• Mon, 12 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان-جرمنی نے تعاون بڑھانے کے لیے چھ شعبوں میں مفاہمت ناموں پر دستخط کئے

Updated: January 12, 2026, 7:28 PM IST | Rajkot

ہندوستان اور جرمنی نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے پیر کو یہاں ٹیکنالوجی، روایتی ادویات اور قابل تجدید توانائی سمیت چھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے اور تقریباً ۲۰؍ شعبوں میں تعاون کا اعلان کیا۔ دورۂ ہند پر آئے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان یہاں ہونے والی بات چیت کے بعد ان سمجھوتوں پر دستخط کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا۔

Merz And PM Modi.Photo:PTI
مرز اور پی ایم مودی۔ تصیرپی ٹی آئی

ہندوستان اور جرمنی نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے پیر کو یہاں ٹیکنالوجی، روایتی ادویات اور قابل تجدید توانائی سمیت چھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے اور تقریباً ۲۰؍ شعبوں میں تعاون کا اعلان کیا۔ دورۂ ہند پر آئے جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان یہاں ہونے والی بات چیت کے بعد ان سمجھوتوں پر دستخط کے ساتھ  یہ اعلان کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:وجے ہزارے ٹرافی: کرناٹک نے وی جے ڈی میتھڈ کے تحت ممبئی کو ہرایا

دونوں ممالک نے اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایم او یو  پر دستخط کیے۔ یہ سمجھوتہ  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفینون ٹیکنالوجیز اے جی کے درمیان ہوا ہے۔ روایتی ادویات کے شعبے میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید، انڈیا اور شاریٹے یونیورسٹی، جرمنی کے درمیان دستخط کیے گئے۔

یہ بھی پڑھئے:چوٹ کے باعث واشنگٹن سندر باہر، آیوش بدونی ون ڈے ٹیم میں شامل

قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھارت پیٹرولیم اور نیچرل گیس ریگولیٹری بورڈ  کے لیے جرمن ٹیکنیکل اینڈ سائنٹیفک ایسوسی ایشن کے درمیان ایم اویوپر دستخط کیے گئے۔ نیز گرین ہائیڈروجن کے شعبے میں گرین امونیا کے لیے ہندستانی کمپنی اے ایم گرین اور جرمن کمپنی یونیپر گلوبل کموڈٹیز کے درمیان آف ٹیک معاہدہ کیا گیا۔  ثقافتی اور عوام سے عوام کے رابطوں کے شعبے میں، نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس، لوتھل اور جرمن میری ٹائم میوزیم - لیبنز انسٹی ٹیوٹ فار میری ٹائم ہسٹری، بریمر ہیون کے درمیان، لوتھل، گجرات میں نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج کمپلیکس کی ترقی کے لیے ایم اویو پر دستخط کیے گئے۔دونوں ممالک نے دوطرفہ دفاعی صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ ارادے کا اعلان کیا۔ تجارت اور معیشت کے شعبے میں، چیف ایگزیکٹیو آفیسرز (سی ای اوز) کے ایک فورم کے قیام کے ذریعے دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ ارادے کا اعلان کیا گیا، جو مشترکہ ہند- جرمنی اقتصادی اور سرمایہ کاری کمیٹی کا ایک لازمی حصہ ہوگا۔ اہم اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں، ہند-جرمنی سیمی کنڈکٹر ایکو سسٹم پارٹنرشپ، اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔
سائنس اور تحقیق کے میدان میں، بائیو اکانومی میں تحقیق اور ترقی نیز انڈیا-جرمنی سائنس اور ٹیکنالوجی سینٹر کی مدت کار کی توسیع کے بارے میں  مشترکہ تعاون پرمشترکہ اعلان کیا گیا۔ مزید برآں، ہائر ایجوکیشن کے لیے انڈیا-جرمنی روڈ میپ، ہیلتھ پروفیشنلز کی منصفانہ، اخلاقی اور پائیدار بھرتی کے لیے عالمی ہنر کی شراکت کے لیے فریم ورک کین شرائط، نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، حیدرآباد میں قابل تجدید توانائی کے لیے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس کا قیام، کھیلوں کے شعبے میں تعاون اور پوسٹل سروسز کے شعبے میں تعاون پر مشترکہ ارادے کا اعلان کیا گیا۔ دونوں ممالک نے محکمہ ڈاک، وزارت مواصلات اور ڈوئچے پوسٹ اے جی کے درمیان ایک لیٹر آف انٹینٹ کا بھی اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے جرمنی سے گزرنے والے ہندوستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری ٹرانزٹ، ٹریک ۵ء۱؍ فارن پالیسی اینڈ سکیورٹی ڈائیلاگ کا قیام، ہند-بحرالکاہل خطے پر دو طرفہ ڈائیلاگ میکانزم کا قیام، انڈیا-جرمنی ڈیجیٹل ڈائیلاگ (۲۰۲۷۔۲۰۲۵ء)  کے ایکشن پلان کو اپنانے، گرین اورپائیدار ترقیاتی شراکت داری کے تحت۲۴ء۱؍ ارب یورو کے نئے مالیاتی وعدوں، جن سے  قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، پی ایم ای بس سروس اور آب و ہوا سے لچکدار شہری بنیادی ڈھانچے سے متعلق ترجیحی منصوبوں کو حمایت  ملے گی، قابل تجدید توانائی میں عالمی سرمایہ کاری کے لیے انڈیا-جرمنی پلیٹ فارم کے تحت ایک بیٹری اسٹوریج ورکنگ گروپ کا آغاز، انڈیا-جرمنی سہ رخی ترقیاتی تعاون کے تحت گھانا، کیمرون اور  ملاوی میں پروجیکٹس کی توسیع اور احمد آباد میں جرمن قونصلیٹ کے افتتاح کا اعلان کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK