سی کے آبی ذخائر کے محکمہ نے پانی بچانے کیلئے جو نئی پابندیاں تجویز کیں ان پر آج، بدھ( ۱۷؍ جون ۲۰۲۶ء )سے عمل درآمد شروع ہوگیا ہے البتہ شہریوں کیلئے یہ راحت کی خبر ہے کہ دیگر اقدامات کی وجہ سے عوام کیلئے ۱۵ ؍مئی سے شروع کی گئی ۱۰ ؍فیصد پانی کٹوتی میں فی الحال مزید اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ 
 
 
جو نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان کے تحت شہر و مضافات کے تمام سوئمنگ پول اور تعمیراتی پروجیکٹ پر پانی سپلائی کو عارضی طور پر منقطع کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جب تک جھیلوں میں پانی کی سطح اطمینان بخش حد کو نہیں پہنچ جاتیں تب تک نہ تو ان کی سپلائی بحال کی جائے گی اور نہ ہی نئے تعمیراتی پروجیکٹ کیلئے پانی سپلائی کو منظوری دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایریئٹڈ، پیکنگ اور بوتلوں میں پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے پینے کے پانی کی ضرورت کو کمپنی کے پانی سے پورا کریں۔ 
بدھ سے تمام صنعتی، تجارتی اداروں اور اسپورٹس کلبوں میں ۲۰ ؍فیصد پانی کٹوتی شروع کردی گئی ہے۔ 
پینے کے پانی کی شدید قلت کے پیش نظر بی ایم سی نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر کہیں بھی کوئی بی ایم سی کے ذریعہ سپلائی شدہ پینے کے پانی کا غلط استعمال کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ 
 
 
اس کے علاوہ عوامی بیت الخلاء کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں کو زیادہ سے زیادہ ٹینکر اور بور ویل کا پانی استعمال کرکے پینے کے پانی کی بچت کرنے کو کہا گیا ہے۔ گاڑیاں دھونے، باغات میں درختوں کو پانی پہنچانے، سڑکیں وغیرہ دھونے کیلئے بھی کنویں اور بورویل کا پانی استعمال کرنے کو کہا گیا ہے۔ سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے، آر سی ایف، ایچ پی سی ایل، بی پی سی ایل، نیوی، ایم آئی ڈی سی،بی پی ٹی جیسے اداروں کو قلابہ اور دیگر ’سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس‘ (ایس ٹی پی) سے ٹریٹ شدہ پانی کو ثانوی استعمال اور آپریشنل استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دہائی میں اس سے قبل ممبئی میں دو مرتبہ مانسون تاخیر سے شروع ہوچکا ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۳ ءمیں ۲۵؍ جون کو مانسون شروع ہونے کا اعلان کیا گیا تھا اور ۲۰۲۶ء  میںبھی اب تک مانسون کی آمد کا انتظار ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK