اردو کارواں کے عشرۂ اردو کے اختتامی پروگرام میں منعقدہ مذاکرہ ’’مہاراشٹر میں اردو کی ترقی میں مراٹھی معاشرت کا کردار‘‘ میں شرکاء کا اظہار خیال۔
اردو کارواں کے روح رواں فریداحمد خان خطاب کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
عروس البلاد ممبئی اور مہاراشٹر میں اردو کی ترویج و ترقی اور اشاعت کے لئے تن من دھن سے سرگرم ادبی و سماجی تنظیم ’اردو کارواں‘ کے زیر اہتمام عشرۂ اردو کی اختتامی و تہنیتی تقریب مولانا محمد علی جوہر ہال، خلافت ہاؤس، بائیکلہ میں نہایت وقار اور شاندار طریقے سے منعقد ہوئی۔ تقریباً دس ۱۰؍ دنوں تک جاری رہنے والےپروگراموں میں شہر و مضافات کے مختلف علاقوں کے اسکولوں اور کالجوں کے سیکڑوں طلبہ نے حصہ لیا اور اردو کے اس انوکھے اور شاندار جشن میں اپنی شرکت درج کروائی ۔ اس عشرہ کا آغاز جتنا شاندار ہوا تھا اس کا اختتام بھی اتنا ہی دل نشیں اوریادگاررہا۔ اختتامی تقریب میں محبان اردو ، اساتذہ، ادباء، سماجی رہنما اور مختلف کالجوں کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کی صدارت آل انڈیا خلافت کمیٹی کے چیئرمین، سینئر صحافی اور مدیر روزنامہ ہندوستان سرفراز آرزو نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی فعال اور سرگرم رکن اسمبلی رئیس قاسم شیخ تھے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے کارگزار صدر سید حسین اختر اور اقراء ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں کے روح رواں عبدالکریم سالار نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ ڈاکٹر مسرت فردوس اور اورنگ آباد سے تشریف لائےاردو کارواں کے بانی رکن شیخ محمد ابرار مہمانانِ اعزازی تھے۔ تقریب کے پہلے سیشن میں ایک نہایت اہم موضوع ’’مہاراشٹر میں اردو کی ترقی میں مراٹھی معاشرت کا کردار‘‘پر مذاکرہ ہوا۔ اس موضوع کی اہمیت مہاراشٹر کے پس منظر میں کافی زیادہ ہے کیوں کہ یہاں اردو زبان اور تہذیب پوری آب و تاب کے ساتھ پھل پھول رہی ہے اور اس میں اہل مہاراشٹر کی فراخدلی اور کشادہ قلبی کا بہت اہم رول ہے۔ اسے محسوس کرتے ہوئے صدرِ اردو کارواں فرید احمد خان نے اس موضوع کو منتخب کیا اور مذاکرہ کے اپنے افتتاحی خطاب میں کافی اہم باتیں کہیں۔ انہوں نے ۲؍صدیوں پر محیط لسانی و تہذیبی ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مراٹھی معاشرہ نے ہمیشہ اردو کے فروغ میں معاون، مثبت اور برادرانہ کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے برملا یہ اعتراف کیا کہ شمالی ہند خصوصاً یوپی اور بہار سے اردو کو ختم کرنے کی جتنی منظم کوششیں ہوئیں ان کی وجہ سے وہاں پرائمری اسکولوں کی سطح پر اردو نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں مہاراشٹر میں پرائمری سطح سے لے کر ہائی اسکول اورپی ایچ ڈی تک اردو زبان کا مستقبل نہایت تابناک ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مہاراشٹرمیں اہل مراٹھی نے اردو کے تئیں اتنی گرمجوشی کا مظاہرہ اس لئے کیا ہے کیوں کہ مراٹھی میں سیکڑوں الفاظ فارسی سے آئے ہیں اور جوں کے توں استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی لئے جب وہ اردو سنتے ہیں تو انہیں یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان کی اپنی زبان کے الفاظ ہیں۔ اسی لئے وہ اردو کے تئیں کشادہ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
اورنگ آباد سے تشریف لائیںپروفیسر ڈاکٹر مسرت فردوس نے اس مذاکرے میں شامل ہوتے ہوئے دکن کی تاریخ اور اردو مراٹھی کےلسانی و تہذیبی رشتے پر گفتگو کی۔ انہوں نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کے مقالے کے حوالے سے کہا کہ دونوں ہی زبانوں کا تقابلی جائزہ لینا اب وقت کی ضرورت ہے۔ مراٹھی زبان پر فارسی کے اثرات کی وجہ سے اردو کے تئیں اہل مراٹھی کے دلوں میں نرم گوشہ ہے۔ اب یہ اردو والوں کی ذمہ داری ہے کہ، آج کے ماحول میں جب نفرتوں کے بیج بوئے جارہے ہیں، وہ مراٹھی ادباء و شعراء کی تخلیقات کو اردو کے قالب میں ڈھالیں اور مراٹھی ادباء کو قائل کریں کہ وہ بھی اردو کے فن پاروں کا مراٹھی میں ترجمہ کریں ۔ اس سے دونوں جانب کی غلط فہمیاں دور ہوں گی اور دو زبانوں کے درمیان قائم رشتہ مزید مضبوط ہو گا۔ ڈاکٹر مسرت فردوس نے کہا کہ اہل مراٹھی بہت کھلے ذہن کے ساتھ دیگر زبانوںکے اثرات قبول کرتے ہیں ۔
اردو اکیڈمی کے کارگزار صدر سید حسین اختر نےاپنے خطاب میں اردو اور مراٹھی کے تعلق کو مہاراشٹر کی گنگا جمنی تہذیب کا فطری اظہار قرار دیا۔ انہوں نےفرید احمد خان کو مبارکباد دی جنہوں نے اس اہم موضوع پر مذاکرہ کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جب دو زبانوں اور دو معاشرتوں کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اس طرح کے مذاکرے اہم پُل کا کام کرسکتے ہیں۔ سید حسین اختر نے اردو کے فروغ کیلئے حکومتی سطح پر کئے جارہے اقدامات کا بھی ذکر کیا اور ہر طرح کی مدد کا وعدہ بھی کیا۔
معروف ماہر تعلیم اور تعلیمی شخصیت عبدالکریم سالار نے اردو کو ہندوستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ زبان صرف ہندوستان میں ۵۰؍ کروڑ سے زائد لوگ بول اور سمجھ لیتے ہیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت بھی کی کہ اردو اور ہندی کا مرکب جسے ہندوستانی بھی کہتے ہیں ، یہ زبان بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ انہوں نےکہا کہ اردو اور مراٹھی کا موازنہ بہت مشکل ہے کیوں کہ ایک زبان ’بہت سافٹ ‘ ہے تو دوسری کا انداز’ تحکمانہ ‘ہے۔ ایسے میں اگر دونوں کا ملن ہوا ہے اور تقریباً ۲؍ صدیوں سے یہ جاری ہے تو پھر کوئی تو بات ہے ۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے بنی ہیں۔ عبد الکریم سالار نے اہل اردو سے اپیل کی کہ جس طرح سے اہل مراٹھی نے اردو اور فارسی کو اپنایا ہے اور اس کے کئی الفاظ کو جوں کا توں استعمال کررہے ہیں اسی طرح اہل اردو بھی مراٹھی سیکھیں اور اہل زبان کی طرح مراٹھی بولنے کی کوشش کریں۔اپنے خطاب میں سالار صاحب نے معروف محقق ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط کی شہرہ آفاق تحقیق ’’اردو مراٹھی کے تہذیبی رشتے‘‘ کا بھی ذکر کیا۔
سینئر صحافی سرفراز آرزو نے اپنے صدارتی کلمات میں اس موضوع کی عصری اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ اہل مہاراشٹر نے کس طرح سے اردو کو اپنایا ہے اس کی واضح مثال ہمارے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس ہیں، جن کے نام میں اردو اور فارسی دونوں ہے۔ انہوں نے ’فرنویس ‘ کا مطلب بھی واضح کیا اور کہا کہ مہاراشٹر میں اردو کی پذیرائی کی اس سے بہتر مثال کیا ہو گی۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس ورثے کو سنبھالیں۔
رکن اسمبلی رئیس شیخ نے مختصر لیکن جامع خطاب میںدونوں زبانوں کی مشترکہ شناخت کو ریاست کی ثقافتی مضبوطی کا ستون قرار دیا اور کہا کہ نہ اہل مہاراشٹر متعصب ہیں اور نہ مراٹھی زبان ایسی ہے۔ مہاراشٹر میں تو اردو کو دوسرا گھر دیا گیا اور اسے اس طرح سے اپنایا گیا کہ دیگر کسی بھی ریاست میں اردو کا اتنا بڑا نفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے اہل اردو سے اپیل کی کہ وہ اردو کے ساتھ ساتھ مراٹھی بھی سیکھیں اورمراٹھی والوں کے دِل جیتنے کی کوشش کریں۔ اس مذاکرہ کی نظامت نوجوان شاعر شعیب اِبجی نے بحسن و خوبی انجام دی۔ تقریب کے اختتام پر صدرِ اردو کارواں فرید احمد خان نے یہ بتایا کہ ان کی تنظیم ہر سال ۲۷؍ فروری کو ’مراٹھی بھاشا دوس ‘ بھی مناتی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ ۹؍ سال سے جاری ہے۔
اس سے قبل اردو کارواں کے عشرہ ٔاردو کے تحت ۱۰؍ دن میں کافی اہم سیشن منعقد کئے گئے۔ پہلے دن ’’اردو زبان کی ترقی اور بقا : تجاویز اور نفاذ ‘‘ کے عنوان سے مذاکرہ منعقد کیا گیا جس میں ڈاکٹر اقبال برقی ،بیگم ریحانہ احمد اورڈاکٹر مجاہد ندوی نے مدلل گفتگو کی اور کئی تجاویز اور ان کے نفاذ کے طریقے سجھائے۔ دوسرے دن مقابلۂ مقالہ خوانی ہوا جس میں ۵؍ عنوانات پرمقالے پیش کئے گئے۔ تیسرے دن ٹی ای ٹی گائیڈنس ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جبکہ چوتھے دن مہاراشٹر کالج کے اشتراک سے افسانچہ گوئی کا مقابلہ ہوا۔ پانچویں دن ’’کتاب سے اسکرین تک ،مطالعے کے بدلتے ہوئے رجحانات ‘‘ پر گفتگو ہوئی ۔ چھٹے دن بیت بازی کا مقابلہ منعقد کیا گیا جبکہ ساتویں دن مشاعرہ (ایک شام احمد وصی کے نام ) کا انعقاد ہوا۔ آٹھویںدن غزل سرائی کا مقابلہ ہوا جبکہ نویںدن بی ایم سی اسکولوں کے نہم اور دہم کے طلبہ کا تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا۔ ان تمام مقابلوں کے انعامات آخری دن کے دوسرے سیشن میں تقسیم کئے گئے۔